24 مارچ 2020 - 11:04
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا مسلمین عالم کے نام نوروز پیغام

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اپنے پیغام میں گزشتہ سال کے ناگوار اور خوشگوار واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں عالم اسلام کے لیے ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آیت اللہ رمضانی نے ایرانی سال 1399 ہجری شمسی کے آغاز پر مسلمین عالم کے نام ایک پیغام جاری کیا ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اپنے پیغام میں گزشتہ سال کے ناگوار اور خوشگوار واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں عالم اسلام کے لیے ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کیا ہے۔
آیت اللہ ’’رضا رمضانی‘‘ کے نوروز پیغام کا ترجمہ حسب ذیل ہے؛

بسم لله الرحمن الرحیم
یا مُقَلِّبَ القُلُوبِ و الأبصار؛ یا مُدَبِّرَ اللَّیْلِ و النَّهَار؛ یا مُحَوِّلَ الحَوْلِ و الأَحوَال؛ حَوِّلْ حالَنَا إلی أحسَنِ الحال
سال 1399، جو شمسی حساب و کتاب کی بنا پر ایک نیا سال ہے، رجب المرجب 1441 ھ کے مقدس مہینے میں شروع ہوا ہے۔
یہ سال اہل بیت اطہار(ع) کی ساتویں کڑی امام موسی بن جعفر علیہما السلام کے نام اور ان کی یاد سے شروع ہوا اور اس کے ابتدائی ایام میں اسلام کی ایک عظیم عید ’’عید بعثت‘‘ واقع ہوئی ہے۔
یہ ملاپ اور یہ مناسبتیں انشاء اللہ برکتوں، عنائیتوں اور نبی اکرم (ص) اور آپ کے اہل بیت علیہم السلام کی خاص توجہات کا سبب بنے گیں۔ اور ہمیں امید ہے کہ ان ذوات مقدسہ کے لطف و کرم سے امت اسلام پر بند دروازے کھل جائیں گے۔
گزشتہ شمسی سال 1398 (جو 21 مارچ 2019  سے شروع ہوا اور 19 مارچ 2020 پر ختم ہوا) میں مسلمانوں اور شیعوں کے لیے بہت سارے ناگوار اور بہت سارے خوشگوار واقعات رونما ہوئے۔
قدرتی آفتوں جو اس دنیا کا لازمہ ہیں کے نزول کے علاوہ عالم استکبار کے ہاتھوں بھی بہت ساری مشکلات اور مصیبتیں مظلوم مسلمانوں کے دامنگیر ہوئیں۔
ان ناگوار واقعات میں سے عراق و لبنان میں غیرملکی سفارتخانوں کے اکسائے جانے پر پیش آنے والے واقعات کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے جو مزاحمتی محاذ کو کمزور بنانے کی غرض سے وجود میں لائے گئے۔
اس کے علاوہ گزشتہ سارا سال ہم نے نائیجیریا میں شیخ زکزاکی اور ان کی زوجہ کے ساتھ پیش آنے والے حالات کو بھی دیکھا کہ ان کے علاج کی راہ میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور ان کا علاج نہیں ہونے دیا، جبکہ شیخ کے بعض ساتھیوں کی شہادت بھی واقع ہوئی۔
