5 مارچ 2023 - 16:51
ریاض کی ٹیکنالوجی کانفرنس میں شریک یہودی-اسرائیلی تاجر اور سرمایہ کار

ماہ فروری میں، مستقبل کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے ریاض میں منعقدہ لیپ 2023 کانفرنس میں یہودی-اسرائیلی تاجروں کی ایک خاصی تعداد نے شرکت کی جن میں سے کچھ کا براہ راست تعلق غاصب صہیونی ریاست سے ہے اور صہیونی سرغنوں نے انہیں سعودیہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے سلسلے میں ضروری اقدامات بجا لانے کا مشن سونپا تھا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ماہ فروری میں، مستقبل کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے ریاض میں منعقدہ لیپ 2023 کانفرنس میں یہودی-اسرائیلی تاجروں کی ایک خاصی تعداد نے شرکت کی جن میں سے کچھ کا براہ راست تعلق غاصب صہیونی ریاست سے ہے اور صہیونی سرغنوں نے انہیں سعودیہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے سلسلے میں ضروری اقدامات بجا لانے کا مشن سونپا تھا:

ریاض کی ٹیکنالوجی کانفرنس میں شرکت کرنے والے یہودی-اسرائیلی تاجروں میں سے کچھ کے نام حسب ذیل ہیں:

– سرمایہ کار رافائل ناگل (Raphael Nagel) : اسرائیلی لابی گروپ سے تعلق رکھتا ہے، اس نے سعودی وزیر برائے اقتصادیات اور منصوبہ بندی فیصل بن فاضل الابراہیم سے براہ راست ملاقات کی۔

– جیس گرین بلاٹ (Jason D. Greenblatt) ہنگری سے تعلق رکھنے والے یہودی گھرانے کا بیٹا ہے۔ وہ اس سے پہلے امریکی قانون دان، ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹرمپ آرگنائزیشن کا انتظامی نائب سربراہ اور چیف لیگل افسر تھا۔ وہ خطے میں اسرائیل کو [بحیثیت ملک] تسلیم کرانے اور معمول کی ریاست بنانے کے اہم منصوبہ سازوں میں شامل ہے۔ اس کو سعودی سرمائے سے شائع ہونے والے اخبار “عرب نیوز” کے چیف ایڈیٹر فیصل عباس نے اعزاز سے نوازا۔

– تل ابیب یونیورسٹی میں ٹیکنالوجی انوویشن اور ڈیجیٹل ہیلتھ کے شعبے کا سربراہ یواف فشر (Yoav Fisher) جس نے چھ سعودی کمپنیوں کے ساتھ 50 لاکھ ڈالر سے زائد معاہدوں پر دستخط کئے۔

– ڈینیل برنارڈ (Daniel Bernard) : غاصب ریاست میں ریڈووڈ اسپورٹ انٹرنیشل (Redwood Sports International) کا بانی، کھیلوں کی صنعت کا کاروباری، سرمایہ کار اور منصوبہ ساز اور صہیونی دشمن اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے درمیان پل بنانے اور رابطہ قائم کرنے کا سب سے زیادہ پرجوش حامی ہے۔ اس نے سنہ 2021ع‍ سے اب تک صہیونی دشمن اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ثالت کا کردار ادا کیا ہے۔ اس شخص نے سعودی مشاورتی کمپنی “شرکۃ التمیّز” (Symbios consulting company KSA) کے ساتھ ایک ایک معاہدے پر دستخط کئے۔

– بروس گوروین (Bruce Gorvin) : اس نے امارات سے چل اپنے زمینی سفر کا آغاز کیا تھا اور امارات میں دبئی کا دورہ کیا اور وہاں سے سعودی شہرون ریاض، جدہ، العلا اور “نیوم” کا سفر کیا اور وہاں سے عرب کی بندرگاہ عقبہ پہنچا اور آخرکار واپس بیت المقدس پہنچا۔ بروس نے امارات، سعودی عرب اور اردن میں غیر ملکی ناموں سے کام کرنے والی متعدد اسرائیلی کمپنیوں کی حقیقت فاش کر دی! [یہ بتانے جتانے کے لئے کہ یہودی تمہارے اندر گھس آئے ہیں پہلے ہی]۔

– سیباسٹین بورگیٹ (Sebastian Burkett) : سینڈباکس کمپنی (Sandbox Company) کا معاون بانی اور ایم ڈی، جس نے کانفرنس کے دوران سعودی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے پر دستخط کئے۔

– مال گاوٹ (Mal Gavit) : جو نئے اسرائیلی اسٹارٹ اپس کی سرپرستی کے لئے مشہور ہے۔

– ٹم ڈریپر (Tim Draper) : بائيڈو (Baidu)، ہاٹ میل (Hotmail)، اسکائپ (Skype)، ٹیسلا (Tesla)، اسپیس ایکس (SpaceX)، اینجل لسٹ (AngelList)، سالر سٹی (SolarCity)، رنگ (Ring)، ٹویٹر (Twitter)، ڈاکو سائن (DocuSign)، کائن بیس (Coinbase)، رابن ہوڈ (Robinhood)، انکیسٹری ڈاٹ کام (Ancestry.com)، ٹوچ (Twitch)، کروز آٹومیشن (Cruise Automation)، پریٹی لٹر (PrettyLitter) اور فوکس میڈیا (Focus Media) میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے والا بڑا امریکی – اسرائیلی، سرمایہ کار۔

– سائمن ہارڈی (Simon Hardie) : یہ شخص گذشتہ دو دہائیوں سے صہیونی ریاست کی حدود میں [مقبوضہ فلسطینی] زمینوں اور جائیداد اور غیر منقولہ املاک کے کارو بار میں مصروف ہے۔

– ميروسلاو بولزار) : عرصہ 20 سال سے صہیونی عملداری میں ہوا سے پینے کا پانی حاصل کرنے کے شعبے میں مصروف عمل ہے۔

– نک ک و نی (Nick Cooney) : مقبوضہ فلسطین میں لیور وی سی (Lever VC) کمپنی کا بانی اور انتظامی پارٹنر۔

کانفرنس کا اہم ترین یہودی شریک:

– حاخام ربی یعقوب ہرزوگ (Jacob Herzog) جس کا دعویٰ ہے کہ وہ “سعودی ربی” ہے۔ اور مستقل طور پر حجاز مقدس میں قیام پذیر ہے! ہرزوگ نے کہا ہے کہ “میں صرف برکت پھیلانے کے لئے اس کانفرنس میں شرکت کر رہا ہوں”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242