27 جولائی 2012 - 21:11

سعودی بادشاہ نے اپنے بھائی مقرن بن عبدالعزیز کو سعودی سیکورٹی سسٹم کی سربراہی سے ہٹا کر اپنے بھتیجے اور سابق ولیعہد سلطان کے بیٹے کو یہ عہدہ سونپا ہے جبکہ سعودی امور کے بہت سے ماہرین کا کہنا تھا کہ بندر بن سلطان سعودی نظام میں "ختم شد" کے مرحلے تک پہنچ چکے ہیں چنانچہ سوال یہ ہے کہ آل سعود اور آل سعود کے بیرونی آقا ان سے کیا چاہتے ہیں؟ یہاں ہم بندر بن سلطان کے ماضی اور حال پر بھی روشنی ڈالیں گے، ان کی کارکردگی بھی واضح کریں گے اور ان کے نئے منصب کے اہداف و مقاصد بھی ـ اسرائیل اور امریکہ کے لئے مشرق وسطی میں پرامن فضا پیدا کرنے کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر ـ واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بندر بن سلطان بن عبدالعزیز 2 مارچ 1949 کو پیدا ہوئے ہیں؛ 1983 سے 2005 تک (یعنی 23سال کے عرصے تک) امریکہ میں آل سعود کے سفیر رہے ہیں، بش خاندان کے ساتھ تعلق کے سلسلے میں یہی بتانا کافی ہے کہ انہیں "بندر بش" کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور امریکہ میں ان کو جو مقام ملا وہ کسی بیرونی سفیر کو نہيں ملا۔ اس سے پہلے بھی وہ شام، لبنان اور عراق میں بدامنی پھیلانے کے حوالے سے بدنام ہیں اور حزب اللہ کے افسانوی کمانڈر الحاج عماد مغنیہ" کے قتل میں بھی شریک ہیں اور حال ہی میں امریکی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کے تعاون سے شام کے وزیر دفاع کے قتل کے لئے بڑی دہشت گردانہ کاروائی میں ملوث قرار دیئے گئے ہیں۔ اور انھوں نے اپنا نیا منصب سنبھالنے کے بعد بھی کہا تھا کہ وہ القاعدہ کو عراق، لبنان اور شام میں زيادہ فعال کریں گے اور جب تک القاعدہ ہے آل سعود کے لئے سب کچھ کرنا آسان ہے۔ اپنی ظاہری بے روزگاری کے ایام میں بھی وہ مشرق وسطی بالخصوص شام اور عراق میں القاعدہ کے اصل کمانڈر تصور کئے جاتے تھے۔
بندر بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود حال ہی میں عبداللہ بن عبدالعزیز کے حکم سے مقرن بن عبدالعزیز کے جانشین قرار پائے حالانکہ وہ آل سعود خاندان کے اندر بادشاہ سے اختلاف بھی رکھتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ 2008 میں انھوں نے بادشاہ کے خلاف فوجی بغاوت کا بھی انتظام کیا تھا جس کے بعد 2010 تک وہ ایک گمشدہ شخص کی مانند لاپتہ رہے اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ عرصہ انھوں نے امریکہ میں گذارا تھا۔ بندر ولیعہدی کے بھی مدعی ہیں کیونکہ ان کے والد سلطان ولیعہد تھے جو بادشاہ بننے سے پہلے ہی دنیا سے اٹھ گئے چنانچہ بندر کا کہنا ہے کہ بادشاہت عبداللہ کے بعد ان کا حق ہے۔
بندر بن سلطان دنیا کے گوشے گوشے میں بہت سے امریکی کاروائیوں اور خونریزيوں نیز جاسوسیوں میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ایران کونٹرا کے مسئلے میں نکاراگو کی حکومت کے خلاف باغی گروپوں کو ہتھیار فراہم کرتے رہے ہيں اور عراق و حزب اللہ اور شام کے خلاف جاسوسی کی کاروائیوں میں امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون کرتے رہے ہیں۔


حالات زندگی
2008 میں امریکہ میں شائع ہونے والی ڈیویڈ بی اوٹاوے (David B. Ottaway) کی کتاب "بادشاہ کا ایلـچی" (The King's Messenger) میں بندر بن سلطان کے حالات زندگی اور امریکہ میں ان کے مشن کو بیان کيا گیا ہے۔ اوٹاوے لکھتے ہیں:
شہزادہ بندر بن سلطان 2 مارچ 1949 کو طائف میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سلطان آل سعود کی بادشاہت کے بانی بن عبدالعزیز کے بیٹے ہیں۔ ان کی ماں ایک یمنی خادمہ "خیزران" تھی جو 16 سال کی عمر میں سلطان کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی۔
اوٹاوے کہتے ہیں کہ خیزران کے حمل اور بندر بن سلطان کی پیدائش کی کیفیت کے بارے میں معلومات دستیاب نہيں ہیں لیکن اتنا معلوم ہے کہ وہ چونکہ خادمہ تھی اور آل سعود خاندان سے ان کا تعلق نہ تھا چنانچہ اس کو خاندان سے مسلسل رکھا جاتا تھا اور بندر اس لحاظ سے اپنے دوسرے بھائیوں اور بہنوں کے ہاں بھی ایک خادمہ کے بیٹے سمجھے جاتے تھے اور انہیں کوئی خاص وقعت نہيں دی جاتی تھی۔ لیکن سات سال کی عمر میں انھوں نے اپنی دادی حصۃالسدیری کی توجہ جیت لی اور اسی وجہ سے اپنے چچا فہد بن عبدالعزیز کی قربت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور فہد نے اس کی نشوونما کو ممکن بنایا۔ سلطان بن عبدالعزیز البتہ بندر کے ساتھ تشدد آمیز اور سنگدلانہ سلوک روا رکھتے تھے۔ اور یہ ایسی حقیقت ہے جس کا اعتراف بندر نے اپنے دوست ولیم سمپسن (William Simpson) سے کیا تھا۔ 
بندر بن سلطان نوجوانی میں ہوابازی کی تربیت حاصل کرنے کے لئے لندن چلے گئے لیکن انھوں نے سمپسن سے اپنے دوستانہ مکالمات میں اعتراف کیا ہے کہ وہ ہوابازی کی صلاحیت سے بالکل محروم تھے لیکن 1967 میں رائل کالج سے گریجویشن کرکے فارغ ہوئے تا کہ اسی سال جنگی طیارے کے ہواباز کے عنوان سے سعودی ائیر فورس سے جاملیں۔ اس کے بعد وہ مختلف امریکی ائیربیسز میں سرگرم عمل رہے اور ہاپکینز یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں پوسٹ گریجویشن کی سند حاصل کی لیکن جنگی اور فوجی طیاروں کے ہواباز کے عنوان سے فعال رہے حتی کہ ایک پرواز کے دوران انہيں حادثہ پیش آیا اور اترتے وقت خطرناک زخموں سے دوچار ہوئے۔
خاندانی زندگی
انھوں نے ریاض میں انسداد سرطان سوسائٹی کی بانی اور سربراہ شہزادی "ہیفاء الفیصل" سے شادی کردی اور 4 بیٹوں اور 4 بیٹیوں کے باپ ہیں۔ بندر سابق ولیعہد سلطان کے دوسرے بیٹے ہیں جبکہ نائب وزیر دفاع خالد بن سلطان ان کے بڑے مگر سوتیلے بھائی ہیں۔
سیاسی زندگی
