اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی کانفرنس کی اکتالیسویں علمی نشست گزشتہ روز سنیچر کو فیزیکل اور ورچوئل طور پر منعقد ہوئی۔
یہ علمی نشست جو "الذریۃ النبویۃ تحقیقاتی سینٹر" اور "مجمع جہانی تقریب مذاہب کے تحقیقاتی ادارے" کے اہتمام سے "جناب ابوطالب علامہ محقق سید محمد مہدی خرسان کی نگاہ میں" کے زیرعنوان منعقد ہوئی اس میں امناء الرسول علمی کانفرنس کے سیکرٹری نے دشمنوں کی جانب سے اہل تشیع اور تعلیمات اہل بیت(ع) پر لگائی گئی تہمتوں کو بیان کیا اور ان کے جوابات دینے کی کوشش کی۔
حجۃ الاسلام و المسلمین محمد تقی ربانی نے علماء کی ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: روایات کی روشنی میں دشمنوں کے حملوں کے مدمقابل شیعہ عقائد کا دفاع کرنا علماء کی ذمہ داری ہے۔ اس راہ میں جن علماء نے زحمتیں اٹھائیں ان میں علامہ خرسان بھی شامل ہیں جنہوں نے اس سلسلے میں موثر اقدامات ائھائے، چونکہ پیغمبر اکرم کے زمانے سے ہی اہل بیت(ع) کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کیا جاتے تھے لہذا ہمارے علماء نے بعض کے جوابات دیئے اور بعض شکوک و شبہات نہ صرف شبہات کی حد تک تھے بلکہ اس سے بالاتر ایک موج کی صورت اختیار کر گئے تھے اور مسلمانوں کی کثیر تعداد کو وہ اس موج کے بہاؤ میں بہا لے گئے تھے۔
انہوں نے مزید کہا: آیت اللہ خرسان کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ دشمن کے شکوک و شبہات کی جنگ کے میدان میں موجود تھے وہ جہاں بھی ضرورت کا احساس کرتے تھے وہاں قلم فرسائی کرتے تھے مثال کے طور پر جناب محسن کی شہادت اور اذان کے سلسلے میں انہوں نے کتابیں لکھیں۔
امناء الرسول کانفرنس کے سیکرٹری نے مزید کہا: علامہ خرسان شکوک و شبہات کا نہ صرف جواب دینے میں اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ اس مسئلے پر ایک دقیق نگاہ رکھتے تھے، آپ نے امیر المومنین علی علیہ السلام سے منسلک شخصیات کے دفاع میں بھی قلم اٹھایا، ابن عباس کے سلسلے میں انہوں نے ۲۱ جلدوں پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا لکھا۔
انہوں نے مزید کہا: بنی امیہ کا ایک تزویراتی اقدام یہ تھا کہ وہ ہر اس شخص کو نشانہ بناتے تھے جو امیر المومنین علی علیہ السلام سے کسی نہ کسی حوالے سے جڑا ہوا تھا۔ جناب ابوطالب بھی اس وجہ سے بنی امیہ کی دشمنی کا شکار ہوئے۔
ربانی نے مزید کہا: ہماری ایک کمزوری یہ ہے کہ ہم تقیہ کی زندگی کا ادراک نہیں کرتے اور تقیہ کے حوالے سے اپنے سلیقہ پر عمل کرتے ہیں، جناب ابوطالب کی زندگی اس سلسلے میں نمونہ عمل ہے آپ کی زندگی کا مطالعہ کرنے کے بعد دوسروں کے ساتھ برتاؤ اور تال میل کو سمجھ سکتے ہیں۔ جناب ابوطالب کا ہم مسلمانوں اور شیعوں کی زندگی پر بڑا احسان اور حق ہے اور افسوس کے ساتھ یہ حق ابھی تک ادا نہیں ہوا ہے۔
خیال رہے کہ "جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار'' اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ذریعے اور دیگر ہم خیال اداروں منجملہ آستان مقدس حسینی، موسسہ فرھنگی تحقیقات و نشر حضرت ابوطالب، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، دفتر تبلیغات اسلامی، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، مرکز آموزش زبان حوزہ ہائے علمیہ، اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی، موسسہ فرہنگی میراث نبوت، جامعۃ الزہرا(س)، الذریہ النبویہ تحقیقی سینٹر، موسسہ فرہنگی قاسم بن الحسن(ع)، موسسہ فرہنگی ابناء الرسول، وغیرہ کے باہمی تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے۔
سیمینار کے بارے میں مزید جانکاری کے لیے فارسی، عربی، انگریزی اور اردو کے پوسٹرز کو یہاں سے حاصل کر سکتے ہیں۔
...............
242