امریکہ کی ایک تجزیاتی سائٹ [۱]نے عراق میں واشنگٹن کی جانب سے پائی جانے والی اتھل پتھل اور آشفتگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سے عراقیوں کے نزدیک صدام نے عراق میں جو جہنم بنایا تھا وہ امریکہ کی اس بہشت سے کہیں بہتر تھا جو امریکہ نے عراق میں تیار کی ہے ۔
فارس بین الاقوامی نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ[۲] کے مطابق امریکہ کی اس سائٹ نے اپنی Carlo J.V. Caro کی جانب سے تایر کی گئی ایک رپورٹ میں عراق کے بگڑتے حالات کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس بات کو بیان کیا ہے کہ ۲۰۰۳ء میں عراق پر واشنگٹن کے حملے کے بعد امریکہ نے جو حالات عراق کے لئے رقم کئے خاص کر سپاہ پاسداران اسلامی کی قدس شاخ کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو بغداد کے ائیر پورٹ کے نزدیک شہید کر کے امریکہ نے جو فضیحت اپنے لئے بٹوری ہے وہ ایسی ہے کہ بہت سے عراقی یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ صدام نے عراق میں جو حالات پیدا کئے تھے اور جو جہنم بنایا تھا وہ اس بہشت سے کہیں بہتر تھا جسکا وعدہ واشنگٹن نے اس ملک کو دیا تھا ۔
اس رپورٹ کی ابتدا میں عراق کے موجودہ حالات اور وہاں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بات رقم کی گئی ہے کہ اس مہینہ میں امریکہ کے ایک ڈرون حملے کے بعد جو کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس شاخ کے کمانڈر کی شہادت کا سبب بنا عراق کی پارلیمنٹ نے امریکہ کے عراق سے نکل جانے کے بارے میں ووٹنگ کرتے ہوئے اس بات کو منظوری دی کہ امریکہ عراق چھوڑ دے ۔
دوسری طرف ڈونالڈ ٹرنپ نے عراق کے اس اقدام کا جواب پابندیاں لگانے کی دھمکی کی صورت دیا اور جس طر واشنگٹن اگزامنر نے وضاحت کی ہے اسکے بموجب عراق و امریکہ کے درمیان یہ ناگہانی دشمنی کا اظہار ایک ناامید کرنے والی حقیقت کا عکاس ہے ۔
اس رپورٹ میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ عراق پر تقریبا دو دہائیوں سے قبضے کے بعدسے لیکر اب تک یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ امریکہ اب ایک ناپائدار ملک میں تبدیل ہو گیا ہے اور اپنی فوجی طاقت کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور ہتھکنڈہ نہیں ببچا ہے جسے استعمال کر سکے ، اور کسی ملک کو دبانے یا چپ بٹھانے کے لئے اس کے پاس اور راستہ نہیں ہے جبکہ عراق کے اندر مکمل نفوذ اور عراق کی کل طاقت ایران کے ہاتھ میں ہے۔
اس رپورٹ کے ایک حصے میں صدام کے دور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس بات کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ عثمانی سلطنت کے دوران ، اور عراق میں صدام کے دور حکومت میں ہزاروں کی تعداد میں عراق سے شیعوں کو نکال دیا گیا اور انہوں نے ایران کی طرف ہجرت کی جبکہ یہی لوگ صدام کا تختہ پلٹتے ہی اپنے ملک واپس پہنچ گئے۔
اس امریکی سائٹ نے اس کے بعد شہید سلیمانی کی لوگوں کے درمیان محبوبیت کو بیان کرتے ہوئے ایران اور عراق کے دوستانہ تعلق کی طرف اشارہ کیا ہے اور لکھا ہے کہ عراق کے بہت سے سیاسی حکام و عمائدین وہ ہیں جنہیں صدام کے دور حکومت میں عراق سے نکال دیا گیا تھا اور انہوں نے ایران میں پناہ لی تھی اور ایران نے انہیں قبول کیا تھا یہ وہ لوگ ہیں جنکے شہید سلیمانی سے ذاتی اور بہت گہرے دوستانہ تعلقات تھے ان سیاسی اہلکاروں اور حکام میں جنکے شہید سلیمانی سے دیرینہ تعلقات تھے قاسم الاعرجی ، کا نام لیا جا سکتاہے جو کہ بدر آرمی کے ایک رکن ہیں اور ۲۰۱۷ ء سے ۲۰۱۸ ء تک عراق کے وزیر داخلہ رہے ہیں ، اسکے علاوہ ہاد ی العامری ٹرانسپورٹ کے سابقہ وزیر اور پارلیمنٹ میں الوطنیہ متحدہ محاذ کے ایک رکن کی طرف بھی اشارہ کیا جا سکتا ہے جن کے قاسم سلیمانی کے ساتھ گہرے تعلقات تھے ۔
اس امریکی سائٹ نے آگے چل کراس بات کو بیان کیا ہے کہ ایک عراق کی نظر میں امریکہ بادی النظر میں ایک حملہ آور ہے اس کے بعد ایک ایسا صنعت کار ہے جو کسی لائق نہیں ایسا تعمیر کار ہے جس کے اندر کوئی صلاحیت نہیں ہے ۔
عراق میں واشنگٹن نے جو اسٹراٹیجی اختیار کی ہوئی ہے اسکا حاصل یہی ہے کہ امریکہ روز بروز عراق سے دور ہوتا جا رہا ہے ۔
اس رپورٹ کے مطابق اس نفرت کے علاوہ جوعراقیوں کو امریکہ سے انکی سرزمین پر دھاوا بولنے کی بنیاد پر ہے ، ایک اور بڑی مشکل اور خطرناک بات جو عراقیوں کو امریکہ سے بد ظن کرتی ہے یہ ہے کہ صدام کے تختہ الٹ جانے کے بعد عراق میں موجود واشنگٹن کے حمایت یافتہ سیاست مداروں نے مغربی ایشیا کے ملک میں ایک سیاسی و مذہبی اختلاف کی ایسی ندی جاری کر دی جس کا نتیجہ داعش کے وجود کے طور پر سامنے آیا ۔
اس امریکی سائٹ نے ان تمام باتو ں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آخر میں عراق میں امریکہ کی جانب سے پیدا ہونےو الی آشفتہ حالی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عراق میں زیادہ تر اور خاص طور پر علاقائی لوگ اس جملے کو دہراتے نظر آتے ہیں کہ صدام حسین کا جہنم ہمارے لئے امریکی بہشت سے اچھا تھا کیا یہ بات قابل تعجب نہیں ہے ؟
حواشی
[۱] ۔https://www.washingtonexaminer.com/opinion/op-eds/saddam-husseins-hell-is-better-than-the-americans-paradise
[۲] ۔https://www.farsnews.com/news/13981022000332/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242