25 سال قبل آل سعود نے امریکہ سے 6 ارب ڈالر کے جنگی طیارے خریدنے چاہے تو امریکی کانگریس نے اس بل کو مسترد کیا اور ترکی الفیصل بھی مذاکرات میں ناکام ہوگئے تو سعودی خاندان نے بندر کو واشنگٹن میں یہ مشن سونپا تا کہ ضمانتیں دے کر یہ سودا انجام دے چنانچہ انھوں نے ایف 15 طیاروں کا یہ سودا طے کرادیا اور یوں آل سعود اور امریکہ کے درمیان تزویری تعاون کا آغاز ہوا اور بندر نے نہ صرف امریکیوں کو ان طیاروں اور سعودی ائیرفورس کی نگرانی کا حق دیا بلکہ ائیر فورس کے لئے ایک امریکی مشیر کا تعین کیا جس کا نام سام بامیہ (Sam Bamieh) تھا۔ 1987 میں بامیہ کو کانگریس کے سامنے انگولا کی یونیٹا باغی تحریک کے راہنما "جوناس ساویمبی Jonas Savimbi" کو مالی امداد دینے کے سلسلے میں وضاحتیں دینی پڑیں اور اعتراف کیا کہ "فہد بن عبدالعزیز (سعودی خاندان کے بادشاہ وقت) نے ان سے کہا ہے کہ "سعودی عرب عہد کرتا ہے کہ وہ امریکہ سے آواکس طیارے وصول کرنے کے بدلے، دنیا کے تمام کمیونسٹ مخالف تحریکوں کو مالی امداد فراہم کرے گآ"۔
بہرحال بندر نے اس طرح واشنگٹن میں اپنی سفارتی سرگرمیوں کا آغاز کیا جبکہ ان کے چچا فہد بن عبدالعزیز نے انہیں 1983 واشنگٹن روانہ کرنے سے قبل، اپنا فوجی مشیر بھی مقرر کیا تھا۔
بندر جب سفیر بنے تو انہیں ایک اعلی اکیڈمک سند کی ضرورت پڑی چنانچہ امریکی حکومت نے انہیں ہاپیکینز یونیورسٹی سے ایک سند لینے میں تعاون فراہم کیا اور اوٹاوے کہتے ہیں کہ بندر کے مشیر نے ان کے لئے یونیورسٹی کے ایک اسپیشل پروگرام میں شرکت کرنے کا موقع فراہم کرکے دیا اور یوں انھوں نے یونیورسٹی میں پڑھنا شروع کیا حالانکہ وہ اس یونیورسٹی کی علمی سطح کے تقاضوں سے ہرگز عہدہ برآ نہيں ہورہے تھے لیکن ان کو بہرحال ڈگری مل گئی!۔
ظاہر ہے کہ فہد نے ان کو پروان چڑھایا لیکن اس سے بھی زيادہ واضح بات یہ ہے کہ بندر نے جو کیا واشنگٹن کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا کیونکہ فہد امریکہ کے ساتھ سعودی لابی اور صہیونی لابی کے درمیان طے پانے والے معاملات سے مکمل طور پر بے خبر تھے جس کے بعد ان دو لابیوں کا ہنی موں شروع ہوا اور تعلقات عروج تک پہنچے اور غالب رائے یہ ہے کہ بندر کو فہد نے سفیر بنا کر نہيں بھیجا بلکہ امریکہ نے تجویز دی کہ بندر کو سفیر بنا کر واشنگٹن روانہ کریں! اور بندر بن سلطان بیک وقت "فہد بن عبدالعزیز اور سی آئی کے چیف ویلیم کیسی کے نمائندے کی حیثیت سے فہد کے بحری جہاز کے ۔۔۔ حاضر ہوئے مفاہمت نامے کے انعقاد کے لئے حاضر ہوئے۔ یہ سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کا دور تھا۔
بندر آواکس طیاروں کی خریداری کے بعد منعقدہ فہد کی تمام معاہدوں پر عملدرآمد کرنے اور کرانے کے پابند تھے اور بندر خود بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سعودی عرب نے 1985 میں اٹلی کی کرسچئین ڈموکریٹک پارٹی کو ایک کروڑ ڈالر کی مالی امداد فراہم کی تا کہ انتخابات میں کمیونسٹوں کی کامیابی کا راستہ روکے۔
اس کے بعد وہ امریکہ میں سعودی سفیر تھے اور 23 سال تک اسی سیٹ پر بیٹھے رہے اور اس عرصے میں وہ امریکی پالیسیوں اور سیاست کے ایک اہم ستون میں تبدیل ہوگئے۔ وہ بندر بش کے نام سے مشہور ضرور ہیں لیکن کارٹر کے زمانے میں، ریگن کے زمانے میں، بڑے بش اور کلنٹن کے دور میں اور پھر چھوٹے بش کے دور میں ان کی بات غور سے سنی جاتی رہی اور اس پر عمل ہوتا رہا وہ اس دور میں ڈک چینی اور ان کی بیوی لین چینی کے قریبی اور ذاتی دوست رہے اور آج اوباما انتظامیہ نے انہیں سعودی سیکورٹی اور انٹیلی جنس مشینری کا چیف بنوا لیا ہے۔
رونلڈ ریگن اور جارش بوش (فادر) کا دور ــ یمامہ کا معاہدہ (2 ارب ڈالر کا خورد برد)
سنہ 1985 میں برطانیہ اور آل سعود کے درمیان ہتھیاروں کا ایک بڑا سودا ہو جو بڑی رشوتوں اور خورد برد کی وجہ سے کافی بدنام بھی رہا۔ جیسا کہ برطانیہ کے ساتھ دنیا بھر کے ملکوں کے ہتھیاروں کے معاہدات میں معمول کے مطابق بڑی بڑی رشوتیں چلتی ہیں جس کی مثالیں بھی موجود ہیں۔
آل سعود نے اس سال برطانیہ کے ساتھ BAE کمپنی کے بنے ٹائفون قسم کے 72 فوجی طیاروں "یورو وایٹز" کا آٹھ ارب چوراسی کروڑ ڈالر کا سودا طے کیا جس کے بعد آل سعود برطانوی ہیلی کاپٹر خریدنے کی اجازت بھی ملی اور برطانیہ نے طیاروں کی سروسز کا معاہدہ کیا اور آل سعود کو مجموعی طور پر چالیس ارب ڈالر ادا کرنے پڑے۔


اس سودے کے بارے میں شکوک و شبہات سامنے آئے اور تحقیقات سے معلوم ہوا کہ بندر بن سلطان، جو اس سودے میں سعودی مذاکرات کار کا کردار ادا کررہے تھے، نے اس سودے میں 2 ارب ڈالر اپنے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کئے ہیں۔ بندر نے تحقیقات کے نتائج کو مسترد کیا لیکن بی بی سی نیٹ ورک نے ثابت کیا کہ بندر نے خفیہ طور پر اس سودے کو طے کرنے میں بنیادی کردار ادا کرنے کے بدلے برطانوی کمپنی نے دو ارب ڈالر کی رشوت وصول کی تھی گوکہ برٹش ایرواسپیس کمپنی نے معمول کے مطابق ان تحقیقات کو مسترد کیا۔
بی بی سی کی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ BAE Systems کمپنی نے سعودی عرب کی نیشنل سیکورٹی چیف کی حیثیت سے بندر بن سلطان کو ایک عشرے کے دوران کئی کروڑ پاؤنڈ رشوت ادا کی ہے اور برطانوی وزیر دفاع رشوت دینے اور لینے کے ان واقعات سے آگاہ تھا یا یوں کہئے کہ یہ رقوم بندر کو برطانوی وزیر دفاع کی منظوری سے دی گئیں۔
یمامہ معاہدے کے تحت برطانوی کمپنی نے دس سال تک ہر سال 12 کروڑ پاؤنڈ واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے کے دو سفارتکاروں کے اکاؤنٹ میں جمع کرائے اور بی بی سی کے پروگرام "پانوراما" نے ثابت کیا کہ یہ دو سفارتکار دو نہیں تھے بلکہ ایک ہی سفارتکار تھا جس کا نام تھا "بندر بن سلطان بن عبدالعزیز"۔
یوں بندر بن سلطان نے 1980 کے عشرے میں برطانوی ساخت کے 100 جنگی طیارے یمامہ معاہدے کے تحت آل سعود کو دلوادیئے اور بعد میں معلوم ہوا کہ بندر بن سلطان نے رشوت کی رقم سے اپنے لئے ایک خصوصی ائیربس طیارہ خریدا تھا۔ اور امریکی مرکزی بینک کے اکاؤنٹنٹ "ڈیویڈ کاروزو" نے حسابات کو چیک کیا تو معلوم ہوا کہ بندر ان اکاؤنٹس سے ذاتی ضروریات کے لئے رقم حاصل کرتے رہے ہیں۔ کاروزو نے کہا کہ ان کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ سفارتخانے کے سرکاری اکاؤنٹ اور آل سعود کے ذاتی اکاؤنٹس میں کوئی فرق نہيں ہے۔
سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے ان تحقیقات کو مسترد کیا اور ان تحقیقات کے خاتمے کے احکامات جاری کئے۔ کیونکہ ان تحقیقات سے آل سعود اور برطانوی حکومت کے درمیان تزویری روابط ـ بالخصوص مشرق وسطی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ (؟!) میں آل سعود کے تعاون ـ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے اور برطانیہ کو کروڑوں اربوں پاؤنڈ نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
اس کے باوجود برطانوی تزویری برآمدات کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ اور پارلیمنٹ میں لیبر دھڑے کے سربراہ نے کہا کہ بندر بن سلطان نے ایسی بھاری رقوم رشوت کے طور پر دریافت کی ہیں جن کے بارے میں تحقیق ہونی چاہئے کیونکہ اس بدعنوانی میں برطانوی اور سعودی حکام ملوث ہیں اور برطانوی قانون کے مطابق یہ کریمنل کیس ہے جس میں ملوث افراد پر مقدمہ چلنا چاہئے۔ بہرحال حکومت برطانیہ اپنے اور اپنے دوستوں کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ بند کرنے میں کامیاب ہی ہوگئی۔
دونگ وانگ میزائل اور امریکیوں کی ناراضگی
بندر بن سلطان نے 1980 کے عشرے کے وسط میں چین کے ساتھ خفیہ معاہدہ کرکے دونگ وانگ میزائل خرید لئے جس کے بموجب امریکی اور اسرائیلی ناراض ہوئے اور آل سعود نے یقین دہانی کرائی کہ یہ میزائل کسی صورت میں بھی اسرائیل کے خلاف استعمال نہيں ہونگے اور اسرائیل اور ریاض کے درمیان مکمل خیرسگالی کا جذبہ کارفرما ہے چنانچہ یہ اختلاف حل ہوگیا۔
اس واقعے کے بعد بندر بن سلطان صہیونی ریاست کے دوستوں کی فہرست میں شامل ہوئے اور آل سعود اور آل صہیون کا یہ رابطہ 1990 میں خلیج فارس کی پہلی لڑائی کے بعد مزید مستحکم ہوا۔ بندر نے 1993 تک 27 ارب ڈالر کے مزيد ہتھیار امریکہ سے خرید لئے حتی کہ آل سعود کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ پیدا ہوا۔ امریکہ مزید رقم مانگ رہا تھا حتی کہ خلیج فارس کی جنگ کے دوران ـ آل سعود کو 65 ارب ڈالر کے اخراجات برداشت کرنے پڑے۔ حتی کہ اس وقت کے امریکی سفیر خود بھی حیرت زدہ تھا کہ امریکہ بعض رقومات کس کھاتے میں آل سعود سے مانگ رہا اور آل سعود کے حکمران کس کھاتے میں یہ رقوم ادا کررہے ہیں؟ روسیوں کے لئے خنزیروں کا سودا، آذربائیجان کے خلاف ارمنیا کو رقم کی ادائیگی اور ان مدوں میں اربوں ڈالرز کی ادائیگیاں سب بندر کی ہدایات پر ہوئیں اور ملک فہد بندر کے حامی تھے۔
کلنٹن کا دور
اس میں شک نہیں ہے کہ بعض مسائل پر آل سعود اور امریکہ کے درمیان اختلافات بھی تھے۔ کلنٹن نے اپنی صدارت میں جنوبی اور شمالی یمن کے اتحاد کی حمایت کی تو سعودی حکومت اس منصوبے کے خلاف تھی کیونکہ متحدہ یمن آل سعود کے لئے خطرہ تصور کیا جاتا تھا۔
بہرحال کلنٹن کے زمانے میں امریکی حکومت کے اندر بندر کے بارے میں شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا گوکہ امریکہ اس زمانے میں بھی آل سعود کو ناراض نہيں کرنا چاہتا تھا لیکن کلنٹن کا فارن پالیسی گروپ بندر سے سخت غضبناک تھا کیونکہ اس گروپ کا خیال تھا کہ بندر نے شام کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے امریکہ کو گمراہ کیا ہے اور امریکہ نے شام کے سلسلے میں غلط پالیسیاں اپنائی ہیں جن میں بندر کا کردار ناقابل انکار تھا ـ جیسا کہ آج بھی تقریبا ایسا ہی ہورہا ہے۔
بہرحال بش خاندان بندر کو اپنا رکن سمجھتا تھا اور بش (چھوٹا) کی کامیابی کے بعد بش ـ بندر ہنی مون کا آغاز ہوا اور بش (بڑا) نے بندر کو اپنا بیٹا کہہ کر بلایا اور ان کا نام "بندر بش" پڑا۔
بوش بڑا کہتا ہے: بندر نے میرے بیٹے کو الیکشن کیمپین کے دوران فارن پالیسی کا سبق سکھایا۔
بش انتظامیہ کے دور میں آل سعود اور امریکی انتظامیہ گویا ایک ہی انتظامیہ تھی اور بندر بن سلطان کہتے ہیں کہ "نائب صدر پل ولفوویٹز ہم سے بھی زیادہ سعودی ہے"۔ البتہ اسرائیل سے امریکی تعلقات کچھ آگے ہی تھے۔
2005 میں بندر بن سلطان نے واشنگٹن میں سعودی سفارت کے عہدے سے استعفا دیا اور بلادالحرمین لوٹ آئے اور کہا جانے لگا کہ ان کے استعفا کا مطلب یہ ہے کہ واشنگٹن میں ان کا سفارتی کردار ختم ہوچکا ہے کیونکہ اس وقت ان کو سعودی سیکورٹی مشینری کے سیکریٹری جنرل کے عنوان سے مقرر کیا گیا جبکہ یہ عہدہ سعودی حکومت میں اس سے قبل موجود نہيں تھا لیکن بہت جلدی معلوم ہوا کہ بندر کا کردار نہ صرف ختم نہيں ہوا بلکہ وہ مشرق وسطی کی تاریخ کے محرک ثابت ہوئے اور مکہ میں حماس اور فتح گروپ کے درمیان مذاکرات کا اہتمام بندر نے کیا اور لبنان میں صورت حال کی دھماکہ خیزی کو کم کرنے کے لئے ایران اور سعودی عرب کے درمیان ہماہنگی کا انتظام کیا اور حتی کہ کہا گیا کہ وہ کسی زمانے میں ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لئے لئے تیار تھے جبکہ وہ سعودی خارجہ پالیسی کے اعلی بورڈ میں عراق کیس کے مسؤل بھی ہیں۔ اس بورڈ کو سعودی بادشاہ عبداللہ نے تشکیل دیا ہے۔ اس بورڈ کے اراکین بندر، مقرن بن عبدالعزیز (سابق سربراہ سیکورٹی مشینری)، سعود الفیصل (وزیر خارجہ)، ایاد المدنی اور بادشاہ کے مشیر و وزیر اطلاعات شیخ ابراہیم العنقری اس کے اراکین تھے۔
بندر بش
مائکل مور 2004 میں ایک دستاویزی فلم بنائی جو کین فیسٹیول میں طلائی کھجور جیتنے میں کامیاب ہوئی، اس فلم میں بندر بن سلطان کو عالمی شہرت ملی۔
مائکل مور نے اس فلم میں بن لادن اور بش خاندان کے درمیان تعلق ثابت کیا تھا اور کہا تھا کہ بش نے 11 ستمبر سے صرف دو روز قبل بندر بن سلطان کو وائٹ ہاؤس میں ایک خصوصی عشائیے میں شرکت کے لئے بلوایا تھا.
