10 مارچ 2021 - 14:12
یوم شہادت امام موسیٰ کاظم ؑ،مرکزی امام باڑہ بڈگام میں پروقار مجلس عزاء

آغا صاحب نے کہا کہ امام موسیٰ کاظم ؑ کے دور امامت میں اسلامی سلطنت کا دائرہ کافی وسیع ہوچکا تھا تاہم خلافت اسلامیہ مکمل طور پر ملوکیت میں تبدیل ہو چکی تھی حکمران طبقہ اپنے سیاسی مفادات اور حکمرانی کے تحفظ کے لئے قرآن و سنت سے رو گردانی کی راہ اختیار کرتے چلے جا رہے تھے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سلسلہ امامت کی ساتویں کڑی حضرت امام موسیٰ کاظم ؑ کے یوم شہادت کی موقع پر جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے مرکزی امام باڑہ بڈگام میں ایک پروقار مجلس عزاء کا انعقاد ہوا جہاں وادی کے اطراف و اکناف سے آئے ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کرکے امام عالیٰ مقامؑ کے تئیں اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کیا اس موقع پر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے عقیدت مندوں کے جمع غفیر سے خطاب کرتے ہوئے حضرت امام موسیٰ کاظم ؑ کی سیرت طیبہ اور کردار و عمل کے مختلف گوشوں کی وضاحت کی۔

آغا صاحب نے کہا کہ امام موسیٰ کاظم ؑ کے دور امامت میں اسلامی سلطنت کا دائرہ کافی وسیع ہوچکا تھا تاہم خلافت اسلامیہ مکمل طور پر ملوکیت میں تبدیل ہو چکی تھی حکمران طبقہ اپنے سیاسی مفادات اور حکمرانی کے تحفظ کے لئے قرآن و سنت سے رو گردانی کی راہ اختیار کرتے چلے جا رہے تھے خانوادہ نبوت ؐ کی محترم اور معزز ترین علمی شخصیت اور وارث علم نبوت ؐ کی حثیت سے وقت کے حکمران اپنے سیاسی عزائم کی راہ میں امام عالیٰ مقامؑ کی ذات قدسیہ کو سب سے بڑی رکاوٹ تصور کررہے تھے اس لئے امام عالیٰ مقامؑ کو17سال تک پابند سلاسل کرکے قید خانے میں ہی درجہ شہادت پر پہنچایا گیا۔

آغا صاحب نے کہا کہ اکثر ائمہ معصومینؑ کی دلدوز شہادتیں دینی معاملات میں وقت کے حکمرانوں کی شر انگیز مداخلت اور قرآن و سنت سے منافی پالسیوں کا شاخسانہ ہیں کیوں کہ ائمہ معصومینؑ قرآن و سنت کے حقیقی محافظ اور وارث ہونے کے ناطے حکمرانوں کی اسلام دشمن پالسیوں پر خاموشی اختیار نہیں کرسکتے اس موقعہ پر آغا صاحب نے سماجی بدعات اور منشیات کی تباہ کاریوں سے آگاہ کرتے ہوئے عوام سے تاکید کی کہ وہ معاشرے کو اس لعنت سے پاک کرنے کے لئے شرعی ذمہ داری کے عنوان سے متحرک ہوجائیں منشیات کے کاروبار اور استعمال کو ایک غیر محسوس اجتماعی خود کشی سے تعبیر کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ منشیات نہ صرف ہزاروں نوجوانوں کی مرگ ناگہان کا باعث بنتی ہیں بلکہ بھیانک سماجی جرائم کا موجب بھی بن رہی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