17 مارچ 2023 - 15:31
ایران - سعودی سمجھوتے کے بانی جنرل الحاج قاسم سلیمانی ۔۔۔ ڈاکٹر عادل عبدالمہدی

جمہوریہ عراق کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر عادل عبدالمہدی نے ایک مضمون میں شہید الحاج قاسم سلیمانی کو تہران-ریاض تعلقات کی بحانی کے سمھجوتے کا بانی قرار دیتے ہوئے اس سلسلے میں شہید جنرل کے اقدامات کی تفصیلات پر روشنی ڈالی ہے۔

عالمی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق، سابق عراقی وزیر اعظم ڈاکٹر عادل عبدالمہدی نے، گذشتہ جمعہ کے روز بیجنگ میں منعقدہ سمجھوتے، پر مختلف زاویئے سے نظر ڈالی ہے اور اس سمجھوتے پر منتج ہونے والے سیاسی عمل میں سپاہ قدس کے کمانڈر شہید جنرل الحاج قاسم سلیمانی کے نمایاں کردار کے بارے میں لکھا:

بیجنگ میں حالیہ نتیجہ خیز قدم اور ایران، سعودی عرب اور چین کا مشترکہ بیان تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور اس تزویراتی واقعے میں کئی لوگوں نے کردار ادا کیا ہے؛ ایک ایسا معاہدہ منعقد ہؤا ہے کہ اگر کامیاب رہے تو خطے اور دنیا کا چہرہ بدل کر رکھے گا؛ کیونکہ یہ صرف ایران - سعودی تعلقات کی بحالی ہی پر ہی نہیں بلکہ خطے کے کئی بڑے مسائل کے حل پر منتج ہوگا۔

اس مسئلے میں ایک نکتہ بہت حساس اور بالکل نیا ہے اور وہ یہ اس سمجھوتے کے مبصر کا کردار چین نے اپنے ذمے لیا ہے۔ میں جن مسائل کو جانتا ہوں انہیں بیان کروں گا، یقینا دوسرے بھی کئی لوگ ہیں جو اس سلسلے میں کئی ان کہے حقائق سے آگاہ ہیں۔

ستمبر سنہ 2019ع‍ میں، میں چین کے سرکاری دورے پر تھا۔ چینی صدر اور وزیر اعظم سے ملاقات اور بات چیت سے قبل، جنرل قاسم سلیمانی نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا: کہ آپ سعودی عرب جا سکتے ہیں؟ میں نے سبب پوچھا تو انھوں نے کہا: "آپ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کے لئے ریاض کا دورہ کریں، یہ بہت اہم اور فوری مسئلہ ہے"۔ میں نے کہا کہ بغداد واپسی کے فورا بعد سعودی عرب کے دورے پر جاؤں گا۔ میں نے جنرل سلیمانی کی تجویز پر چینی راہنماؤں سے بھی بات کی اور انھوں نے بھی اس کا خیر مقدم کیا۔ میں نے بعد میں جنرل سلیمانی سے ان کی تجاویز کے بارے میں پوچھا؛ تو آپ نے فرمایا:  

- ہم [ایران اور سعویہ] مل کر [یمن کی] قومی اتحاد کی حکومت کے ذریعے یمن کا مسئلہ حل کرنے میں دے سکتے ہیں؛

- عراق اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری اور عراقی عوام کے ساتھ وسیع البنیاد روابط کے قیام کی حمایت کر سکتے ہیں؛  

- عراق کے پڑوسی ممالک کے ساتھ بات چیت دوسرے ممالک کے ساتھ بات چیت کرنے سے زیادہ آسان ہے؛

- کم از کم 10 سال تک تناؤ کم کرنے کا عہد کیا جا سکتا ہے؛

- باہمی احترام غالب اور مغلوب کو خاطر میں لایا جائے؛

- خلیج فارس میں جہازرانی کی ضمانت فراہم کی جائے؛

- شام، لیبیا اور خطے کے دوسرے ممالک کے مسائل کا مشترکہ تحل تلاش کیا جائے؛ اور

- مذکورہ مسائل پر بحث کے لئے وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد کیا جائے۔

