اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رپورٹرز وٹ بارڈرز نے جرمنی کی عدالت میں انسانیت کے خلاف جرائم اور صحافیوں کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں سعودی شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی حکومت کے دیگر اعلی عہدیداروں کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ .
کارلسروہ ڈسٹرکٹ کورٹ میں 500 صفحات پر مشتمل مقدمہ دائر کیا گیا ، جس میں سب سے بڑھ کر 34 سعودی صحافیوں کی بلاجواز نظربندی اور واشنگٹن پوسٹ کے نقاد اور کالم نگار جمال خاشقچی کے بہیمانہ قتل سمیت سعودی صحافیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر توجہ دی گئی ہے۔
رپورٹرز وٹ بارڈرز نے جرمنی کو بن سلمان کے انسانیت مخالف جرائم کے معاملے سے نمٹنے کے لئے اس لیے منتخب کیا ہے کیونکہ اس ملک کی عدلیہ سرحدوں سے قطع نظر، فوجداری مقدمات کو ہینڈل کرتی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ، "کینتھ روتھ" نے اپنے ٹویٹر پیج پر ایک پیغام میں لکھا ہے: "امریکی صدر جو بائیڈن نے جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق سعودی ولی عہد کی معلومات فاش کر کے راستہ ہموار کر دیا ہے۔ رپورٹرز وٹ بارڈرز نے بن سلمان کے خلاف صحافیوں کو منظم اور بڑے پیمانے پر ہراساں کرنے جرم کی شکایت جرمن عدالت میں درج کروائی ہے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعہ کے روز ایک انٹلیجنس رپورٹ کو فاش کیا جس میں بتایا گیا ہے کہ سعودی شہزادے نے خاشقجی کے قتل کا حکم 2018 میں دیا تھا ، جسے استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر گھسیٹ کر تکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا اور اسے ہلاک کردیا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گرد دستہ کے 15 ارکان کو استنبول بھیجا گیا تھا جو ریپڈ ری ایکشن فورس کے ممبر تھے ، جو واشنگٹن کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ کے دفاع کے لئے موجود رہتے ہیں اور صرف اس کے سامنے جوابدہ ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ نے اس ٹیم پر پابندیاں عائد کر دی تھیں ، لیکن حکومت نے سعودی عرب کے شہزادے کو نشانہ بنانے سے انکار کردیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