اہل بیت(ع) نیوز
ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، حضرت آیت اللہ العظمٰی امام خامنہ ای (دام ظلہ
العالی) نے آج [10 اکتوبر 2023ع کو] امام علی(ع) عسکری یونیورسٹی میں منعقدہ مسلح
افواج کی یونیورسٹیوں کے کیڈٹس کی مشترکہ گریجویشن تقریب میں شرکت کی۔
آپ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
سات اکتوبر کی بھونچال صہیونی ریاست کے لئے ایک ناقابل تلافی معلوماتی اور عسکری شکست ہے۔
سات اکتوبر کے واقعے کے بعد سے اب تک [ان چار دنوں میں] غاصب صہیونی ریاست کو فوجی لحاظ سے بھی اور معلوماتی [انٹیلیجنس] کے لحاظ سے ایسی بھاری شکست ہوئی ہے، جو قابل تلافی نہیں ہے اور اس خرابی کی مرمت ممکن نہیں ہے۔ شکست کا اعتراف سب نے کیا ہے لیکن میں اس نکتے پر زور دیتا ہوں کہ یہ شکست ناقابل تلافی ہے اور اس کی مرمت ممکن نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ تباہ کن بھونچال غاصب ریاست کی حکمرانی کے بعض بنیادی ستونوں کو ویران کر سکی ہے، اور ان ستونوں کی تعمیر نو آسانی سے ممکن نہیں ہے۔
ہم اس کاروائی کے زیرک اور باتدبیر منصوبہ سازوں اور فلسطینی نوجوانوں کی پیشانیوں اور بازوؤں کو چومتے ہیں؛ لیکن جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ عظیم کارنامہ غیر فلسطینیوں کا کام ہے، وہ وہ غلط حساب کتاب کا شکار ہوئے ہیں۔
صہیونیوں نے یہ مصیبت خود اپنے سر تھونپ لی ہے
صہیونیوں کی اپنی کارکردگی نے یہ مصیبت ان کے سر تھونپ لی ہے۔ جب مظالم اور جرائم حد سے گذر جائیں، جب درندگی انتہا کو پہنچتی ہے، تو طوفان کی توقع رکھنا چاہئے۔
فلسطینیوں کا دلیرانہ ـ نیز فداکارانہ ـ اقدام، غاصب دشمن کے برسوں سے جاری جرائم کا جواب تھا، وہ جرائم جن میں حالیہ مہینوں کے دوران اضافہ ہؤا تھا۔ اس مسئلے کا اصل قصوروار غاصب ریاست پر حکمران موجودہ حکومت ہے۔
اب جبکہ خبیث صہیونی دشمن کے منہ پر طمانچہ رسید ہؤا ہے، تو وہ مظلومیت کا ڈھونگ رچانے لگا ہے!
اب جبکہ خبیث اور ظالم دشمن کو طمانچہ رسید کیا گیا ہے، تو مظلومیت کی اداکاری کرنے لگا ہے۔ دوسرے بھی اس کی مدد کرتے ہیں، استکباری دنیا کے ذرائع ابلاغ اس کی مدد کر رہے ہیں، حالانکہ مظلومیت کی یہ اداکاری سو فیصد جعلی، جھوٹ اور حقیقت کے خلاف ہے۔ کیا صرف اس لئے کہ فلسطینی مجاہدین غزہ کے محاصرے سے نکلنے، اس محاصر سے چھٹکارا پانے، اور صہیونیوں کے فوجی اور غیر فوجی مراکز تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں، یہ غاصب دشمن مظلوم ہوگیا؟ جس قدر کہ یہ ریاست غاصب ہے، لیکن مظلوم ہرگز نہیں ہے، ظالم ہے، جارح ہے، جاہل ہے، ہرزہ سرا ہے، لیکن مظلم نہیں ہے، ظالم ہے۔ کوئی بھی اس دیو صفت عفریت کو مظلوم کردار میں نہیں بدل سکتا۔
غاصب ریاست نے مظلومیت کی اس اداکاری کو کو بہانہ بنایا ہے اس لئے کہ اپنے دہرے مظالم و جرائم کو جاری رکھ سکے۔:غزہ پر حملہ، لوگوں کے گھروں پر حملہ، نہتے شہریوں پر حملہ، غزہ کے عوام کا قتل عام اور اجتماعی کشت و خون۔ مظلومیت کی یہ اداکاری ایک بہانہ ہے اس لئے کہ پھر بھی اپنے جرائم میں کئی گنا اضافہ کر سکے۔ غاصب ریاست مظلوم بن کر اپنے جرائم کے لئے جواز پیش کرنا چاہئے۔ یہ بھی ایک غلط اندازہ ہے۔ غاصب ریاست کے سرغنے اور فیصلہ ساز اور اس کے حامی جان لے کہ یہی مسئلہ انہیں اس سے کہیں زیادہ بڑی مصیبت سے دوچار کرے گا۔ جان لیں کہ کہ ان مظالم کا رد عمل ان کے بدصورت رخسار پر اس سے کہیں زیادہ بڑا طمانچہ پڑنے کا سبب بنے گا۔
دلیر فلسطینی نوجوانوں کا عزم، جان سے گذرنے والے فلسطینیوں کا عزم ان جرائم کے نتیجے میں پختہ تر ہو جائے گا۔ وہ زمانہ گذر گیا جب کچھ لوگ آتے تھے تاکہ زبانی کلامی وعد و وعید اور ظالم کے ساتھ نشست و برخاست کے ذریعے فلسطینی میں اپنے لئے کوئی پوزيشن بنانے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ زمانہ گذر چکا ہے۔
آج فلسطینی عوام بیدار ہیں، فلسطینی نوجوان بیدار ہیں، فلسطینی منصوبہ ساز پوری مہارت کے ساتھ سرگرم عمل ہیں۔ چنانچہ دشمن کا یہ اندازہ غلط ہے کہ مثلا یہ تصور کریں کہ مظلومیت کی اداکاری کریں گے، تو اپنے مجرمانہ حملوں کو جاری رکھ سکیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110