مور نے واضح کیا تھا کہ بندر بش خاندان کے نزدیک اس خاندان کا ایک فرد سمجھے جاتے ہیں اور تعظیم کے عنوان سے ان کو بندربش کا نام دیتے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے کہنہ مشق امریکی روزنامہ نویس باب ووڈوارڈ (Bob Woodward) نے بھی اپنی کتاب "حملے کا منصوبہ"  (Plan of Attack) میں لکھا ہے کہ بندر بن سلطان عراقی آمر صدام حسین پر امریکی حملے کی تفصیلات سے ـ وزیر خارجہ کالن پاول سے بھی پہلے ـ آگاہ تھے اور انھوں نے بش کو یقین دہانی کرائی تھی کہ عراق پر امریکی حملے کی صورت میں سعودی عرب تیل کی پیداوار میں اضافہ کرکے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافے کا سد باب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بندر امریکہ کی خدمت "للہ" نہيں کررہے تھے بلکہ بادشاہی کے خواب دیکھ رہے تھے اور اور بش دور میں انھوں نے اپنی یہ خواہش ظاہر بھی کی تھی جبکہ سعودی شاہی خاندان میں یہ غیرمعمولی بات تھی اور اس طرح کی خواہشات کو خفیہ رکھنے کی رسم رائج تھی اور پھر بندر شاہی خاندان کی تیسری نسل کا فرد ہونے کی بنا پر بادشاہت سے کافی دور تھے لیکن بندر کے لئے امریکیوں کی مدد سے یہ سب ممکن نظر آرہا تھا کہ سب کو پیچھے چھوڑ کر آل سعود کے بادشاہ بن جائیں گوکہ فہد کے انتقال کے بعد عبداللہ بادشاہ بنے تو ان کے خواب چور چور ہوگئے اور بندر کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور اگر 11 ستمبر کا واقعہ رونما نہ ہوتا تو شاید امریکہ اور آل سعود کے درمیان ایک بڑا بحران رونما ہوتا جس میں مرکزی کردار پھر بھی بندر کا ہوتا۔
عبداللہ نے اسرائیل کے حوالے سے غصے سے بھرا ایک خط وائٹ ہاؤس کو بھیجا اور بش (فادر) کو میدان میں اترنا پڑا تا کہ بحران کا خاتمہ ہو۔ لیکن 11 ستمبر نے سب کچھ تبدیل کردیا اور آل سعود پر بڑے بڑے الزامات عائد کئے گئے کہ وہ ان واقعات میں ملوث ہیں اور عبداللہ کو امریکیوں کی چاپلوسی اور خوشامد کے لئے سدیری خاندان کے کئی افراد واشنگٹن بھجوانے پڑے اور اسرائیل کے خلاف اپنے غم و غصے کو چھوڑ کر واشنگٹن کی خوشنودی کے لئے "سعودی صہیونی براہ راست تعلقات کا منصوبہ پیش کیا" اور یہ سب امریکی کانگریس کو خوش کرنے کے لئے عمل میں لایا گیا کیونکہ کانگریس کا مطالبہ تھا کہ آل سعود کو 11 ستمبر کے واقعے کا تاوان ادا کرنا پڑے گا اور یہ تاوان یہی تھا کہ آل سعود واشنگٹن اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے جس کے بعد ہی آل سعود کو معافی مل سکتی ہے۔

2



کئی ممالک میں رونلڈ ریگن کے سفیر اور مشرق وسطی کے لئے امن کے سفیر رچرڈ فیئربینکس (Richard Fairbanks) بھی ایک امریکی عہدیدار ہیں جو بندر بن سلطان کے ساتھ سفارتی اور سماجی سطح پر مکمل شناسا اور انتہائی قریب تھے۔ فئیر بینکس نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ "وہ نہایت زیرک اور سحرانگیز شخصیت کے مالک اور بہت ہی سرگرم سفارتکار ہیں جو ابتداء میں ناظم الامور کی حیثیت سے واشنگٹن آئے اور بعد میں واشنگٹن ـ ریاض تعلقات میں بہت ہی بنیادی کردار ادا کیا۔۔۔ اور 11 ستمبر کے بعد کے واقعات میں ان کا کردار ناقابل فراموش ہے"۔
آل سعود کے اندر کے حلقے کہتے ہیں کہ بندر بن سلطان نے ـ اوباما کے دور میں نہيں بلکہ ـ بش حکومت کے اواخر میں سعودی عرب کے اندر ایک فوجی بغاوت کی کوشش کی اور بش نے آل سعود کے دیگر عناصر کے خلاف اور بندر کے فائدے میں بہت سے اقدامات کئے جس کی وجہ سے بغاوت کے لئے بندر کے عزم کو تقویت ملی۔
اس میں شک نہيں ہے کہ امریکیوں کی بڑی خواہش یہ ہے کہ آل سعود کی تیسری نسل یعنی عبدالعزیز کے پوتوں کو اقتدار میں لایا جائے اور بندر بن سلطان اسی تیسری نسل کا شہزادہ ہے۔ امریکی اس نسل پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں کیونکہ دوسری نسل کے شہزادوں کی عمر بہت زیادہ ہوچکی ہے اور عبدالعزیز کے بیٹے بوڑھے اور بیمار ہیں۔
واشنگٹن کی خواہش ہے کہ تیسری اور چوتھی نسل کے شہزادے کسی صورت میں بھی اقتدار میں نہيں آسکیں گے اسی بنا پر فوج کو کردار ادا کرکے بھائی سے بھائی کو انتقال اقتدار کی رسم کو توڑدینا چاہئے۔ یہ ایک تجزیہ ہے جو سعودی شہزادوں کے درمیان گردش کرتا رہتا ہے اور یہی تجزیہ اس بات کا باعث بنتا ہے کہ بندر اور امریکیوں کے اندر فوجی بغاوت کی سوچ کو تقویت ملے۔
2007 بندر کے زوال کا سال سمجھا جاتا ہے۔ آل سعود سے وابستہ چینل "العربیہ" نے 15 مہینوں کے دوران شاہ عبداللہ کے بارے میں ایک دستاویزی پروگرام مرتب کیا۔ بندر بن سلطان نے اس پروگرام کی پہلی قسط کو لندن میں دیکھا اور اس پر فوری پابندی لگانے کا حکم دیا۔ اس پروگرام نے بندر کو غضبناک کیا اور اس کے بعد اور 2008 سے بندر بن سلطان بش کی تقریبات سمیت سعودی محافل اور تقریبات سے بھی غائب ہوگئے۔ اس کے بعد بندر کے بارے میں مختلف قسم کی افواہیں اڑیں لیکن کسی دعوے کے اثبات کے لئے کوئی ثبوت نہيں ملا۔
شام میں فوجی بغاوت کی کوشش اور حاج عماد مغنیہ پر دہشت گردانہ حملہ
حزب اللہ کے سینئر کمانڈر شہید عماد مغنیہ پر دہشت گردانہ حملے کے بارے میں تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس بزدلانہ حملے میں اردن کا جاسوسی ادارہ اور کرائے کے عرب و فلسطینی جاسوس ملوث تھے اور انھوں نے یہ کاروائی یہودی ریاست کی جانب سے انجام دی تھی جبکہ دہشت گردی کی اس کاروائی کے ماسٹر مائنڈ بندر بن سلطان تھے جبکہ امریکہ نے اپنے سیارچـوں کے ذریعے بندر کو امداد بہم پہنچائی۔
اسی دور میں بعض شامی افسروں نے حکومت کے خلاف بعض اقدامات اٹھانے کی کوشش کھی چنانچہ شام کے مقامی سیکورٹی حلقوں نے عماد کی شہادت کو حکومت شام کے خلاف ایک فوجی بغاوت سے تعبیر کیا اور یہ ایسا موضوع ہے جو عرب دنیا کے نامی گرامی تجزیہ نگار "انیس النقاش" نے اس پر تاکید کی اور کہا کہ اس اقدام کے بعد بعض شامی افسران حراست میں لئے گئے۔
نیز فرانسیسی ذرائع نے تاکید کی کہ عماد مغنیہ کی شہادت کے وقت بعض شامی فوجیوں کے اقدام نے ثابت کیا کہ یہ افسران دمشق میں سعودی سفارتخانے میں تعینات سعودی فوجی اتاشی کے توسط سے بندر بن سلطان سے رابطے میں تھے اور نتیجے کے طور پر وہ سب گرفتار ہوئے گوکہ ان ذرائع نے اس اقدام کو حکومت شام کے خلاف فوجی بغاوت کا نام دینے سے انکار کیا اور اس اقدام کو "مجہول اقدام" کا نام دینے کو ترجیح دی۔
عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کے خلاف فوجی بغاوت ــ 2008
اگست 2009 میں آل سعود کے نیم سرکاری ذرائع نے، سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزيز کے خلاف بندر بن سلطان کی فوجی بغاوت سے متعلق فائننشل ٹائمز کی جولائی 2009 کی رپورٹ کی تصدیق کردی لیکن ان ذرائع نے یہ بھی کہا کہ یہ خبر پرانی ہے اور اس کا تعلق دسمبر 2008 سے ہے اور اس کا مقصد یہ تھا کہ سعودی نظام کو مکمل طور پر تبدیل کیا جائے نہ کہ ان کے والد یا ان کے سدیری چچاؤں کو اقتدار دلوایا جائے۔
سعودی ذرائع نے کہا: روسیوں نے اس سازش کا انکشاف کیا اور سعودی انٹیلجنس کو اس سے آگاہ کیا اور کہا گیا ہے کہ بندر بن سلطان کی سرنگونی کے ساتھ ہی ریاض ـ ماسکو تعلقات کو فروغ ملا۔
اس بغاوت کے لئے سعودی فوج اور خاص طور پر ریاض کا ایئر بیس منتخب کیا گیا تھا اور نیشنل گارڈ کو اس کا حصہ نہیں بنایا گیا تھا اور اس سازش کے انکشاف کے بعد فوجی کمانڈروں کو حراست میں لیا گیا۔
اس کے بعد بندر لاپتہ ہوگئے اور کئی لوگوں نے کہا کہ ان کی سیاسی عمر کا خاتمہ ہوچکا ہے اور وہ جبری قیام پر مجبور ہیں گوکہ بعض لوگ یہ سوال اٹھا رہے تھے کہ روسی انٹیلیجنس کو کیسے اس سازش کا علم ہوا۔ اس کے بعد دو ستمتر 2009 کو عبداللہ نے ایک حکم نامے کے ذریعے نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے بندر کے منصب کی 4 سال کی مزید مدت تک توسیع کردی اور حال ہی میں نیا سنبھالنے سے قبل تک اسی منصب پر کام کررہے تھے جب بادشاہ نے اپنے بھائی مقرن بن عبدالعزیز کو وجہ بتائے بغیر سعودی اٹیلیجنس کی سربراہی سے ہٹا کر یہ منصب بندر کے حوالے کیا۔
اس ناگہانی شاہانہ حکم نے بہت سے سوالات اور شکوک و شبہات کو جنم دیا جن میں سے بہت سے سوالات کا جواب بندر کے پالیسی بیان کے بعد واضح ہوگیا۔
سعودی بادشاہ نے ایسے حال میں اس شخص کو انٹیلجنس چیف مقرر کیا ہے کہ علاقہ غیر مستحکم ہے اور آل سعود کی حکومت کو دوسری نسل کے بڑھاپے کی وجہ سے بھی کئی مشکلات کا سامنا ہے اور عبدالعزیز کے بیٹے بادشاہت کو اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں جبکہ ان کے بیٹے اسی ناجائز اقتدار میں حصہ مانگ رہے ہیں۔ اور بندر نے اسی سلسلے میں ایک بار بغاوت کی بھی کوشش کی ہے اور اب وہ دوبارہ بہت اہم عہدے پر متعین کئے گئے ہیں۔
جیسا کہ اس سے قبل بھی بیان ہوا، بندر ایک عام سا شہزادہ نہيں ہے بلکہ امریکہ کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات اتنے وسیع ہیں کہ واشنگٹن ان کے واسطے سعودی بادشاہت میں اہم تبدیلیوں تک کے لئے تیار ہے اور اس کا ثبوت اس نے 2000 کے عشرے میں دے دیا ہے۔
سعودی عرب میں سابق امریکی سفیر رابرٹ گورڈن (Robert Gordon) نے کہا: کہ بندر بن سلطان کی اس منصب میں تعیناتی بہت مناسب ہے کیونکہ سعودی عرب کی سیکورٹی صورت حال مناسب نہيں ہے اور وہ اس منصب میں رہ کر اپنے ملک کے سیکورٹی حالات سے زیادہ آگہی حاصل کریں گے اور وہ بہتر عمل کریں گے اور واشنگٹن نیز امریکہ کے عرب حلیفوں کے ساتھ ان کے تعلقات کو فروغ ملے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ واشنگٹن کو بندر کی اتنی ضرورت کیوں ہے اور وہ سیکورٹی صورت حال پر ان کے کنٹرول اور واشنگٹن اور اس کے عرب حلیفوں سے بندر کے تعلقات کے فروغ کا خواہاں کیوں ہے!؟
گوکہ آل سعود کے قریبی سعودی تجزیہ نگار "جمال الخاشقجی" کا کہنا تھا کہ بندر کی تعیناتی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حکومت کو مضبوط سیکورٹی مشینری کی ضرورت ہے اور بندر اس حوالے سے زیادہ تجربہ رکھتے ہیں۔
خاشقجی نے ضمنی طور پر اعتراف کیا کہ اس تعیناتی کا تعلق شام کی صورت حال سے ہے اور کہا: اگر شام میں بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے تو ہم نئے مشرق وسطی کے شاہد ہونگے اور سعودی عرب کو اس حوالے سے لبنان اور اردن کے مقابلے میں تشویش لاحق ہے۔
وال اسٹریٹ جنرل نے لکھا: شہزادہ مقرن کو سعودیوں کی شدید نکتہ چینی کا سامنا تھا کیونکہ وہ موجودہ تقاضوں پر پورا اترنے سے عاجز تھے اور بندر کی تعیناتی کا مطلب یہ ہے کہ سعودی علاقے بالخصوص شام میں زیادہ اہم کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اس امریکی روزنامے نے سعودی عرب کے سیاسی تجزیہ نگار "عبداللہ الشمری" کے حوالے سے لکھا: ان حساس حالات میں آل سعود کو خارجہ پالیسی میں بندر جیسے شخص کی ضرورت ہے وہ آتشفشاں ہے اور آل سعود کی حکومت کو ان لمحوں میں اتشفشاں کی ضرورت ہے!۔
الشمری نے کہا: بندر کے امریکیوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، شام میں امریکی اور سعودی ایک جیسا کردار ادا کررہے ہیں اور ان کا یہ کردار افغانستان میں سابق سوویت روس کے خلاف ان کے مشترکہ کردار جیسا ہے اور آل سعود نے بندر کو تعینات کرکے شام کے خلاف زیادہ تشدد آمیز کاروائیوں کا عندیہ دیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بندر اپنے نئے مشن میں کامیاب ہوسکتا  ہے یا نہيں؟
حزب اللہ کے خلاف لبنانی گروپوں کو مسلح کرنے میں بندر کا کردار
حال ہی میں بندر کی نئی منصب تعیناتی کے ساتھ ہی ان کے بارے میں بعض خفیہ حقائق منظر عام پر آئے ہیں۔ اسلامی جمہوری خبر ایجنسی ـ ارنا ـ نے اپنے موثق ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے: 2007 کو "موریل میراک Muriel Mirak" نے امریکی جریدے "EIR" میں لکھا: "فتح الاسلام" نامی تنظیم کی بنیاد امریکی نائب صدر "ڈیک چینی" نے بندر بن سلطان کے تعاون سے رکھی اور اس کا مقصد یہ تھا کہ لبنان میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کے لئے اہل سنت کو مسلح کیا جائے تا کہ انہیں علاقے میں حزب اللہ اور شیعیان آل محمد (ص) کے خلاف لڑایا جاسکے۔
اس امریکی قلمکار نے مزید لکھا: اس تنظیم کی تشکیل کا مقصد سعودی عرب کی مالی حمایت سے شیعیان آل محمد (ص) کے خلاف جنگ شروع کروانا تھا۔ 
"بندر بن سلطان" نامی کتاب کے مصنف "ولیم سمپسن William Simpson" نے لکھا: بندر بن سلطان سعودی عرب کی شاہی فضائیہ میں اہم عہدوں پر تعینات رہے ہیں۔
ایک خیال: بندر بن سلطان ایران کو قابو کرنے آیا ہے
