عالمی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ
کے مطابق، سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے آج (ہفتہ 17 جون 2023ع) آیت
اللہ ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی۔ سید ابراہیم رئیسی نے اس موقع پر خطے
اور عالم اسلام کے دو اہم ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کا خیر مقدم کرتے ہوئے
ایام حج میں دنیا بھر کے مسلمانوں کی سرزمین وحی میں موجودگی کی طرف اشارہ کیا اور
کہا: اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان بات چیت اور باہمی تعاون مسلمین
کے عقائد، اور دو قوموں کے درمیان اچھی ہمسائیگی اور مفادات کا تقاضا ہے۔
انھوں نے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعاون کی ایرانی پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی طرف سے اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کے فروغ میں کسی قسم کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہے؛ اور آج تمام مسلم اقوام و ممالک تہران-ریاض تعلقات کے فروغ سے خوش ہیں اور مسلمانوں کے دشمن ـ خاص کر صہیونی ریاست کو ـ ایران اور سعودی عرب کے درمیان دو طرفہ تعاون کے فروغ سے تکلیف ہو رہی ہے۔
انھوں نے کہا: ہمارے خطے میں مختلف مسائل موجود ہیں جو امت مسلمہ کے لئے رنج و مصیبت کا سبب ہوئے ہیں، اور خطے کے ممالک کے درمیان بات چیت اور تعاون کے ذریعے ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے، اور اس کے لئے ہمیں اجنبی قوتوں کی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔
صدر رئیسی نے دہشت گردی اور تکفیری تنظیموں کے خلاف جدوجہد میں اسلامی جمہوریہ ایران کے کامیاب تجربے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس کامیاب جدوجہد کے نتائج اور تجربات ان مسائل میں شامل ہیں جو دو ملکوں کے درمیان تعاون کا محور بن سکتے ہیں۔
صدر رئیسی نے کہا: صہیونی ریاست صرف فلسطینی ہی کی دشمن نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے خطرہ ہے اور بعض ممالک کی طرف سے اس ریاست کے ساتھ تعلقات کی بحالی نہ صرف ان کی سلامتی کی ضامن نہیں بلکہ یہ امت مسلمہ کے عقیدے اور نظریئے سے بھی متصادم ہے۔
سعودی عرب ایران کے ساتھ تعلقات کو اسٹراٹیجک سطح پر پہنچانے کے لئے کوشاں ہے
سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے بھی اس ملاقات کے دوران، دو مسلم ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی اور دورہ تہران سے خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ہم ایک سنہری دور سے گذر رہے ہیں، اور ہمیں اس کا قدرداں ہونا چاہئے، اور اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعاون، فریقین کے لئے، اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کے اسباب فراہم کرتا ہے۔
انھوں نے کہا: سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے حکم دیا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ تعلقات کے فروغ کے لئے مختلف ورکنگ گروپس قائم کریں، اور ہماری کوشش ہے کہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو اسٹراٹیجک سطح پر پہنچا دیں اور آج اقتصادی، ترقیاتی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون کا فروغ تہران اور ریاض کے مشترکہ ایجنڈے میں شامل ہے۔
انھوں نے کہا: دنیا کے بعض ممالک کی خواہش ہے کہ ہمارا خطہ پر سکون اور ترقی یافتہ ہے، اور ہمیں یقین ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان موجودہ تعامل تمام اسلامی ممالک کی سطح پر بے انتہا حصولیابیوں کا سبب بنے گا اور یہ ضمانت ہے اس بات کی کوئی بھی بیرونی ملک ہمارے خطے میں مداخلت نہ کر سکے۔
سعودی وزیر خارجہ نے تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ کے ساتھ بات چیت کے بعد، مشترکہ اخباری کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ وہ صدر آیت اللہ رئیسی سے ملاقات کریں گے اور انہیں خادم الحرمین الشریفین سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کا سلام پہنچائیں گے۔
بن فرحان نے یہ بھی کہا تھا کہ سعودی بادشاہ نے صدر اسلامی جمہوریہ ایران کو دورہ سعودی عرب کی دعوت دی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اس دعوت کو قبول کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110