ترجمان وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ جہاں تک جے سی پی او اے کی بات ہے تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امریکہ غیر قانونی طور پر ایٹمی معاہدے سے نکل گیا اور یورپی ممالک بھی اپنے وعدوں پر عمل کرنے سے اجتناب کرتے رہے جس کی وجہ سے وہ ایٹمی معاہدے میں امریکہ کی غیر موجودگی سے ہونے والے نقصان کی تلافی کرنے میں ناکام رہے۔
ناصر کنعانی کا کہنا تھا کہ یورپ کے تین ملکوں نے بھی ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد میں کوتاہی کی اس لئے جتنی امریکہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے اتنی ہی ذمہ داری ان پر بھی عائد ہوتی ہے اور انہیں بھی اس کا جواب دینا چاہیے، لیکن اس کے باوجود وہ مدعی بنے ہیں اور ایران کے خلاف الزامات عائد کرکے پابندیاں لگا رہے ہیں جو پوری طرح سے غیر قانونی عمل ہے۔
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ یورپی ملکوں کو الزام تراشی کے بجائے اپنی کوتاہیوں کا جواب دینا چاہیے اور انہیں جان لینا چاہیے کہ ایران ، مناسب ، متوازن اور سنجیدہ رد عمل کا اپنا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ترجمان وزارت خارجہ نے اسی طرح کہا کہ صدر ایران آج رات سے کینیا ، یوگینڈا اور زیمبابوے کا دورہ شروع کریں گے ان دوروں کے دوران ایران اور ان ملکوں کے درمیان تعاون کے عمل میں نئی اور تیز رفتار ترقی ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242