مڈل ایسٹ آنلائن نے فائننشل ٹائمز کے حوالے سے لکھا ہے کہ بندر بن سلطان ایران کو قابو کرنے اور عرب دنیا کی صورت حال کا انتظام سنبھالنے کے لئے آئے ہیں کیونکہ آل سعود کی حکومت تیونس اور مصر میں اپنے حلیف کھو چکی ہے اور ایران کی طاقت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے بندر بن سلطان کو آل سعود کے سیکورٹی اور جاسوسی نظام کا انتظام سونپا گیا ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بندر کی ذمہ داری ہے کہ وہ عرب دنیا کی تبدیلیوں میں زیادہ فعال کردار ادا کریں تا کہ ایران مزید قوت حاصل نہ کرسکے بلکہ وہ ایران پر قابو پائیں۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بندر بن سلطان شام کے صدر بشار الاسد کے ساتھ خصوصی دشمنی رکھتے ہیں اور بندر کو شام کے وزیر دفاع اور انٹیلجنس چیف کے قتل کے ایک دن بعد نیا عہدہ سونپا گیا ہے۔
فائننشل ٹائمز نے لکھا: بندر بن سلطان کے امریکی اداروں سے قریبی تعلقات ہیں اور ان کی یہ پوزیشن "امریکہ اور آل سعود کے مشترکہ دشمنوں" کے خلاف بہت اہم کردار ادا کرسکتی ہے؛ نیز بندر بن سلطان کی تعیناتی امریکیوں کے لئے خصوصی پیغام سمجھی جاتی ہے اور وہ یہ کہ "آل سعود مشرق وسطی میں اپنے آپ کو نئی امریکی پالیسیوں سے ہمآہنگ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے"؛ کیونکہ عام تصور یہ ہے کہ بندر بن سلطان ان معدودے چند عرب سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں جو بین الاقوامی مسائل کا علم رکھتے ہیں اور امریکی پالیسیوں کی باریکیوں سے پوری طرح واقف ہیں اور امریکی بھی دوسروں کی نسبت، ان کے ساتھ مل کر بہتر انداز میں کام کرسکتے ہیں۔ اور عرب دنیا ـ بالخصوص سعودی عرب کے حوالے سے ـ امریکی اور بندر بن سلطان ایک دوسروں کو بہتر سمجھتے ہیں!۔
ایک رائے: بندر بن سلطان سعودی عرب میں سی آئی اے کا مہرہ
یہودی ریاست سے وابستہ ایک اخبار نے لکھا: بندر بن سلطان سی آئی کے ایک مہرے کی حیثیت سے سعودی سیکورٹی اور انٹیلجنس کے چیف بنائے جاچکے ہیں اور مقصد یہ ہے کہ اگر مغربی دنیا شام کی موجودہ حکومت کو ہٹانے میں کامیاب ہوجائے تو بندر شام میں ایران کے اثر و رسوخ کا مؤثر مقابلہ کرسکیں۔
ہاآرتص نے لکھا: 62 سالہ سعودی شہزادہ بندر بن سلطان، جو سعودی فضائیہ میں ہوابازی کے زمانے سے ہی امریکہ کے عشق میں گرفتار ہوئے اور 22 یا 23 سال تک واشنگٹن میں سعودی سفیر کی حیثیت سے مقیم رہے اور واشنگٹن میں واحد بیرونی سفیر تھے جن کو امریکہ کی خفیہ پولیس کی طرف سے حفاظتی سہولیات فراہم کی جاتی تھیں۔ چنانچہ ان کو یوں ہی نیا عہدہ نہیں سونپا گیا بلکہ آل سعود کی حکومت امریکیوں کے کہنے پر، شام میں ـ بشار اسد کے بعد ـ اپنے کردار کے اگلے مرحلے کی تیاری کررہی ہے۔
گوکہ شام میں بشار اسد کے بعد کی حکومت کے سلسلے میں روس، امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان کڑی مسابقت جاری ہے لیکن آل سعود کی تشویش یہ ہے کہ کہیں شام، بشار کے بعد ایران، حزب اللہ اور عراق کے ساتھ دوستی کی پینگیں نہ بڑھائے کیونکہ مصر ایک بیمار شخص کی مانند ہے جس کو ایک تیماردار کی ضرورت ہے، عرب لیگ مفلوج ہوچکی ہے چنانچہ آل سعود کے حکمران اپنے آپ کو مشرق وسطی کے لئے نئے منصوبے بنانے کے حوالے سے ذمہ دار سمجھنے لگے ہیں گوکہ شام کی صورت حال بھی امریکیوں اور اسرائیلیوں نیز سعودیوں اور قطریوں اور ترکیوں کی توقعات کے مطابق آگے نہیں بڑھ رہی اور ان ممالک اور قوتوں کے حمایت یافتہ کی ناکامیاں اب ترکی کی سرحدوں تک پہنچ چکی ہیں۔
ہاآرتص کی رپورٹ کے مطابق بندر کی نئے منصب پر تعیناتی کی خبر بہت اہم ہے۔ وہ ریاض میں امریکی سی آئی آے کے ایجنٹ ہیں اور ایسی شخصیت کے مالک ہیں جو تیزرفتاری سے فیصلہ کرتے ہیں اور کسی بھی ذریعے کو اپنا ہدف حاصل کرنے کے راستے میں ضائع نہیں کیا کرتے۔
1980 کے عشرے میں جب امریکہ نے نکاراگوا کے باغیوں کو مالی امداد دینے کا ارادہ ظاہر کیا تو بندر بن سلطان نے سعودی زعماء سے بات کی اور باغیوں کو مالی امداد فراہم کی اور جب امریکہ نے افغانستان میں مجاہدین کو مدد دینے کا فیصلہ کیا تو بندر نے یہ ذمہ داری نبھائی۔
بندر ان سعودی شہزادوں میں سے ایک ہیں جو عرب ملکوں میں عوامی انقلاب کے مخالف ہیں اور وہ علاقے میں اخوان المسلمین کے طاقتور ہونے کے واقعے کو بھی ایران جتنا اہم خطرہ سمجھتے ہیں۔ بندر نے ہی عبداللہ بن عبدالعزیز کی مدد کی اور انھوں نے بندر کی مدد سے فلسطین کے لئے عرب امن منصوبہ تیار کرکے دیا اور ان ہی نے رفیق حریری کی ہلاکت کے بعد شام اور حزب اللہ کے خلاف سعودی عرب کی سخت مخالفت پر مبنی پالیسی تیار کی اور بعد میں تجویز پیش کی کہ سعودی عرب شام کے ساتھ صلح کرلے تا کہ شام اور ایران کے تعلقات کو نقصان پہنچایا جاسکے۔
جب عرب ملکوں میں عوامی انقلابات نے سر اٹھایا تو بندر نے بحرین کے اہل تشیع کو کچلنے کے لئے اس چھوٹی ریاست پر فوجی چڑھائی کی حمایت کی اور اسی وقت آل سعود نے مصر کی نئی حکومت کو تین ارب ڈالر امداد دینے کی پیشکش کی۔ جبکہ حتی مصر کے اخوانی صدر "محمد مرسی" خود بھی جانتے ہیں کہ آل سعود کی مدد اس لئے ہرگز نہ تھی کہ سعودی حکمران مصر کی آنکھوں کے عاشق نہيں ہوئے بلکہ مقصد اخوانیوں کو قابو کرنا اور مصر میں ایران کے اثر و رسوخ کا راستہ روکنا تھا اور مرسی تین ارب ڈالر کی امداد کے زیر اثر سعودی عرب چلے گئے تا کہ غیروابستہ تحریک کی آنے والی سربراہی کانفرنس میں ایران کا دورہ کرنے سے قبل سعودی عرب کا دورہ کرچکے ہوں اور ایران کا دورہ ان کا پہلا بیرونی دورہ ثابت نہ ہو۔
سعودی عرب کے مبصرین کا کہنا ہے کہ بندر بن سلطان ہی شام کے باغیوں کو مالی امداد کی فراہمی کا منصوبہ تیار کرچکے ہيں اور حتی کہ انھوں نے بڑی مقدار میں ہتھیار خرید کر شام کے باغی دہشت گرد گروہوں کے حوالے کردیئے ہیں۔ بندر ہی بشار الاسد کی اقتدار سے علیحدگی کے سعودی مطالبے کی پشت پر ہیں اور یہ بندر بن سلطان ہی ہیں جو ایک 89 سالہ بوڑھے اور بیمار بادشاہ کو اتنا شدید موقف اپنانے پر مجبور کررہے ہیں۔ 
