ہرزوگ کی گہری تشویش
غاصب یہودی-صہیونی ریاست کے سربراہ اسحاق ہرزوگ نے کل (اتوار 15 جنوری 2023ع کو) مقبوضہ فلسطین میں ایک لاکھ افراد کے احتجاجی مظاہرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کے خوفناک نتائج کے سلسلے میں خبردار کیا ہے۔
صہیونی اخباری چینل آئ24 کے مطابق، ہرزوگ نے صہیونی ریاست کے عدالتی نظام کے بارے میں نئی کابینہ کے موقف اور اقدامات پر رد عمل دکھاتے ہوئے کہا: “عدالتی نظام میں اصلاحات پر تنازعہ ہماری قوم! کو پارہ پارہ کرے گا”۔
ہرزوگ کا کہنا تھا: “میں نے آج اپنی توجہ ایک حیاتی مسئلے پر مرکوز کر لی ہے، اور مجھے یقین ہے کہ صدر کی حیثیت سے اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے: آئین میں ایک بے مثل تاریخی بحران کا ازالہ اور قوم! کے اندر اختلاف و انتشار کا سد باب کرنا”۔
ہرزوگ نے مقبوضہ قدس شریف میں واقع اپنی رہائشگاہ پر بات چیت کرتے ہوئے کہا: “ہم ایک بہت بڑے اختلاف رائے کے چنگل میں گرفتار ہیں، یہ تنازعات مجھے فکرمند کر رہے ہیں، جیسا کہ اس صورت حال نے اسرائیل! میں بہت سوں کو فکرمند کر دیا ہے”۔
دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان اختلافات میں اس وقت شدت آئی جب بنیامین نیتن یاہو کی سرکردگی میں تل ابیب کی نئی کابینہ نے جنوری کی ابتداء میں ایک بل بعنوان “عدالتی نظام میں اصلاحات” پیش کیا اور اب کابینہ کے مخالفین نے مقبوضہ نوآبادیوں میں رہائش پذیر یہودیوں سے اپیل کی ہے کہ نیتن یاہو کی کابینہ کے خلاف احتجاج کے لئے سڑکوں پر آئیں۔
نیتن یاہو کو حالیہ چند برسوں کے دوران بدعنوانی، رشوت ستانی اور امانت میں خیانت کے الزام میں عدالتی مقدمے کا سامنا ہے، جبکہ نئی کابینہ میں اس کے تشدد پسند شرکاء کو بھی بدعنوانی اور دہشت گردی کے الزامات کا سامنا ہے اور ان سب نے مل کر مذکورہ بل پیش کیا ہے اور ان کی کوشش ہے کہ اپنے مقرر کردہ وزیر قانون کی مدد سے اپنے اوپر لگے الزامات کو کالعدم کرا دیں اور عدالتی نظام کو مقننہ اور انتظامیہ کا تابع بنا دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242