چنانچہ ہم نے سعودی برادران کے ساتھ رابطہ کیا جنہوں نے مجھ سے میرے دورہ سعودی عرب کے اسباب کی تفصیل پوچھی تھی اور انہیں اطلاع دی کہ یہ دورہ ایران کے ساتھ ثالثی کے سلسلے میں ہے اور شہید سلیمانی نے ہم سے اس کی اپیل کی ہے۔ سعودیوں نے بھی خیر مقدم کیا اور 25 ستمبر 2019ع‍ کی صبح کو میں بغداد سے ریاض کی طرف روانہ ہؤا؛ اس دورے میں عراق کے خفیہ ادارے کے اس وقت کے سربراہ مصطفی الکاظمی، وزیر تیل مصطفی الغضبان، دفتر وزارت عظمیٰ کے سربراہ محمد الہاشمی اس دورے میں میرا ساتھ دے رہے تھے۔ ریاض میں سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ہمارا استقبال کیا اور رات کی آخری گھڑیوں میں ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ہماری ملاقات ہوئی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب سعودی آرامکو تیل کی تنصیبات کو میزائل حملے کا نشانہ بننا پڑا تھا اور اس حملے کا الزام ایران پر لگایا جا رہا تھا، گوکہ ایران اپنے اوپر عائد الزامات کی سختی سے تردید کر رہا تھا۔

میزائل حملے کے بارے میں، امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے مورخہ 5 ستمبر 2019ع‍ کو مجھ سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے کہا تھا کہ "افواہوں کے برعکس، آرامکو پر لگنے والے میزائل شمال کی طرف سے داغے گئے ہیں، نہ کہ عراق کی جانب سے"۔ بہرحال تناؤ کی صورت حال انتہاؤں پر تھی اور سعودی ولی عہد انتہائی غصیلے انداز سے بول رہا تھا۔ اس کی بات مکمل ہوئی تو ہم نے پوچھا: "کیا آپ ایران کے ساتھ جنگ کے خواہاں ہیں؟" بولا: "نہیں"۔ ہم نے کہا: اگر آپ جنگ نہیں چاہتے تو دو صورتیں آپ کے سامنے ہیں: یا تو تناؤ کی کیفیت اسی صورت میں باقی رہے گی اور کسی بھی لمحے یہ تناؤ قابو سے باہر ہو سکتا ہے، یا یہ کہ آپ مذاکرات کا راستہ اختیار کریں"۔

محمد بن سلمان نے جواب دیا: "ہم نے اس عمل کو کئی بار دہرایا لیکن ناکام رہے ہیں۔ ہم نے انہیں سابق ایرانی صدر ہاشمی رفسنجانی اور سابق سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے توسط سے باہم مسائل حل ہونے کے واقعات کا حوالہ دیا تو انھوں نے ہم سے ہماری تجویز مانگی؟ ہم نے کہا: رابطے کا ایک دریچہ کھول دیتے ہیں، آپ اپنی آراء لکھ لیں، ہم انہیں ایرانی فریق تک منتقل کریں گے اور ہمیں یقین ہے کہ اس سے  رابطے کا دریچہ اور گفتگو کا باب کھل جائے گا"۔

بن سلمان نے ایک 9 نکاتی تحریر لکھوا دی جن میں بین الاقوامی قوانین کا احترام اور ان کی پابندی، اچھی ہمسائیگی کے اصول کی رعایت، دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ، دنیا کے ممالک - بالخصوص پڑوسی ممالک - کے ساتھ تعلقات کی توسیع وغیرہ جیسے نکات شامل تھے۔

بن سلمان کا خط بہت غیر لچکدار تھا چنانچہ میں نے اس کو دوبارہ لکھ دیا، کچھ عبارتوں کو بدل دیا اور مختصر سی تبدیلی لاکر، خط کا لب و لہجہ نرم بنایا اور خط کو شہید قاسم سلیمانی کے سپرد کیا۔ اور شہید نے میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: "آپ نے ایک اچھا کام سر انجام دیا ہے؛ میں یہ ورقہ ملک کے اعلیٰ راہنماؤں کے سامنے رکھوں گا"۔

