3 اکتوبر 2020 - 21:38
انگریزی شیعہ کون ہیں؟ چھٹی قسط

شیرازی فرقے کے ٹی وی چینلوں کی تاسیس کا آغاز سنہ 2003ع‍ میں عراق پر امریکی اور برطانوی قبضے کے زمانے سے ہوا ہے اور زیادہ تر چینل سنہ 2003ع‍ اور سنہ 2013ع‍ کے عرصے کے دوران معرض وجود میں آئے ہیں اور بڑی آزادی کے ساتھ شیعیان اہل بیت(ع) کے درمیان بھی اور شیعہ اور سنی کے درمیان بھی اختلاف انگیزی کے سلسلے میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جائزوں اور تحقیقات کے مطابق سنہ 2014ع‍ کے آخر تک انگریزی فرقے کے 14 سیٹلائٹ ٹی وی چینل کام کررہے تھے اور سنہ 2015ع‍ میں دو مزید چینلوں کا افتتاح کیا گیا۔ این چینلوں کی تاسیس کا مقصد لندن نشین مرجعیت کا خواب شرمندہ تعبیر کرکے مختلف زبانوں میں اس فرقے کے افکار کو دنیا کے گوشے گوشے میں رائج کرنا ہے۔ شیرازی فرقے کے ٹی وی چینلوں کی تاسیس کا آغاز سنہ 2003ع‍ میں عراق پر امریکی اور برطانوی قبضے کے زمانے سے ہوا ہے اور زیادہ تر چینل سنہ 2003ع‍ اور سنہ 2013ع‍ کے عرصے کے دوران معرض وجود میں آئے ہیں اور بڑی آزادی کے ساتھ شیعیان اہل بیت(ع) کے درمیان بھی اور شیعہ اور سنی کے درمیان بھی اختلاف انگیزی کے سلسلے میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
گوکہ ان چینلوں کو حقیقیتا برطانوی حکومت کی وزارت خارجہ اور ایم آئی 6 کے ساتھ ساتھ بنی سعود اور بنی نہیان کی مالی حمایت حاصل ہے لیکن انھوں نے پوری دنیا میں عوامی چندہ جمع کرنے کے لئے بھی مختلف قسم کے اکاؤنٹس اور دفاتر متعارف کروائے ہیں تاکہ ان چینلوں کے سادہ لوح ناظرین اپنی مالی امداد ان اکاؤنٹس اور دفاتر میں جمع کروائیں اور یوں انگریزی فرقے کے سرغنے یہ جتانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ گویا یہ چینل بالکل خودمختار ہیں، برطانیہ نیز امریکہ مذہب تشیّع کے ساتھ ہمدردی!!! کی بنا پر انہیں اپنی سرزمینوں میں ان کی سرگرمیوں کی اجازت دیئے ہوئے ہیں! حالانکہ ایک بچہ بھی جانتا ہے کہ تشیع اور اس کے تمام مظاہر کا اصل دشمن امریکہ اور برطانیہ اور ان کے کٹھ پتلی عرب حکمران ہیں۔
1۔ [انگریزی ورژن کا] مرجعیت چینل: یہ چینل فارسی، عربی اور انگریزی میں مختلف پروگرام نشر کرتا ہے: شرعی سوالات کا جواب دیتا ہے اور دوسرے منحرف مراکز اور چینلوں کا تعارف کرواتا ہے اور انحرافی حلقے کو وسعت دینے کی کوشش کرتا ہے۔
2۔ عالمی امام حسین(ع) چینل1: یہ فارسی چینل "احیائے امرِ اہل بیت (علیہم السلام)" کے نام پر رائے اپنے مفاد کے حصول کے لئے رائے عامہ کی سِمت بَندی کی غرض سے معرض وجود میں لایا گیا ہے۔ اس چینل کا مرکزی دفتر کربلائے معلّٰی میں سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کے حرم مطہر کے قریب واقع ہے اور شب و روز کے زیادہ تر اوقات میں حرم مطہر کے کیمروں کی لی ہوئی تصاویر شائع کرنے میں مصروف رہتا ہے مگر اصل مقصد رائے عامہ کی سمت بندی ہے۔
3۔ عالمی امام حسین(ع) چینل2: یہ چینل بھی چینل 1 کے اہداف و مقاصد کے لئے تاسیس کیا گیا ہے فرق صرف یہ ہے کہ چینل اپنے پروگرام عربی میں نشر کرتا ہے۔
4۔ عالمی امام حسین(ع) چینل3: یہ چینل پہلے اور دوسرے چینل کا انگریزی نسخہ (ورژن) ہے۔
