13 اکتوبر 2020 - 13:34
مشہور اطالوی مستشرق اور قرآنی محقق کا انتقال پرملال

مرحوم ان دانشوروں میں سے ایک تھے جو مغرب میں اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے میں کوشاں رہتے تھے۔ وہ یورپ میں مسلمانوں کی مدد کرنے اور اسلامی مراکز میں منعقد ہونے والی کانفرنسوں شرکت کرنے میں پیش پیش رہتے تھے اور اپنی تقریریوں کے ذریعے مغربی ممالک میں اسلام کے خلاف پائی جانے والی سازشوں کو بے نقاب کرنے میں مصروف عمل تھے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مشہور اطالوی مستشرق، اسلامی اسکالر اور محقق قرآن پروفیسر "ماسیمو کیمپانینی" (Massimo Campanini)) انتقال کر گئے۔
یہ اطالوی دانشور9 اکتوبر 2020 کو 65 سال کی عمر میں اچانک دار فانی سے رخصت ہو گئے۔
مرحوم ان دانشوروں میں سے ایک تھے جو مغرب میں اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے میں کوشاں رہتے تھے۔ وہ یورپ میں مسلمانوں کی مدد کرنے اور اسلامی مراکز میں منعقد ہونے والی کانفرنسوں شرکت کرنے میں پیش پیش رہتے تھے اور اپنی تقریریوں کے ذریعے مغربی ممالک میں اسلام کے خلاف پائی جانے والی سازشوں کو بے نقاب کرنے میں مصروف عمل تھے۔
اٹلی کی اسلامی یونین (UCOII) نے مرحوم کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ایک تعزیتی پیغام جاری کیا ہے۔ یونین کے تعزیتی پیغام میں آیا ہے: "انتہائی افسوس کے ساتھ، مسلمان مفکر، مشرقی تاریخ شناس اور محقق، کہ جنہوں نے دانشگاہی تحقیقات میں بڑا کردار ادا کیا اور ۵۰ سے زیادہ کتابیں اور ۱۰۰ سے زیادہ مقالے تالیف کئے، انتقال کر گئے"۔
اس یونین نے دنیا کے تمام مسلمانوں سے درخواست کی ہے کہ کورونا بیماری کے پھیلاؤ کی وجہ سے مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے مجالس کا انعقاد عمل میں لانا دشوار ہے لہذا تمام مسلمانوں سے انفرادی طور پر مرحوم کے لیے دعا کی اپیل ہے۔
ماسیمو کیمپانینی (Massimo Campanini)) کا مختصر تعارف
اطالوی ممتاز مستشرق اور مترجم ماسیمو کیمپانینی ، 3 نومبر 1954 کو پیدا ہوئے۔
انہوں نے 1977 میں میلان سرکاری یونیورسٹی کے فیکلٹی آف لٹریچر اور فلسفہ سے گریجویشن کیا  ۔
کیمپانینی اسلامی ثقافت کے بارے میں اپنی تحقیق کا حصہ مکمل کرنے کے لئے 1981 میں مصر کا سفر کیا۔ ان کا مصر کا سفر اور قرآن پاک کے ایک اطالوی ترجمے کی خریداری نے انہیں عربی سیکھنے اور اسلامی ثقافت پر تحقیق کرنے کی ترغیب دی۔ اس کے نتیجے میں ، انہوں نے "اطالوی انسٹی ٹیوٹ برائے مشرق وسطی اور ادبیات عرب میں" اطالوی لومبارڈی میں اپنی تعلیم جاری رکھی اور سن 1984 میں گریجویشن کیا۔
اس کے بعد کیمپانینی نے "قرآن اور سنت"، "معاصر مشرق وسطی کی تاریخ " اور "مسلم سیاسی فکر اور فلسفی روایت" میں مہارت حاصل کی۔
