اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تحریک بیداری امت مصطفی (ص) کے زیرانتظام، خواتین کے شرف و مقام، حقوق و کردار کے احیاء، عورت کا فاطمی روپ اجاگر کرنے اور بھارت و کشمیر کی مظلوم خواتین کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے تکریم خواتین ریلی مال روڈ پر نکالی گئی۔ ریلی ناصر باغ پہنچ کر جماعت اسلامی کی ریلی میں شریک ہوگئی۔ اس مشترکہ ریلی کی قیادت علامہ سید جواد نقوی، جماعت اسلامی کے امیر العظیم اور جامعہ نعیمیہ کے ڈاکٹر راغب نعیمی نے کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ممتاز خواتین کی شرکت سے اس اجتماع کے انعقاد اور مختلف مسائل منجملہ عورتوں اور کنبے سے متعلق ان کے دقیق اور تجزیاتی نظریات کو کمالات اور بلندیوں کی سمت عورتوں کی پیش قدمی کی علامت ہے۔ انہوں نے مختلف سیاسی، سماجی، ثقافتی اور خاص طور پر علمی میدانوں میں عورتوں کی پیشرفت کو قابل تعریف قرار دیا۔
انہوں نے عورتوں سے متعلق دنیا کی بے شمار مشکلات کی بنیاد معاشرے میں عورت کی شان و منزلت کے سلسلے میں مغرب کے غلط طرز فکر اور خاندان کے مسئلے میں اس کی کج فہمی کو قرار دیا اور کہا کہ ان دونوں مشکلات کی وجہ سے دنیا میں عورتوں کا مسئلہ باقاعدہ ایک بحران میں تبدیل ہو گیا ہے۔ انہوں نے قوموں کے فکری میدان میں اس غلط ثقافت کو رائج کرنے کیلئے مغرب کے اسٹریٹیجک منصوبہ سازوں کی منظم اور تدریجی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ اگر آج کوئی بھی عمومی مقامات پر عورتوں کے آرائشی وسائل کے طور پر استعمال کیخلاف آواز اٹھائے تو اس پر مغرب کے سیاسی و تشہیراتی اداروں کی یلغار ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مغرب میں حجاب کی اعلانیہ مخالفت کو عورتوں کے سلسلے میں ظالمانہ طرز فکر کا ایک نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حجاب کی مخالفت کی اصلی وجہ یہ ہے کہ اس سے عورتوں کی بے آبروئی کی مغرب کی اسٹریٹیجی کیلئے مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں اور ان کے راستے میں رکاوٹیں آتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مغرب کے برخلاف، خاندان اور عورت کے مقام و مرتبے کے سلسلے میں اسلام کا نظریہ بالکل واضح اور روشن ہے کہ جب عورت قبیلہ کے سردار، باپ، بھائی یا دوسرے لوگوں کی ظالمانہ ارادوں کے ماتحت ہوتی تھی اور ہر قسم کے حقوق سے بھی محروم تھی، اسلام نے اسے آزادی جیسی نعمت عطا کی۔ اس طرح ہمسر کا انتخاب کرنے، اپنے مال ودولت خرچ کرنے اور اظہار خیال کرنے میں استقلال اور آزادی عطا کی تاکہ ان کی قدروقیمت پہچان سکے۔ انہوں نے مغربی طرز فکر سے متاثر ہو کر عورت مارچ کو معاشرے کیلئے کورونا سے بھی بدتر قرار دیا اور کہا کہ اگر اس فکر کا مقصد بے عفّتی، شہوت رانی، اخلاقی حدود کو پامال کرنا، بے پردہ ہوکر گھر سے نکلنا، محرم نا محرم کی تمیز کئے بغیر لوگوں میں مغربی طرز پر رہن سہن رکھنا ہو اور خاندانی آشیانے کو ویران کرکے نسلوں کو خراب اور بے سرپرست قرار دینا ہے تو ہم قبول کرتے ہیں کہ اسلام نے ایسی آزادی عورت کو نہیں دی، یہ آزادی تو اسلام میں مردوں کیلئے بھی نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ آج اس جدید اور متمدن دور میں خواتین پر ظلم و ستم بھی جدید طریقے سے ہو رہا ہے۔ جھوٹے نعرے اور دھوکہ کے ذریعے، جمہوریت اور خواتین کی آزادی و حقوق کے نام پر عورتوں پر ظلم و ستم کر رہے ہیں۔ مختلف ممالک میں خصوصاً یورپی ممالک میں عورت کو اپنا سرمایہ اور مال و دولت کی خرید وفروخت کیلئے پبلسٹی کا وسیلہ قرار دیتے ہیں۔ اس طرح خاندان جو ہر انسان کی تشخص برقرار رکھنے کا ایک شرافت مندانہ وسیلہ تھا، درہم برہم کر دیا گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حجاب، پاکدامنی اور مرد عورت کے بیچ فاصلے کو ملحوظ رکھنا، مردوں کے ہاتھوں استحصال کا شکار نہ ہونا، خود کو غیر مردوں کی لطف اندوزی کا سامان قرار دینے کی پستی میں نہ گرنا اور تحقیر برداشت نہ کرنا مسلم خواتین کی خصوصیات ہیں جس کی انہیں حفاظت کرنی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242