14 اگست 2020 - 11:04
یوم پاکستان پر کشمیری عوام کے حقوق کی بازیابی کے لیے جد و جہد کرنے کا عہد کرتے ہیں

علامہ ساجد نقوی نے مزید کہاکہ بانی پاکستان نے فرمایا تھا کہ کشمیر شہ رگ ہے، یوم پاکستان پر عہد کیا جائے کہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق، تشخص اور جغرافیہ کے تحفظ کےلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائےگا،

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 14اگست یوم آزادی پاکستان پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ وطن عزیز اس وقت تاریخ کے انتہائی نازک ترین دور سے گزر رہا ہے، ان حالات میں تحریک پاکستان کا وہ جذبہ بیدار کرنے کی ضرورت ہے جو تشکیل پاکستان کے وقت تھا جب پرجوش عوامی جدوجہد سے تکمیل پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ، ہم آج کے دن عہد کرتے ہیں کہ دفاع وطن کےلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔

علامہ ساجد نقوی نے مزید کہاکہ بانی پاکستان نے فرمایا تھا کہ کشمیر شہ رگ ہے، یوم پاکستان پر عہد کیا جائے کہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق، تشخص اور جغرافیہ کے تحفظ کےلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائےگا، ملکی امن و استحکام ، خارجی مسائل کے ساتھ داخلی مسائل و بحرانوں کے خاتمے کےلئے بھی یکسوئی یکجہتی دکھائیں گے ۔ہم دشمن کےخلاف متحد و متفق ہیں، زندہ قومیں ہمیشہ وقار کے ساتھ جیتی ہیں۔

یوم آزادی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ ارض پاک کو آزاد ہوئے 7 دہائیوں سے زائد عرصہ بیت چکا لیکن افسوس ہم ابھی تک داخلی طور پر اتنے مضبوط نہیں ہوئے جو وقت کا تقاضا تھا ، ہمیں یوم آزادی کے موقع پر ان مسائل اور تلخ ماضی سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے بلکہ مسائل کے حل اور مشکلات کے خاتمے اور درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے نئے عزم کے ساتھ جدوجہد کاآغاز کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان کو ترقی، خوشحالی، استحکام اور مضبوطی تب حاصل ہو سکتی ہے جب ملک میں عادلانہ نظام کا نفاذ کیا جائے ، ظلم، ناانصافی اور طبقاتی تفریق اور توازن کی ظالمانہ پالیسی کو ختم کیا جائے ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آئین کی بالادستی اور قانون کی پابندی کو یقینی بنایا جائے ، ملک سے بے روزگاری، رشوت ستانی، جہالت، فحاشی، عریانی، ناانصافی کا خاتمہ کیا جائے، اتحاد بین المسلمین اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے، تمام طبقات کے درمیان قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے، جب تک ہم مذکورہ بالا تمام امور پر سختی سے عمل پیرا نہیں ہوتے، اس وقت تک ہم داخلی استحکام کی جانب گامزن نہیں ہوسکتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