وہ مشرق وسطی اور عرب دنیا کے قابل اعتماد مورخین میں سے ایک تھے ، اسی طرح اسلامی فلسفہ کے پروفیسر بھی تھے ، اور اطالوی زبان کے علاوہ عربی ، فرانسیسی اور ہسپانوی زبان میں بھی روانی رکھتے تھے ۔
ان کی تحقیقی دلچسپی چار موضوعات پر مرکوز رہی:
1) قرآنی علوم۔ 2) اسلامی فلسفہ ، (قرون وسطی اور عصری دونوں)۔ 3) اسلامی سیاسی فکر؛ )) عرب ممالک کی معاصر تاریخ،  عرب اسلامی سوشلزم کی انتہا پسند تحریکوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ ۔
انہوں نے اسلام اور اسلامی فلسفے پر بہت ساری تصنیفات شائع کیں، جن میں سب سے اہم کتاب "قرآن و تفسیر" تھی ، جو متعدد بار شائع ہوچکی ہے۔ اس کتاب میں ، انہوں نے اسلام کی تاریخ کو سیاسی نظریے کی شکل میں قارئین کے لیے پیش کیا اور محض دینی نظریہ کو مسترد کردیا اور مذہب میں سیاست کی موجودگی اور سیاست میں دین کی دخالت کو ضروری سمجھا ہے۔
انہوں نے بہت سی یونیورسٹیوں میں ٹیچنگ کی؛ اوربینو ، اورینٹل نیپلس یونیورسٹی؛ ٹورنٹو ، سان رافیل اور انسٹی ٹیوٹ فار ایڈوانس اسٹڈی۔
پروفیسر کیمپانینی نے 50 سے زیادہ کتابیں  اور 100 علمی مضامین بھی  تصنیف کیے ہیں۔ "اسلام اور سیاست"، "معاصر اسلامی نظریہ" ، "مصر کی تاریخ عرب فتح سے موجودہ دور تک" ، "بیسویں صدی میں قرآن مجید کی تفسیر" اور "اسلام میں فکر" ، مرحوم کے معروف قلمی آثار ہیں۔
انہوں نے اپنی کتابوں اور مضامین میں عرب دنیا کی تاریخ اور اس کی تہذیبی کشادگی کو یاد کیا اور انتہا پسندی اور دہشت گرد گروہوں کے عروج پر سلطنت عثمانیہ کے خاتمے اور یورپی نوآبادیاتی پالیسیوں کے اثرات پر زور دیا۔
مرحوم کیمپانینی نے کلاسیکی مصنفین جیسے غزالی ، ارورا اور فارابی کے ترجمہ شدہ آثار کے ذریعے اسلامی فلسفے کو ترقی دینے کی کوشش کی۔  عصری تاریخ میں، انہوں نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کی تشکیل میں سامراجیت کے کردار کے بعد اسلام اور جمہوریت کے مابین تعلقات کے حوالے سے پیدا ہونے والیے مسائل پر روشنی ڈالی۔
حالیہ برسوں میں ، کیمپانینی نے قرآنی علوم میں اپنے مطالعہ کو تیز کر دیا اور کوشش کرتے تھے کہ تفسیر قرآن کو فلسفی نگاہ سے پیش کریں اور انہوں نے اس تفسیر کو فلسطینی علم قرآن کا نام دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآنی تحقیق نہ صرف فلسفیانہ طریقوں سے ہی ممکن ہے ، بلکہ خود قرآن ایک فلسفیانہ کتاب ہے۔
کیمپانینی نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بارے میں بھی ایک کتاب تحریر کی، جس میں انہوں نے آخری الہی پیغمبر کی زندگی کو ایک مورخ کے نقطہ نظر سے تحریر کیا۔
یہ اطالوی دانشور جو نومبر 2016   میں سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہوئے تھے، 9 نومبر 2020 بروز جمعہ کو 65 سال کی عمر میں اچانک انتقال کر گئے۔
........

242