اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ افغانستان پر طالبان کے تسلط کے باوجود اس ملک کے مختلف شہروں خاص طور سے دارالحکومت کابل میں بم دھماکوں اور دہشت گردانہ حملوں کا مشاہدہ کیا جارہا ہے۔
تازہ دھماکے ، دارالحکومت کابل کے علاقے قلعہ نو اور دشت برچی میں واقع دو تعلیمی اداروں میں ہوئے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق پہلا دھماکہ صبح ساڑھے نو بجے قلعہ نو میں ممتاز نامی اسکول کے باہر ہوا جبکہ اس کے تھوڑی دیر کے بعد دشت برچی میں واقع عبدالرحیم شہید اسکول میں یکے بعد دیگر دو دھماکے ہوئے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں بہت زیادہ جانی نقصان ہوا ہے ابتدائی رپورٹ کے مطابق 20 سے 25 کم سن طلبہ شہید ہو گئے ہیں، عبدالرحیم شہید اسکول کے ایک طالبعلم نے بتایا ہے کہ اس نے کئی مسلح حملہ آوروں کو اسکول کی عمارت میں داخل ہوتے دیکھا ہے۔
تازہ ترین خبروں میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں میں کم سے کم 27 اسکولی بچے شہید اور بیس کے قریب زخمی ہوئے۔ شہید اور زخمی ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تاحال کسی گروہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم اس سے پہلے کابل کے شیعہ آبادی والے علاقوں پر حملوں کی ذمہ داری دہشت گرد گروہ داعش قبول کرچکا ہے۔

خبروں کی نشریات پر پابندی
کہا جا رہا ہے کہ حکومتی سکیورٹی فورسز نے اس دھشتگردانہ واقعے کی میڈیا کیوریج پر پابندی عائد کر دی ہے، اور دو نامہ نگاروں کی گرفتاری اور تین کو زد و کوب کیے جانے کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242