صہیونی و یہودی ریاست کے روزنامے ہاآرتص نے مزید لکھا ہے کہ شام کے حوالے سے سعودی موقف اب مکمل طور پر امریکہ سے ہمآہنگ ہوجائے گا کیونکہ امریکہ اور سعودی عرب دونوں چاہتے ہیں کہ ایران کے عرب دنیا میں اس اہم حلیف سے محروم کردیں اور حزب اللہ کو ہتھیاروں اور رسد پہنچانے کے راستوں کو بند کیا جاسکے گوکہ ایرانیوں کو بھی بندر کی تعیناتی اور شام کے سلسلے میں امریکی ـ سعودی منصوبوں کے پس پرد عوامل کا علم ہے چنانچہ اس نے عراق اور بالخصوص عراق کے کرد علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانا شروع کردیا ہے!۔
ہاآرتص لکھتا ہے کہ یہ معلوم نہيں ہے کہ شام کا مستقبل کیا ہوگا تاہم سعودیوں نے بعض ٹولوں پر خوب خوب کام کیا ہے اور انہیں خوب خوب مالی امداد بہم پہنچائی ہے۔
ایک خبر: دمشق کی دہشت گردی کے پیچھے بندر بن سلطان کا ہاتھ تھا
ایک ریٹائرڈ فرانسیسی فوجی افسر اور مشرق وسطی کے اسٹریٹجک اسٹڈیز مرکز کے رکن نے کہا ہے کہ دمشق میں نے کہا کہ دمشق کے سیکورٹی آفس میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائی میں بندر بن سلطان ملوث ہیں اور انہیں امریکہ کا مکمل تعاون حاصل تھا۔
انھوں نے دمشق میں دہشت گردی کی اس کاروائی کی کامیابی کو ہی بندر کی نئے منصب پر تعیناتی کا سبب قرار دیا جس میں شامی حکومت کے کئی اہم اہلکار قتل ہوئے اور ان کی تعیناتی بالکل اسی طرح تھی جس طرح کہ عماد مغنیہ کے قتل کے بعد موساد کے آپریشنل کمانڈر کو موساد کی سربراہی تک ترقی دی گئی۔ بندر کو دمشق میں دہشت گردی کے چند ہی گھنٹے بعد ـ اور امریکی سی آئی اے کے سربراہ ڈیویڈ پیٹریاس کے دورہ ریاض کے چند ہی روز بعد ـ سعودی انٹیلیجنس اور سیکورٹی چیف کی حیثیت سے تعینات کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق پیٹریاس کے دورہ ریاض کے اہم ترین موضوعات میں واشنگٹن کی یہ تجویز بھی شامل تھی کہ بندر کو فوری طور پر سعودی انٹیلجنس کا سربراہ مقرر کیا جائے۔
بعض مبصرین نے کہا کہ بندر کا نیا منصب درحقیقت دمشق میں ہونے والی دہشت گردی کی کامیاب کاروائی کا انعام تھا۔
فرانسیسی افسرنے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ دمشق کی دہشت گردانی کاروائی سی آئی کی براہ راست نگرانی میں ہوئی ہو اسی بنا پر امریکہ بندر کی تعیناتی کے قضیئے میں بھی براہ راست داخل ہوا ہے اور ادھر امریکہ اس کاروائی کے بعد شام پر اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 7 کے نفاذ کو یقینی بنانا چاہتا تھا جس میں فی الوقت وہ کامیاب نہيں ہوسکا ہے۔
ادھر عراقی نیوز ویب سائٹ "نہرین نیٹ" نے ڈیویڈ پیٹریاس کے دورہ ریاض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ڈیویڈ پیٹریاس نے سعودی بادشاہ سے ملاقات کرکے ان کو عرب دنیا کے نازک حالات سے آگاہ کیا، انہیں سعودی حکومت کو درپیش خطرات سے آگاہ کیا، انہیں اسلامی بیداری کے نتیجے میں حلیف حکومتوں کے چل بسنے کی طرف متوجہ کرایا اور ان سے کہا کہ "بیداری کی تحریکوں سے آل سعود کے چاروں ستون کانپنے لگے ہیں" اور ان کو قائل کیا کہ ان اور ان کے ادارے سی آئی اے کی قوی خواہش ہے کہ بندر بن سلطان کو سعودی انٹیلجنس کا چیف بنایا جائے کیونکہ وہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان بہتر تعاون کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ اس ملاقات میں سعودی اور امریکی اہلکار بھی موجود تھے۔
ایک نکتہ: یہ سوال بہرحال اپنی جگہ باقی ہے کہ کیا بندر کی تعیناتی کا مقصد صرف شام اور ایران کا مقابلہ کرنا ہے یا یہ کہ انہیں رسمی طور پر سعودی حکومت کا چارج دینا بھی مقصد ہے؟ کیونکہ بادشاہ بوڑھے اور بیمار ہیں اور ولیعہد سلمان بادشاہی کی اہلیت نہیں رکھتے اور آل سعود کے شہزادوں کے درمیان عبداللہ بن عبدالعزيز کے بعد شدید منازعات کا خطرہ بھی ہے چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی تعیناتی عبداللہ کے بعد کے سعودی عرب کے لئے عمل میں لائي گئی ہے نہ کہ شام میں بشار حکومت کے بعد کے حالات کو قابو میں رکھنے کے لئے۔
بندر کا نیا منصب یہودی ریاست کے حکمرانوں سے ملاقات کے بعد!
سی آئی اے نے بندر کو کیوں ابھارا اور مقرن کو کیوں دبایا
مقرن بن عبدالعزیز کی برطرفی کے پس پردہ عوامل
ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ سعودی انٹیلجنس اداروں کے سربراہ کی حیثیت سے بندر بن سلطان کی تعیناتی، یہودی ریاست کے وزیر جنگ کے ساتھ ان کی مشاورتی ملاقات کے بعد عمل میں لائی گئی جبکہ سعودی عرب میں مناصب اور عہدوں کی تقسیم کی براہ راست نگرانی امریکی سی آئی کے ہاتھ میں ہے۔
المنار نامی ہفتہ نامے نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ سعودی عرب کے سرکاری ڈھانچے کو مسلسل اور تیزرفتار تبدیلیوں کا سامنا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ملک کی نسل اول کے شہزادے یکے بعد دیگرے دنیا سے رخصت ہورہے ہیں اور شہزادوں کے درمیان منازعات کا دور دورہ ہے اور بعض سعودیوں کو خدشہ ہے کہ ان کی حکومت بھی مستقبل میں عربی بہار سے دوچار ہوجائے۔
شہزادوں کا پہلا گروپ
سعودی حکومت کے بعض قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض شہزادے امریکیوں کے پروگراموں، منصوبوں اور تجاویز کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور ان پر اعتماد نہیں کررہے ہیں۔ ان شہزادوں کا خیال ہے کہ آل سعود کی حکومت نے شام میں زیادہ روی کی ہے اور یہ زیادہ روی سعودی حکومت کے لئے مفید نہیں ہوسکتی کیونکہ کہ دمشق کا نظام حکومت مضبوط سے مضبوط تر ہوگیا ہے اور اس کو عوامی حمایت حاصل ہے اور دمشق کے خلاف ہونے والی سازشیں یکے بعد دیگرے ناکام ہورہی ہیں اور ان سازشوں میں ملوث قوتیں برملا ہوچکی ہیں اور اب خلیج فارس کی ریاستوں کی خاندانی حکومتیں خاص طور پر آل سعود حکومت کے خاتمے نوبت پہنچنا قریب ہے۔
گویا آل سعود کے اندر کے بعض اہم حلقوں کو یقین ہوچکا ہے کہ قتل و خونریزی کا جو سلسلہ علاقے میں جاری ہے اس کو علاقے کی قومیں کبھی بھی نہيں بھولیں گی اور وہ کسی دن اپنے خون کا بدلہ لینے کے بارے میں بھی ضرور سوچیں گی اور وہ سعودی حکومت سے بدلہ ضرور لیں گی۔ جبکہ ان خونریزیوں کا فائدہ صرف اور صرف اسرائیل اور امریکہ کو ملے گا۔
