اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے نے اسلامی سال کے آغاز پر ماسکو میں مقیم مسلم ممالک کے سفراء اور اسلامی تنظیموں اور اداروں کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ شام کے مخالفین کو جنیوا کانفرنس 2 میں شرکت کا موقع دیا جارہا ہے اور اس کانفرنس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ لاؤروف نے منگل کے دن ماسکو میں فیصلہ کن انداز میں کہا ہے کہ جنیوا 2 کانفرنس کی شرکت ضروری ہے جو درحقیقت شام مخالف اتحاد کے سعودی ـ ترکی نواز سربراہ احمد جربا کی اس بات کا فیصلہ کن جواب تھا جس نے کانفرنس میں ایران کی شرکت کی مخالفت کی تھی۔ لاؤروف نے کانفرنس میں ایران کی شرکت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا ہے شام کے مسئلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا کردار ناقابل انکار ہے اور ایران کو علاقے میں اور شام کا مسئلہ حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کا پورا پورا حق ہے۔ انھوں نے مخالفین کی اس شرط پر حیرت کا اظہار کیا کہ ایران اس کانفرنس میں شرکت نہ کرے اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندوں کی شرکت ضروری ہے۔ انھوں نے کہا: احمد الجریا نے ایران کی عدم شرکت کے علاوہ دوسری شرطیں بھی اس کانفرنس کے لئے متعین کی ہیں جن میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ مخالف اتحاد اس شرط پر کانفرنس میں شرکت کرے گا کہ اس کانفرنس کے ایجنڈے میں صدر بشار اسد کی کنارہ کشی کے لئے ڈیڈلائن کا مسئلہ بھی شامل کیا جائے اور مخالفین کو باہر سے ہتھیاروں کی فراہمی میں اضافہ کیا جائے اور ہمارے خیال میں یہ مطالبات بہت عجیب اور حیرت انگیز ہیں کیونکہ یہ جنیوا 1 کانفرنس کے بیان کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جو فریق شام میں نظام حکومت اپنی مرضی کے مطابق بدلنے کے خواہاں ہیں ان کی کوشش ہے کہ حالات کی خرابی کی پوری ذمہ داری شام کی حکومت پر ڈال دیں حالانکہ بین الاقوامی امدادی اداروں کا اعتراف ہے کہ حکومت شام اپنے شہریوں کو امداد رسانی کے حوالے مکمل تعاون کررہی ہے۔ چند ماہ قبل جب امریکہ اور روس نے جنیوا کانفرنس 2 کے لئے کوششوں کا آغاز کیا تو دونوں نے اس کانفرنس میں علاقے کے اہم اور مؤثر ممالک کی حیثیت سے ایران، ترکی، سعودی عرب اور مصر کی شرکت پر زور دیا تھا۔ روس بھی اس کانفرنس میں ایران کی شرکت پر زور دے رہا ہے کیونکہ ایران ایک مؤثر ملک ہے جو حکومت شام اور روس کے ساتھ شام کے مسئلے کے پرامن سیاسی حل کے سلسلے میں متفق ہے۔ انھوں نے کہا: جنیوا 2 کانفرنس کا کوئی متبادل نہیں ہے لیکن شام میں مسلح دہشت گرد تنظیموں کے مالی اور عسکری حامیوں سمیت بعض ممالک اس کانفرنس کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔انھوں نے کہا: روس اور امریکہ جنیوا کانفرنس 2 کے انعقاد، اور تشدد کے خاتمے پر تمام فریقوں کے اتفاق، اور جنیوا کانفرنس 1 کی دفعات اور شقوق کے عین مطابق سیاسی عمل کے آغاز کے لئے مذاکرات کے آغاز اور ایران سمیت تمام مؤثر ممالک کی اس کانفرنس میں شرکت پر اصرار کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا: چونکہ امریکہ اور دہشت گردوں کے بعض علاقائی ممالک کے درمیان اختلاف کے پیش نظر، ہم اسلامی تعاون تنظیم کے ساتھ تعاون پر زور دیتے ہیں۔ ادھر اقوام متحدہ کے ایلچی اخضر الابراہیمی نے اقوام متحدہ ـ روس ـ امریکہ کی سہ فریقی نشست کے بعد ذرائع ابلاغ سے کہا کہ شام مخالف تنظیمیں ابھی تک جنیوا کانفرنس میں شرکت کے لئے تیار نہيں ہیں چنانچہ افسوس کا مقام ہے کہ روس اور امریکہ کے ساتھ ہماری نشست میں کانفرنس کی تاریخ کا تعین نہيں ہوسکا۔ انھوں نے کہا: میری کوشش ہے کہ جنیوا کانفرنس 2 نیا سال شروع ہونے سے پہلے ہی منعقد ہوجائے۔ انھوں نے مزید کہا: طے یہ پایا ہے کہ 25 نومبر کو ایک نیا سہ فریقی اجلاس منعقد کیا جائے اس امید کے ساتھ کہ جنیوا 2 کانفرنس کے لئے تاریخ معین کی جاسکے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
شہر حسکہ اور 20 قصبوں میں دہشت گردوں کا صفایا/ دمشق میں بم دھماکہ
شام: جنیوا کانفرنس میں شرکت کے لئے پیشگی شرط نامنظور + کارٹون