علاوہ از ایں، ایک ناقابل فراموش سانحہ جو گزشتہ سال رونما ہوا وہ ایران اور عراق کے دو عظیم شخصیتوں ’’شہید قاسم سلیمانی‘‘ اور ’’ابومہدی المہندس‘‘ کا بزدلانہ قتل تھا۔ ٹرمپ حکومت کا یہ اقدام اگر چہ بہت ہی ناگوار واقعہ تھا لیکن اس نے پوری دنیا میں ایک مرتبہ پھر اسلامی انقلاب کے اقدار میں تازہ روح پھونک دی۔ دو ملکوں کے آٹھ شہروں میں ان دو شہیدوں اور ان کے ساتھیوں کا عظیم الشان تشییع جنازہ کیا جانا، اور اس کے بعد عراقی پارلیمنٹ میں امریکی قابض فوج کے انخلاء کے لیے بل منظور کیا جانا، اور پھر اس بل کی حمایت میں بغداد میں ملین مارچ کا انعقاد، یہ وہ تاریخی واقعات ہیں جو ایرانی اور عراقی اقوام نے دنیا والوں کو دکھلائے ہیں۔

مختلف ممالک میں مسلمانوں اور شیعوں کے ساتھ جاری ظلم و ستم - جیسے افغانستان اور پاکستان میں مسلسل قتل عام، بحرینی قیدیوں کے سنگین حالات، سعودی عرب میں اجتماعی پھانسی، یمن میں مسلسل بے گناہوں کا قتل، فلسطین میں صہیونیوں کا تشدد اور کوموروس میں ’سید احمد سامبی‘  کی غیر قانونی قید وغیرہ نے انسانی حقوق کی دعویدار عالمی شخصیتوں کا چہرہ بدنما کر دیا ہے۔  
پچھلے سال کے وسط میں جو کچھ کشمیر میں ہوا اور سال کے آخر میں جو کچھ بھارت میں خصوصا دہلی میں رخ پایا، نے مسلمانوں کے دلوں کو مزید رنجیدہ کیا۔
دنیا کے تمام لوگوں اور مسلمانوں کے لئے ایک اور المیہ جو ابھی تک پوری دنیا میں ہزاروں افراد کے دامنگیر ہو چکا ہے کورونا وائرس کا پھیلاؤ ہے۔  
اس دوران، ایرانی قوم کے خلاف جرائم پیشہ امریکی حکومت کی غیر قانونی اور ظالمانہ پابندیاں بھی پچھلے سال کا حصہ تھیں۔ ’شیطان بزرگ‘ کی جانب سے پابندیوں کا یہ سلسلہ ان سنگین حالات اور مشکلات میں بھی نہیں رکا جب ایران کو طبی اشیاء اور دواؤں کی شدید ضرورت ہے، امریکہ اس مشکل وقت میں بھی اپنی غیر قانونی اور ظالمانہ پابندیوں کو جاری رکھ کر اپنی استکباریت اور سامراجیت کا ثبوت پیش کر رہا ہے۔  
لیکن ان تلخیوں کے مقابلہ میں، مسلمانوں کو بڑی بڑی فتوحات بھی حاصل ہوئی ہیں۔
عاشورا اور اربعین حسینی کا جوش و خروش، جس کی انسانی جہت میں سال بہ سال اضافہ ہوتا جارہا ہے، امریکہ کے جاسوسی اور عالمخوار ڈراونز کی ابہت کو توڑنا اور عین الاسد کو شکست سے دوچار کرنا، عالم اسلام کی جانب سے امریکی صہیونی منصوبے ’صدی کی ڈیل‘ کو منسوخ کرنا، یمن کے عوامی مزاحمتی دھڑوں کی جارحین کے مقابلے میں بے نظیر کامیابیاں، عراق اور لبنان میں صہیونی پروپیگنڈوں کے مقابلے میں اسلامی مزاحمتی گروہوں کی کامرانیاں، دھشتگردوں کے منحوس وجود سے شام کے اکثر علاقوں کی آزادی، قاسم سلیمانی کے تشییع جنازہ کے ساتھ عالمی سطح پر مزاحمتی عزم کا اظہار اور مسلمان دانشوروں کی علمی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں کامیابیاں وہ امور ہیں جو تلخیوں کے ساتھ ساتھ خوشیاں اپنے دامن میں سمیٹ کر آئیں ہیں۔   
ایران میں پارلیمانی انتخابات کا شاندار انعقاد پچھلے سال کی ایک اور خاص بات تھی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے باشعور اور سمجھدار عوام نے انتخابات میں بھرپورحصہ لیا اور اپنے نظام کے مستقبل کے سیاسی راستے کو نشان زد کیا تاکہ تمام تر دباؤ اور کوتاہیوں کے باوجود معاشرے میں امید کی روح پھونک دی جائے، لیکن اس کے باوجود غیر ملکی میڈیا نے، اسلامی جمہوریہ نظام کو ناکارہ ثابت کرنے اور یہ دکھانے کے لیے کہ عوام نے اپنا حق رائے استعمال نہیں کیا، کوئی لمحہ فروگذاشت نہیں کیا۔  
