عالمی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراقی تجزیہ نگار ڈاکٹر علی فضل نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: دنیا پر تسلط کی کنجی سمندروں پر تسلط ہے، اور بحری تجارت، عالمی معیشت کا ستون ہے، اور دنیا کی 50 فیصد سمندری تجارت بحر ہند میں انجام پاتی ہے۔
علی فضل اللہ نے خطے میں ایران کے بحری اثر و رسوخ اور حالیہ مہینوں میں ایران کے حوالے سے بعض عرب ممالک کے موقف میں تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نئی صورت حال کو علاقائی اتحادوں کے قیام اور امریکی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے بہت اہم ہے۔
ادھر لبنانی فوج کے سبکدوش بریگیڈیئر جنرل شارل ابی نادر نے بھی کہا کہ صہیونی ریاست ہمیشہ خطے میں اختلاف اور کشیدگی پھیلانے کے لئے کوشاں رہتی ہے اور عرب ممالک کے ساتھ ایرانی بحریہ کا اتحاد غاصب ریاست کے کردار کو کمزور کرے گا، خطے میں صلح و سلامتی کی ضمانت فراہم کرے گا اور جنگ کے امکانات کے خاتمے کا موجب بنے گا۔
انھوں نے مزید کہا: قبل ازین، امریکہ اور اسرائیلی دشمن عرب ممالک کو ایران کی جوہری صلاحیت، میزائلوں، ڈرون طیاروں اور تیز رفتار جنگی کشتیوں سے ڈرا کر ان ممالک کے معاملات میں مداخلت کرتے تھے، اور ان میں اڈے بنا دیتے تھے، لیکن اب نئے اتحاد اس سازش کو خاک میں ملا دیں گے۔
وی افزود: قبلا آمریکا و رژیم صهیونیستی با ترساندن کشورهای عربی از به اصطلاح توان هسته ای، موشکی، پهبادی و قایق های ایران، در امور کشورهای مزبور دخالت و در آن پایگاه ایجاد می کردند اما ائتلاف های جدید این توطئه را نقشه بر آب کرد.
اردنی مصنف اور تبصرہ نگار حسام عبدالکریم نے بھی کہا: ایران ابتداء سے اب تک خطے کی سلامتی کے حوالے سے اجنبیوں کا سہارا لینے کے خلاف تھا اور عرب ممالک کے ساتھ تعاون پر زور دیتا رہا ہے، اور کہتا رہا ہے کہ امریکہ سمیت کسی بھی مغربی ملک کو خلیج فارس میں موجودگی کا حق حاصل نہیں لہذا نئے اتحادوں کی تشکیل نے خطے کے ممالک کو باور کرایا کہ امریکہ خطے کی سلامتی کے تحفظ میں مزید کوئی کردار ادا نہیں کرے گا۔
ادھر چین نے بھی ایران اور خلیج فارس کے بعض ممالک کی مشترکہ بحریہ کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ ـ خطے کے استحکام اور سلامتی کی غرض سے ـ ایران، سعودی عرب، امارات اور خلیج فارس کی بعض دیگر ریاستوں کی مشترکہ بحریہ کی تشکیل کی تجویز کا خیر مقدم کرتا ہے۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن (Wang Wenyin) نے سوموار (پانچ جون 2023ع) کو معمول کی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: مشرق وسطی کے علاقے خلیج فارس میں امن و استحکام کا تحفظ خطے اور اس کے عوام کی خوشحالی کا موجب بنتا ہے اور عالمی امن، عالمی معاشی نمو کی تقویت اور توانائی کی پائیدار فراہمی کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
انھوں نے کہا: چین بات چیت اور مشاورت کے ذریعے خطے کے ممالک کے درمیان اختلافات کے ازالے اور پرامن بقائے باہمی کی پالیسی کو تقویت پہنچانے کے موجودہ رویے کی حمایت کرتا ہے۔
انھوں نے کہا: بیجنگ مشرق وسطی کے ممالک کا اچھا دوست ہے اور اس خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل شہرام ایرانی نے کچھ دن قبل شمالی بحر ہند میں ایران، سعودی عرب، امارت، قطر، بحرین، عراق، پاکستان اور بھارت سمیت خطے کے تقریبا تمام ممالک کے درمیان بحری اتحاد کی تشکیل کی خبر دی تھی۔
ایڈمرل ایران نے کہا: آج خطے کے ممالک اس نقطے پر پہنچے ہیں کہ اگر طے یہ ہے کہ اس علاقے میں امن و سلامتی قائم رہے تو ان ممالک کے درمیان تعاون بالکل ممکن ہے۔
انھوں نے اعلان کیا کہ اس سلسلے میں خطے میں، اور خطے سے باہر بھی، نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔
انھوں نے ایران، روس اور چین کے درمیان سمندری اتحاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ہم روس اور چین کے ساتھ سہ فریقی اتحاد کے سانچے میں کئی سالوں سے مشترکہ بحری مشقوں کا اہتمام کر رہے ہیں اور یہ اتحاد توسیع کے مرحلے سے گذر رہا ہے؛ علاوہ ازیں علاقائی اتحاد بھی قائم کئے جا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا: ہم بہت جلد دیکھ لیں گے کہ ہمارا خطہ کسی بھی بلاجواز قوت سے خالی ہؤا ہے اور خطے کے عوام اپنے سپاہیوں کی مدد سے اپنے سلامتی کی حدود پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔
ایڈمرل شہرام ایران سے پوچھا گیا کہ کون سے ممالک مشترکہ علاقائی اقدام میں ایران کے ساتھ شراکت کے خواہاں ہیں؟ تو انھوں نے کہا: ہم نے اس سے پہلے عمان کے ساتھ مشترکہ اقدام سرانجام دیا تھا، اس وقت سعودی عرب نے بھی ایسے ہی اقدام کو اپنے ایجنڈے میں شامل کیا ہے اور اس کے لئے قدم بڑھایا ہے؛ اور متحدہ رب امارات، قطر، بحرین، عراق، پاکستان اور بھارت بھی ان ممالک میں شامل ہیں۔
انھوں نے آخر میں کہا: بحر ہند کے علاقے کے تقریبا تمام ممالک اس باور تک پہنچے ہیں کہ انہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ایک مورچے میں کھڑا ہونا چاہئے اور باہمی تعاون اور وسیع پیمانے پر اشتراک عمل کے ذریعے اپنے علاقے کی سلامتی کا تحفظ کرنا چاہئے۔
..............
110