امام حسین علیہ السلام کے نام گرامی سے کام کرنے والے چینل عام طور پر امام حسین علیہ السلام سے متعلق افکار و عقائد کی ترویج کرتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ یہ افکار و عقائد برطانوی حکومت کی تلقینات اور پالیسیوں سے مطابقت رکھتے ہیں اور ان کا مکتب امامت سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔
5۔ سلام چینل: اس چینل نے اپنا کام سنہ 2005ع‍ سے شروع کیا ہے اور اس کا دعوی ہے کہ اس کا کسی بھی سیاسی جماعت اور گروہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس چینل کا ڈائریکٹر امریکہ کا رہائشی "محمد ہدایتی" ہے۔ یہ شخص اسلامی جمہوریہ ایران اور ولایت فقیہ کا شدید دشمن سمجھا جاتا ہے۔ سنہ 2009ع‍ میں صدارتی انتخابات کے بعد امریکہ اور یورپ نیز یہودی ریاست اور ان کے کٹھ پتلی عرب خفیہ اداروں نے ایران میں فتنہ کھڑا کیا تو سلام چینل نے فتنہ پروروں کی حمایت کی جس کے بعد اس کے زیادہ تر ناظرین اور مخاطَبین نے اس چینل پر تنقید کی اور اس سے الگ ہوگئے۔ اور یوں اس چینل کو شدید نقصان پہنچا۔
6۔ عالمی الزہراء(س) چینل: ہاٹ برڈ سیٹلائٹ چینل سے فارسی، عربی، انگریزی اور ترکی میں اپنے پروگرام نشر کرتا ہے۔
7۔ "المہدی(ع) چینل": یہ چینل امام مہدی(ع) اور مہدویت سے متعلق تعلیمات کو انگریزی سمت بندی کے مطابق نشر کرتا ہے۔
8۔ ظہور
9۔ امام زمان
10۔ فورٹین (14) سیٹلائٹ چینل: یہ چینل 24 گھنٹے مسلسل پروگرام نشر کرتا ہے کسی سے بھی مالی معاونت کی درخواست نہیں کرتا، اس کے پروگرام عربی میں ہوتے ہیں۔ اس چینل میں خاص طور پر امام حسین علیہ السلام کے لئے قمہ زنی کی پرچار کا خصوصی اہتمام ہوتا ہے اور اس چینل کے نام نہاد ماہرین قمہ زنی کو مستحب قرار دیتے ہیں؛ گوکہ ان کے پاس اس کے اثبات کے لئے کوئی معقول یا منقول دستاویز نہيں ہے اور وہ ایسی کوئی دستاویز یا سند پیش کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے!!!
11۔ انوار الحسین چینل: یہ چینل بھی سنہ 2004ع‍ سے تین سیارچوں سے اپنے پروگرامات نشر کررہا ہے۔ اس کا مرکزی دفتر کویت میں واقع ہے۔ یہ چینل ـ خاص طور پر عراق میں ـ انگريزی شیعوں کا بہت اہم چینل سمجھا جاتا ہے اور انگریزی تشیّع کے افکار کو براہ راست لندن ہی سے نشر کرتا ہے۔
12۔ بقیع چینل: اس چینل کی بنیاد آج سے چند سال پہلے اہل تشیّع کی صدا دنیا تک پہنچانے اور ائمۂ معصومین علیہم السلام کی مظلومیت بیان کرنے کے عنوان سے رکھی گئی ہے لیکن اس میں تشیّع کی صدا پہنچانے اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے بجائے دوسرے اسلامی فرقوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور اتحاد بین المسلمین ہی نہیں، اتحاد بین المؤمنین کو بھی پارہ پارہ کیا جاتا ہے۔
13۔ العقیلۃ چینل: یہ چینل ویسے تو سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے نام پر قائم کیا گیا ہے لیکن اس میں دفاع حرم کی کوئی بات سننے کو نہیں ملتی۔
14۔ امام صادق(ع) چینل
15۔ عالمی چینل حضرت خدیجہ(س): یہ چینل جنوب ایشیائی زبانوں ـ بشمول اردو ـ میں [برطانوی ڈکٹیشن کے مطابق] مذہبی پروگرام نشر کرتا ہے۔
16۔ سلام چینل: سنہ 2005ع‍ سے اپنے کام کا آغاز کیا ہے۔ اس چینل کا بانی امریکہ کا رہائشی شیخ محمد ہدایتی ہے اور امریکہ اور برطانیہ کے خفیہ اداروں کی ہدایات کے مطابق اپنے پروگرام بڑی آزادی سے انگریزي اور فارسی میں نشر کرتا ہے۔

بقلم ابواسد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۱۰