اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ
ابنا ـ کے مطابق، "طوفان الاقصٰی" نے صہیونی فوج کو خوار و ذلیل کر دیا اور اس کے حامیوں کو خوفزدہ کر
دیا اور اس کے سازشی حامیوں کو اس ذلیل اور شکست خوردہ ریاست سے مایوس کر دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ صرف 300 فلسطینی مجاہدین ہی کافی تھے کہ ثابت ہوجائے کہ صہیونی ریاست حقیقتاً مکڑی کے جالے سے زیادہ سست اور کمزور ہے۔ یہ مجاہدین ـ سینیچر 7 اکتوبر 2023ع کو ـ غزہ کو صہیونیوں کی نوآباد بستیوں سے الگ کرنے والی سمارٹ الیکٹرانک حفاظتی دیواروں کو بجلی کی سی تیزی سے عبور کر گئے، پہلے مرحلے میں ہی 700 صہیونیوں کو ہلاک کر دیا اور ایک جرنیل اور کئی اعلٰی صہیونی افسروں سمیت 100 سے زائد صہیونیوں کو قیدی بنا کر لے گئے؛ اور 200 صہیونیوں کو زخمی کر دیا۔
ان ہی چند نوجوانوں نے نیتن یاہو کو فوری طور پر امریکی صدر جو بائیڈن سے رابطہ کرنے اور اس سے مدد مانگنے پر مجبور کر دیا۔ اس نے فوری طور پر طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کی بحیرہ روم کی طرف روانگی کا حکم دیا۔
نیتن یاہو نے لامحدود اور غیر مشروط امریکی حمایتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس بھاری تاریخی شکست پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ "اسرائیل جنگ کی حالت میں ہے" اس لئے کہ وہ تمام تر صہیونی اور امریکی وسائل کو غزہ کی مقاومت سے بدلہ لینے کے لئے بروئے کار لا سکے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اسی سلسلے میں، اس عظیم رسوائی پر پردہ ڈالنے کے لئے ایک "جھوٹ" کو شائع کیا کہ ایران جو حماس اور فلسطینی تحریکوں کی حمایت کرتا ہے، اس کاروائی میں بھی شریک ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے اقوام متحدہ میں اپنے دائمی مندوب کے ذریعے اس جھوٹ کا جواب دیا اور اعلان کیا کہ "صہیونی ریاست اپنی شکست کا جواز فراہم کرنے کی سعی کر رہی ہے"۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ امریکہ اور تمام مغربی ممالک، اس ریاست کی نجات کے لئے، وہ سب کچھ بلا ناغہ کرتے آئے ہیں، جو وہ کر سکے ہیں۔ چنانچہ یہ حقیقت بھی بالکل عیاں ہے کہ غاصب صہیونی ریاست کے بقاء اور حیات امریکہ اور مغرب کی امداد کی قرہون منت ہے؛ اور اس میں شک نہیں ہے کہ یہ ریاست امریکی اور مغربی امداد کے بغیر چند ہفتوں تک بھی قائم نہیں رہ سکتی۔
دنیا بھر کے متعدد مسلم اور غیر مسلم تجزیہ نگاروں نے بارہا اس حقیقت کی تصدیق کی ہے کہ "اسرائیل" نامی صہیونی-یہودی ریاست عالم اسلام کے قلب میں مغرب کا فوجی اڈہ ہے، اور اس کے سوا فلسطین میں یہودی وطن کے بارے میں ہونے والے تمام دعوے جھوٹ کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110