اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بثینہ شعبان نے کہا کہ مسئلہ اب یہ ہے کہ بعض لوگ عبوری کمیٹی اور اقتدار کی منتقلی کے لئے تشہیری مہم چلا رہے ہیں؛ انھوں نے خود ہی شام کے مخالفین کو منظم کیا ہے جو بیرونی قوتوں سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے روسی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: جس طرح کہ روسی وزیر خارجہ لاؤروف نے کہا ہے، موجودہ حالات میں مفاہمت کے معنی یہ ہیں کہ کانفرنس میں بغیر کسی شرط کے شرکت کی جائے چنانچہ ہم جنیوا کانفرنس میں شرکت کے لئے اس لئے جارہے ہیں کہ روس اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمت سے استفادہ کرکے دہشت گردی کا انسداد کریں اور تشدد کا سد باب کریں اور دوسرے شامیوں کے ساتھ ایک پرامن سیاسی عمل پر اتفاق رائے حاصل کریں تا کہ پھر اس بات کی ضرورت نہ ہو کہ سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل کی رائے کی ضرورت نہ ہو اور وہ یہ دعوی نہ کریں کہ مخالف گروپوں کا اتحاد شامی عوامی کا حقیقی نمائندہ ہے۔ انھوں نے کہا: مخالفین کا اتحاد سعودی عرب کا ترجمان اور سعودی خفیہ ادارے کا نمائندہ ہے۔ انھوں نے کہا: ہم پوچھتے ہیں کہ یہ اتحاد شام میں کس کا نمائندہ ہے؟ کیا وہ جبہۃالنصرہ کا نمائندہ ہے یہ القاعدہ کا؟ انھوں نے شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ شام کی حکومت ایک قانونی حکومت ہے اور جو بھی شامی عوام کے مفاد میں ہوگا ہم انجام دیں گے۔ انھوں نے کہا: پہلی بات تو یہ ہے کہ شام کے مخالفین ایک جماعت کا نام نہيں ہے بلکہ وہ الگ الگ تنظیمیں ہیں اور ہر تنظیم کے اپنے اپنے خیالات ہیں تاہم ہم اپنے شامی مخالفین سے شام کی سرزمین کی یکجہتی اور سالمیت اور ملک میں امن و امان لوٹانے کے موضوع پر بات کریں گے۔ انھوں نے کہا: شام کے حقائق اور ابلاغی تشہیری مہمات کے درمیان زمین تا آسمان کا فرق ہے؛ شام کی حقیقت یہ ہے کہ یہاں مسلمانوں کے مقدس مقامات کو تباہ کیا جاتا ہے اور مسلم عوام کا قتل عام کیا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ گرجاگھر بھی تباہ کردیئے جاتے ہيں اور عیسائیوں کو مارا جاتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ علاقائی قوتوں کا شام کے اندر اپنا اپنا ایجنڈا ہے جس پر وہ کام کررہی ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭

روس: جنیوا 2 کانفرنس میں ایران کی شرکت ضروری ہے/ یو این: دہشت گرد تیار نہیں ہیں
شہر حسکہ اور 20 قصبوں میں دہشت گردوں کا صفایا/ دمشق میں بم دھماکہ