میں نے شہید جنرل سلیمانی پر امریکی دہشت گردانہ حملے سے چند ہی ہفتے قبل، ان سے ایران کے اعلیٰ حکام کے جواب کے بارے میں پوچھا - جو سعودی حکام کا سوال بھی تھا - اور شہید نے جوابا کہا: "صدر، اسپیکر پارلیمان اور عدلیہ کر سربراہ نے بن سلمان کے بھجوائے ہوئے متن کا جائزہ لیا ہے اور میں بغداد واپس آتے ہی جواب آپ [عبدالمہدی] کے سپرد کروں گا؛ لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ، سابق امریکی انتظامیہ [ٹرمپ انتظامیہ] نے ایک احمقانہ اور بزدلانہ حملہ کیا جس میں جنرل سلیمانی شہید ہوئے اور ان کا وہ دستی بیگ بھی لاپتہ ہو گیا جس میں ایرانی حکومت کے جواب پر مشتمل اوراق بھی رکھے ہوئے تھے"۔
میں نے مورخہ 7 جولائی 2020ع‍ کو وزارت عظمیٰ سے علیحدگی اختیار کر لی اور  مصطفی الکاظمی نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا اور جب انھوں نے ریاض کا سرکاری دورہ کیا تو مذکورہ منصوبے پر عملدرآمد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا اور دو ملکوں کے درمیان ابتدائی اجلاس ان ہی کی سربراہی میں منعقد ہوئے اور پھر الکاظمی کی غیر موجودگی میں دفتر وزارت عظمیٰ کے سربراہ محمد الہاشمی نے مذاکراتی اجلاسوں کی صدارت کی؛ ان اجلاسوں میں سعودی وفد کے سربراہ خالد الحمیدان تھے جب ایرانی وفد کی صدارت اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے نائب سیکریٹری سعید ایروانی کے ہاتھ میں تھی؛ اور اجلاسوں کا سلسلہ جاری رہا جو آخرکار بیجنگ میں تزویراتی سمھجوتے کے انعقاد پر منتج ہؤا۔

فریقین نے مذاکرات کا سلسلہ پوری قوت سے جاری رکھا، البتہ اس کے باوجود، اگر عالمی اور علاقائی صورت حال موجودہ ڈگر پر نہ چل نکلتی اور چین کے کردار میں اضافہ نہ ہوتا تو یہ سمجھوتہ منعقد نہ ہوتا۔ فریقین نے ضمانتیں فراہم کی ہیں اور دونوں فریقوں نے خطے کے تمام میلانات اور رجحانات کے بارے میں اپنی آراء و نظریات کی تشریح کی ہے، جن کی جھلکیاں اختتامی بیان میں نظر آ رہی ہیں۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہو چکے ہیں، اگلے چند مہینوں میں دونوں ممالک کے سفارتخانے دوبارہ کھول دیئے جائیں گے۔

سعودی عرب نے یکطرفہ طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات جنوری 2016ع‍ میں اس وقت منقطع کر لئے جب آیت اللہ نمر النمرکی شہادت پر احتجاج کرنے والے ایرانی مظاہرین نے تہران میں سعودی سفارتخانے اور مشہد میں سعودی قونصل خانے کے سامنے اجتماع کیا اور کچھ مظاہرین ان عمارتوں میں داخل ہوئے۔ اپریل 2021ع‍ سے فریقین نے سیکورٹی سطح پر مذاکرات کے چار دور مکمل کر لئے؛ اور عراقی وزیر اعظم فؤاد حسین کے بقول، عراق ان چار ادوار میں ثالث کا کردار ادا کرتا رہا اور گذشتہ سال مئی (2022ع‍) میں پانچویں دور کے مذاکرات بھی مکمل ہوئے۔ 

ترجمان وزارت خارجہ اسلامی جمہوریہ ایران

ادھر اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے (جمعرات 16 مارچ 2023ع‍ کو) ٹویٹر پر لکھا: جنرل قاسم سلیمانی دہشتگردی کے خلاف جنگ کے ہیرو ہی نہیں تھے بلکہ مسلم اقوام و ممالک کے درمیان اخوت و برادری، امن و آشتی اور صلح و سلامتی کے معمار بھی تھے۔ وہ اصلی دشمن کو پہچانتے تھے اور آفاق کو دیکھتے تھے۔۔۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان عراق کی ثالثی کی تجویز جنرل شہید سلیمانی کے اسٹریٹجک نقطہ نظر کا نتیجہ تھی۔

ایران اور سعودی عرب نے جمعہ 19 مارچ 2023ع‍ کو ایک مشترکہ بیان جاری کرکے تعلقات کی بحالی کا اعلان کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110