اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عالم ربانی اورممتاز محقق حجۃ الاسلام و المسلمین الحاج شیخ مہدی پیشوائی کی وفات کے ساتویں دن کی مناسبت سے علماء اور دانشوروں کی موجودگی میں ایک ورچوئل تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
یہ تقریب گزشتہ روز 24 اگست 2021 کو اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی، اربعین ثقافتی مرکز، شیعہ شناسی عالمی اسمبلی، اسلامی علوم و ثقافت تحقیقاتی مرکز، مرکز مدیریت حوزہ ہائے علمیہ اور انجمن محققین تاریخ کے باہمی تعاون سے منعقد ہوئی۔
*مرحوم پیشوائی کے آثار درسی نصاب کا حصہ ہیں
حوزہ ہائے علمیہ کے سربراہ آیت اللہ اعرافی نے اس تقریب کے آغاز میں مرحوم پیشوائی کی خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مرحوم عالمی شہرت یافتہ شخصیت کے مالک تھے، "مکتب اسلام" جریدے کے آغاز سے ہی وہ اس میں لکھا کرتے تھے اور 200 سے زیادہ مقالے ان کے مختلف جرائد میں چھپے ہیں۔ وہ ریڈیو معارف کے بھی اعلیٰ ماہرین میں شمار ہوتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا: مرحوم پیشوائی کا قلم بہت سلیس اور سادہ تھا ان کی بعض کتابیں حوزہ علمیہ کے نصاب میں شامل ہو گئیں جو ان کے قلم کی مضبوطی کی دلیل ہے۔ مرحوم پیشوائی تاریخ اسلام کے میدان میں ایک منبع ق ماخذ کی حیثیت اختیار کر چکے تھے۔
* مرحوم پیشوائی کے آثار قومی اور بین الاقوامی سطح پر بااثر ہیں
امام خمینی (رہ) تعلیمی تحقیقی مرکز کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین محمود رجبی نے اس تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے مرحوم استاد پیشوائی کے اخلاق و کردار کے حوالے سے بیان کیا: وہ لوگ جو مرحوم پیشوائی کے ساتھ ملاقات کرنے جاتے تھے آپ ان کا بہت اچھے سے استقبال اور احترام کرتے تھے۔ انتہائی شائستگی سے ان کے سوالات کے جوابات دیتے تھے اور اپنے دقیق نظریات کا اظہار کرتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا: آپ کے آثار کا یونیورسٹیوں اور حوزہ ہائے علمیہ نے بھی خوب استقبال کیا گیا، اور حوزہ و دانشگاہ میں درسی نصاب کا حصہ بنایا گیا۔ یہ آثار اس طریقے سے تحریر کئے گئے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر بھی ان کا استقبال ہوا اور مختلف زبانوں میں ان کا ترجمہ ہوا۔
* مرحوم پیشوائی تاریخ اسلام کے ماہر تھے
انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سائنسز اینڈ کلچر کی فیکلٹی کے رکن حجت الاسلام اور المسلمین "علی اکبر ذاکری" نے مرحوم پیشوائی کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: مرحوم پیشوائی ان شخصیات میں سے تھے جنہوں نے تاریخ اسلام میں تخصص اختیار کیا اور متعدد کتابیں اس موضوع پر لکھیں کہ جن میں سے معروف ترین کتاب "سیرہ پیشوایان" ہے۔ "مقتل جامع سید الشہداء (ع)" بھی مرحوم پیشوائی کی گرانقدر کتاب ہے جو آپ کے زیر نظارت محققین تاریخ کی مدد سے تحریر کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا: مرحوم پیشوائی نے مقتل سید الشہداء (ع) میں واقعہ کربلا کو شروع سے آخر تک تمام جزئیات کے ساتھ مرقوم کیا ہے۔
* استاد پیشوائی حوزہ علمیہ قم میں تاریخ اسلام کے میدان کے شہسوار تھے
تاریخ و سیرت اہل بیت(ع) تحقیقاتی مرکز کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین مطہری نے اس تقریب میں کہا: استاد مہدی پیشوائی تاریخ اسلام کے میدان کے شہسوار تھے اور بہت سارے طلاب و علماء ان کے آثار کے ذریعے تاریخ اسلام سے آشنا ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا: استاد پیشوائی حوزہ علمیہ قم میں کمیاب شخصیت کے مالک تھے کہ جنہوں نے علم تاریخ میں بے پناہ خدمات انجام دیں۔
*استاد پیشوائی کی کتاب سیرہ پیشوایان نے حوزہ و یونیورسٹی میں نصابی خلا پُر کر دیا
امام خمینی ایجوکیشنل اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر حجت الاسلام اور المسلمین "محمد رضا جباری" نے مرحوم پیشوائی کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: استاد پیشوائی تاریخ اسلام کے ممتاز اساتید میں سے تھے جنہوں نے کئی دہائیاں اس میدان میں کام کیا۔
انہوں نے مزید کہا: استاد پیشوائی کا قلم اور بیان بہت اچھا تھا اور اس کی مثال یہی کتاب سیرہ پیشوایان ہے جس نے حوزہ اور یونیورسٹی میں نصابی خلا پُر کر دیا۔
* مرحوم پیشوائی ائمہ معصومین (ع) کی سیاسی زندگی کے ماہر استاد تھے
انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سائنسز اینڈ کلچر کے ڈائریکٹر حجت الاسلام اور المسلمین "نجف لک زائی" نے استاد پیشوائی کی یاد میں منعقدہ تقریب میں کہا: استاد پیشوائی تاریخ اسلام اور ائمہ طاہرین (ع) کی سیاسی سیرت کے ماہر استاد تھے یہ سیرت مسلمانوں کے لیے اہمیت کی حامل ہے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اسلام کے اصولوں پر معاشرہ سازی ایک بڑا قدم تھا جو مہدی پیشوائی صاحب اٹھایا اور معاشرہ سازی کے لیے ان نمونوں کو پیش کیا جن کی قرآن نے تاکید کی۔
انہوں نے مزید کہا: مرحوم پیشوائی کے کارنامے اس حوالے سے اہم ہیں کہ وہ تاریخ اسلام کے میدان میں اترے اور اہم تحقیقات انجام دیں اور کثیر تعداد میں اساتید اور محققین تیار کئے اور یونیورسٹیوں میں تھیسس اس موضوع پر تحریر کروائیں۔
قابل ذکر ہے کہ حوزہ علمیہ قم کے ممتاز استاد حجۃ الاسلام و المسلمین مہدی پیشوائی 14 اگست 2021 کو منحوس وباء کورونا کی وجہ سے انتقال کر گئے۔
انہوں نے تاریخ اسلام کے میدان میں درجنوں کتابیں لکھی ہیں لیکن سیرہ پیشوایان جو حوزہ علمیہ کے نصاب کا حصہ ہے کافی معروف ہوئی ہے۔
.............................
242