عالمی اہل بیت(ع) ایجنسی - ابنا – کی رپورٹ کے مطابق، ان دنوں ایران - سعودی تعلقات کی بحالی کے بارے میں، مغربی دنیا میں شائع ہونے والے تجزیوں اور تبصروں کے پس پردہ، بین الاقوامی نظریہ سازوں کو اس کلیدی سوال کا سامنا ہے کہ کیا اسلامی جمہوریہ ایران کے بارے میں خطے کے کھلاڑیوں کے تزویراتی مفروضے اور خیالات و تصورات میں تبدیلی آئی ہے اور - حقیقت پسندانہ عوامل و اسباب کی بنیاد پر - خطے کے مستقبل کی خاکہ کشی پر اس تبدیلی کے کیا اثرات ہونگے؟
سعودی اخبار الشرق الاوسط کے مطابق، محمد بن سلمان اب صراحت کے ساتھ اس یقین تک پہنچے ہیں کہ ممکن نہیں ہے کہ ایران کے ساتھ تنازعات کا حل، اس ملک کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم کے ذریعے، ممکن نہیں ہے۔
بن سلمان کا کہنا ہے کہ جب اسرائیل اور امریکہ ایران کو فوجی اقدام کی دھمکی دیتے ہیں تو وہ درحقیقت اپنی ساکھ کھو رہے ہوتے ہیں۔
الشرق الاوسط کے کالم نگار "بدر الخلیف" نے اپنے مضمون میں ایران کے ساتھ سعودی عرب کے سمھجوتے کے حوالے سے بن سلمان کے دلائل بیان کئے ہیں۔
انھوں نے لکھا ہے: "شہزادہ محمد بن سلمان کو یقین ہے کہ ایران جیسے ملک کے ساتھ - جو قدیم تاریخ و تہذیب کا نقیب ہے - تنازعات کا حل براہ راست فوجی تصادم کے ذریعے قابل حل نہیں ہیں۔ وہ اس بات کے قائل ہو چکے ہیں کہ یہ طریقہ لاپرواہی اور ہنگامہ آرائی کے زمرے میں آتا ہے اور اگر اس طرح کی جنگ چھڑ جائے تو اس میں جیت کسی کی بھی نہیں ہوگی"۔
الشرق الاوسط میں چھپنے والے بدر الخلیف کے مضمون کے قابل غور نکات کچھ یوں ہیں:
1۔ تہران-ریاض تعلقات کی بحالی، - ان تصورات کے برعکس، جو مغربی سیاست دان جتانے کی کوشش کر رہے ہیں - نہ تو عارضی ہے، نہ فریقین کے درمیان شاطرانہ جوڑ توڑ ہے، اور نہ ہی دو فریقوں کی طرف سے کسی جذباتی فیصلے کا نتیجہ ہے، بلکہ یہ عمل اس سے بڑھ کر، بلکہ اس رجحان نے ملکی اور علاقائی جہتوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کی حقیقی تشخص اور اس کی طاقت کے بارے میں سعودی حکام کے ذہنی اور اسٹریٹجک مفروضوں کے درمیان ذہنی تضادات سے جنم لیا ہے۔
اس فارمولے میں تمام اجزاء کا اپنا اپنا مقام خاص ہے؛ حالیہ علاقائی پیش رفت کے حوالے سے امریکہ اور صہیونی ریاست کی سخت ناراضگی سے لے کر چین کے خصوصی کردار اور موجودہ صورتحال کے استحکام پر چینیوں کے اصرار تک۔
2۔ امریکہ کی دو روایتی جماعتوں کے اراکین نے، بالخصوص 11 ستمبر 2001ع سے لے کر اب تک، اسلامی جمہوریہ ایران اور ایرانی قوم کے مقابلے میں تسدیدی (restrainer) اور سلبی و انکاری (privative) حکمت عملیاں اپنا کر، خطے میں اپنا "حامی-پیروکار" نیٹ ورک مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔
بش جونیئر اور بارک اوباما سے لے کر ٹرمپ اور بائیڈن تک نے اس منظرنامے میں، اس قضیئے پر اصرار کیا ہے کہ "ایران کے ساتھ مسلسل - بلا واسطہ یا بالواسطہ - تصادم، بین الاقوامی سطح پر طاقتور ایران کا راستہ روکنے اور بالآخر اس کی بڑی تزویراتی حکمت عملیوں کے غیر معتبر ہونے کا سبب بنے گا" اور بدقسمتی سے امریکہ کے علاقائی اتحادیوں نے اس جھوٹے وسوسے کا ساتھ دینا شروع کیا۔
3۔ تیسرے نکتے کا تعلق تہران کے مقابلے میں واشنگٹن کی عظیم محاسباتی غلطیوں کے سلسلے میں مشہور امریکی نظریہ سازوں کے انتباہات سے ہے؛ بطور مثال وائٹ ہاؤس کے سابق حقیقت پسند مشیر برائے قومی سلامتی زی بگنیئیف برژنسکی (Zbigniew Brzezinski) نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں وائٹ ہاؤس کو خبردار کیا کہ "حتی ایک جقیقت پسندانہ نگاہ میں، مغرب کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے کہ وہ ایران کی طاقت کو تسلیم کرے اور اس کے ساتھ مؤثر تعامل (Interaction) کے راستوں کو تلاش کرے"۔
اگرچہ ان انتباہات کو ٹرمپ کے "زیادہ سے زیادہ دباؤ" اور بائیڈن کے "بامقصد دباؤ" کے ہنگاموں میں، چھپایا گیا اور حتی کہ مغربی ذرائع ابلاغ نے انہیں سنسر کر دیا، لیکن آج حتی کہ واشنگٹن کے علاقائی اتحادیوں بھی مغربی ایشیا میں وائٹ ہاؤس کی خطرناک حکمت عملیوں کی حقیقت کا ادراک کر لیا ہے اور اس کے منوائی ہوئی جھوٹی حکمت عملیوں اور وسوسوں کی وجہ سے اپنے قومی مفادات درپیش ناقابل برداشت اخراجات کی سنگینی کو جان گئے ہیں۔
زیادہ واضح لفظوں میں کہنا چاہئے کہ محمد بن سلمان کا موقف بین الاقوامی حالات کی نسبت ان کی مثالیت پسندانہ نگاہ سے جنم نہیں لیتا، بلکہ یہ موقف خطے میں امریکہ کے تزویراتی فارمولوں اور جھوٹے مفروضوں کی منسوخی اور بطلان کا نتیجہ ہے۔ یا یوں کہئے کہ سعودی حکمران جو مثالیت پسندی کی بنا پر امریکیوں پر اپنا اعتماد کیا کرتے تھے، اب ان پر اعتماد کے بجائے حقیقت پسندی کی طرف پلٹ آئے ہیں؛ چنانچہ تہران - ریاض تعلقات کی بحالی نہ صرف مغربی ایشیا میں ایک اہم تاریخی موڑ کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ ایران سعودی تعلقات کی بحالی نے اسلامی جمہوریہ ایران کی علاقائی اور عالمی طاقت اور پوزیشن کو تسلیم کرنے اور تجزیہ کرنے میں امریکی تجزیوں کی کمزوری اور تجزیہ کاروں کی نا اہلی کو بے نقاب کر دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔
110