ڈاکٹروں، نرسوں، اور تمام طبی عملے سے لیکر جہادی اور رضاکار فورس تک تمام حفظان صحت نے کورونا وائرس کے ساتھ فرنٹ لائن پر مقابلہ کرکے جانثاری اور فداکاری کے خوبصورت نمونے پیش کیے ہیں۔
یہ تمام تلخ اور شیریں واقعات پچھلے سال میں ایک قسم کا الہی امتحان تھا، وہ امتحان اور وہ آزمائش جو سنت الہی کا حصہ اور دنیا کا لازمہ ہے اور اہل بیت (ع) کے پیروکاروں کو اس امتحان میں سربلند ہونا ہے تاکہ دنیا امام عصر (عج) کے ظہور کے لیے آمادہ ہو اور عدل و انصاف قائم ہو۔
اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی میں بھی گذشتہ سال اندرونی طور پر کچھ تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں یہ تبدیلیاں اس کے بنیادی ڈھانچے کے علاوہ جنرل اسمبلی کے اراکین میں بھی رونما ہوں گی تاکہ اسمبلی اپنی سرگرمیوں کی چوتھی دہائی کے آغاز پر پوری دنیا کے شیعوں اور اہل بیت(ع) کے پیروکاروں کی ضروریات کو پورا کرنے میں کامیاب ہو سکے۔  
میں یہاں پر ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک بار پھر رہبر انقلاب اسلامی کا شکریہ ادا کروں کہ آپ نے مجھے اس قابل سمجھا کہ میں پیروان اہل بیت(ع) کی خدمت کر سکوں۔ میں آںجناب کو اطمینان دلاتا ہوں کہ یہ مرکز اخلاص و مجاہدت کے ساتھ انقلاب کی راہ پر گامزن ہو گا جیسا کہ آنجناب نے میری تقرری کے حکم میں فرمایا تھا یہ ادارہ خالص اسلام کی نشر و اشاعت اور اسلامی امت کے اتحاد و یکجہتی کی راہ کو جاری رکھے گا۔
نیز یہ بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ اعلیٰ کونسل کے تمام اراکین، جنرل اسمبلی اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی سے مرتبط دنیا کے کونے کونے میں موجود ثقافتی مراکز اور مقامی تنظمیں سب کا خلوص دل سے شکریہ ادا کروں کہ جو تمام کمیوں، کوتاہیوں اور مشکلات کے باوجود، پیروان اہل بیت(ع) کی فکری، ثقافتی اور سماجی ارتقاء کے لیے روز و شب کوشاں ہیں۔
آخر میں بہار کے پرنشاط ایام کی آمد پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے امید کرتا ہوں کہ نیا سال 1399 ہمدردی، مہربانی، محبت اور شفقت کے جذبات کو باٹنے کا سال ہو گا اور خداوند عالم کے فضل و کرم، اور رہبر انقلاب کی حکیمانہ ہدایتوں کی بدولت ہم ملک کی ’پیداوار میں اچھال‘ اور دشمنوں کی شکست اور سرنگونی کا مشاہدہ کریں گے۔ تاکہ ان سختیوں کے خاتمہ پر اسلام کی عظمت و بالادستی کی نئی صدی کا آغاز ہو۔ ﴿ إنَّ مَعَ العُسرِ يُسرا﴾ و ﴿ ألَا إِنَّ نَصرَ اللَّهِ قَرِيب﴾.
والحمد لله رب العالمین
رضا رمضانی
سیکرٹری جنرل
یکم فروردین ۱۳۹۹
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