اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مفسر قرآن، استاد اخلاق اور تہران کے بزرگ عالم دین آیت اللہ سید محمد ضیاء آبادی نے ۹۲ سال کی عمر میں اس دارفانی کو الوداع کہہ دیا۔
یہ عالم دین کچھ روز قبل کورونا وائرس میں مبتلا ہوئے تھے اور انہیں خاتم الانبیاء ہسپتال کے شعبہ آئی سی او میں رکھا گیا تھا۔
مرحوم آیت اللہ ضیاء آبادی امام خمینی (رہ) اور علامہ طباطبائی کے شاگر تھے جو تہران کی ایک مسجد میں درس تفسیر و اخلاق کہا کرتے تھے۔ تہران کے بزرگ مبلغین اور واعظین میں آپ کا نام شامل تھا۔
آیت اللہ ضیاء آبادی کا مختصر زندگی نامہ
آیت اللہ سید محمد ضیاء آبادی قزوین کے گاؤں "ضیاء آباد" میں ایک مذہبی اور علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔
آپ کے والد سید محمود ضیاء آبادی علاقے کے متقی، پرہیزگار اور شہرت یافتہ عالم دین تھے جو دینی تبلیغ کے علاوہ اپنے گھر کے اخراجات کو کھیتی باڑی سے پورا کرتے تھے۔
آپ کا سلسلہ نسب امام زین العابدین علیہ السلام سے ملتا ہے۔
مرحوم نے قزوین میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد قم کا رخ کیا اور اعلی دینی تعلیم قم کے بزرگ علماء جیسے امام خمینی، علامہ طباطبائی، آیت اللہ بروجردی، آیت اللہ سدہ ی اصفہانی کے پاس حاصل کی۔
آیت اللہ بروجردی کی رحلت کے بعد آپ تہران چلے گئے اور تہران میں تبلیغ کے علاوہ تفسیر قرآن، اخلاق اور تفسیر زیارت جامعہ وغیرہ کا درس شروع کیا اور مختصر مدت میں آپ کے دروس میں شاگردوں کی بھیڑ نظر آنے لگی اور لوگوں کے درمیان آپ کی شہرت میں دن بدن اضافہ ہونے لگا۔
آیت اللہ ضیاء آبادی درس و تدریس کے علاوہ فلاحی امور میں بھی پیش پیش رہتے تھے غریب لوگوں کی بچیوں کی شادیاں کروانا اور ان کے لیے جہیز کا اہتمام کرنا یا بے گھر لوگوں کے لیے گھروں کا انتظام کرنا اور فقیروں کی دستگیری کرنا آپ کی روز مرہ زندگی کا حصہ تھا۔
.............
242