ان شہزادوں کو یہ بھی یقین ہے کہ امریکی حکام کسی دن ان کو حسنی مبارک کی طرح تنہا چھوڑیں گے چاہے اسد حکومت کے خلاف امریکہ اسرائیل اور ترکی و سعودی منظرنامہ کامیاب ہو چاہے ناکام؛ یہ بات مسلمہ ہے کہ سعودی حکومت اس منظرنامے کے دائرے سے باہر ہی قربان کی جائے گی جس کے لئے آنے والے دنوں میں نئے نئے معاہدے سامنے آئیں گے جو امریکہ علاقے کے دوسری حکومتوں کے ساتھ منعقد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور یہ حکومتیں وہ ہیں جو جو علاقے میں امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں کے نفاذ کی خواہاں نہيں ہیں۔
شہزادوں کا دوسرا گروپ
سعودی شہزادوں یعنی حکمرانوں کا دوسرا گروہ ان افراد پر مشتمل ہے جو شام میں دہشت گردی جاری رکھنے کی پالیسی کو جاری رکھنے کے حامی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ شام میں دہشت گردی کو شدت پہنچانی چاہئے تا کہ دہشت گردی کو زیادہ فروغ ملے اور وہ اس حوالے سے یہودی ریاست کے ساتھ ہمآہنگی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
ان شہزادوں کا خیال ہے کہ علاقے کی قوموں کو نیست و نابود کرنا اور سعودی حکومت کی مخالف حکومتوں کا خاتمہ اور ملکوں میں عوام کا قتل عام آل سعود کی حکومت کو طول دینے میں معاون ثابت ہوتا ہے اور وہی اسی بنا پر یہودی ریاست، امریکہ اور قطر کی حمایت کررہے ہیں۔
آج کل سعودی عرب میں اقتدار کے مختلف عہدوں کو شہزادوں میں بانٹا جارہا ہے اور یہ درحقیقت حکمران خاندان کے اقتدار کے تحفظ کا ایک وسیلہ سمجھا گیا ہے۔
مقرن کو سیاست کے میدان سے دور کیوں کیا گیا؟
اقتدار کی تقسیم کے اس مرحلے کا پہلا قدم مقرن کو سعودی انٹیلجنس ادارے کی سربراہی سے ہٹانا تھا جس کے ساتھ ہی بندر بن سلطان کو ان کا جانشین مقرر کیا گیا اور یہ آل سعود کی سیاست خطرناک مرحلے میں داخل ہونے کی علامت ہے۔ کیونکہ بندر کے امریکیوں اور یہودی ریاست کے ساتھ خاص قسم کے تعلقات ہیں اور علاقے میں امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں پر عملدرآمد کرنے اور امریکہ کے لئے خطرناک جاسوسی مشنز انجام دینے کے حوالے سے کافی حد تک بدنام ہیں۔
المنار کی رپورٹ کے مطابق مقرن بن عبدالعزیز اور عبدالعزیز بن عبداللہ ان شہزادوں میں سے ہیں جو شام کے حوالے سے سعودی پالیسیوں میں نظر ثانی کرنے اور اس سلسلے میں قطر کی پالیسیوں نیز امریکیوں اور اسرائیلیوں کی تجاویز اور منصوبوں کی عدم پیروی کے خواہاں ہيں۔ ان کی رائے کے مطابق سعودیوں کو اپنی علاقائی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے اور انہيں علاقے میں جاری تحریکوں اور الشرقیہ سمیت بلادالحرمین کے دوسرے علاقوں میں جاری احتجاجی تحریک کے بارے میں ٹھنڈے پیٹوں سوچنا چاہئے (()) کیونکہ امریکی پالیسیاں مشرق وسطی میں مؤثر نہیں ہیں جبکہ بلادالحرمین سمیت پورا علاقہ اس وقت بارود کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکا ہےاور اس میں ہر لمحہ دھماکہ ہونے کا خدشہ ہے اور یہ دھماکہ سعودی حکومت کے لئے بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
امریکی چارہ جوئی
حال ہی میں امریکی سی آئی اے کے سربراہ کی سرکردگی میں اعلی امریکی وفد نے غیر متوقعہ طور پر ریاض کا دورہ کیا اور بادشاہ اور نئے ولیعہد سے ملاقات کی اور بادشاہ اور ولی عہد کو مجبور کیا کہ وہ سیکورٹی اور انٹیلجنس کے اداروں کے عہدوں میں وسیع اصلاحات کا اہتمام کریں اور خاص طور پر ان اداروں کے سربراہوں کو تبدیل کریں جن کا امریکہ اور اسرائیل کے خفیہ اداروں سے براہ راست تعلق ہے اور انہیں ان کے ساتھ تعاون کرنا ہوتا ہے۔ امریکیوں نے سعودی بادشاہ اور ولیعہد سے کہا کہ علاقے اور سعودی عرب کے اندر کی صورت حال پر قابو پانے کے لئے انہيں بندر بن سلطان کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور یہ کہ سعودی حکام وزیر خارجہ سعود الفیصل کی تجاویز کو ضرور توجہ دیا کریں کیونکہ لبنان کی دوسری جنگ (33 روزہ جنگ) میں سعودالفیصل اور بندر بن سلطان کی رائے یہ تھی کہ شام کو خلیج فارس کی ریاستوں کے ساتھ اتحاد کرنا چاہئے یا پھر ایران اور حزب اللہ کے ساتھ۔
یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات کا آغاز اور بندر بن سلطان
بندر بن سلطان ـ جو کسی وقت واشنگٹن میں سعودی سفیر تھے ـ مغربی ممالک نیز اسرائیل کے ساتھ قریبی شناسائی رکھتے ہیں اور ان کے دوست ہیں اور ان کے ساتھ ان کا آنا جانا ہے۔ گوکہ اسرائیلی حکام کے ساتھ ان کے تعلقات 1983 میں امریکی سفارت کے منصب پر مقرر ہونے سے قبل بھی برقرار تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ بندر بن سلطان برطانیہ میں ہوابازی سیکھ رہے تھے۔ اور واشنگٹن میں سعودی سفیر بننے کے بعد یہ تعلقات وسیع تر ہوئے یہاں تک واشنگٹن میں صہیونی ریاست کے سفیر "ایتمار ریونوویچ" کے ساتھ ان کے تعلقات زبانزد خاص و عام تھے۔ یہی نہیں بلکہ سابق صہیونی سفیر "امنون شاحاک" کے ساتھ بھی انھوں قریبی تعلقات برقرار کئے اور شاحاک اس قدر ان کے نزدیک ہوئے کہ بندر کے ذاتی مشیر میں تبدیل ہوگئے اور بندر ان کے تجربیات سے استفادہ کیا کرتے تھے!!!۔
یہودی ریاست کے عہدیداروں کے ساتھ سعودی سفیر کے تعلقات اس قدر وسیع ہوئے کہ بندر بن سلطان موساد کو معتمد بن گئے اور سعودی جاسوسی اداروں نے بھی یہودی ریاست کے اداروں کے ساتھ قریبی تعلقات بحال کئے اور ان کے درمیان تعاون جاری ہوا۔
بندر بن سلطان اور انٹیلجنس ادارے کی سربراہی
بندر اس وقت آل سعود کی انٹیلجنس اداروں کے سربراہ ہیں۔ یہ وہی بندر بن سلطان ہیں جنھوں نے عبداللہ بن عبدالعزیز کو قائل کیا کہ فلسطین کے مسئلے میں اسرائیل کو مطمئن کرنے کے لئے اقدامات کریں اور عبداللہ نے فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کے سلسلے میں عرب منصوبہ پیش کیا جس کی طرف مندرجہ بالا سطور میں اشارہ ہوچکا ہے۔

اردنی مبصر: سعودی خارجہ پالیسی کے لئے دہشت گرد پالتا ہے /  بندر کا کردار
اردن کے سیاسی مبصر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ایسے دہشت گرد پال رہا ہے جن کے افکار کو قابو میں لاکر سعودی خارجہ پالیسی کے اہداف حاصل کرنے کے لئے بروئے کار لایا جاتا ہے۔
اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اردنی مبصر ناہض الحتر نے عربی چینل العالم کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ علاقے میں امریکی منصوبوں پر عملدرآمد کرنے اور کرانے کے حوالے سے آل سعود کا خاندان ہی امریکہ کا حقیقی نمائندہ ہے جو وہابیت کے جامد عقائد کو بروئے کار لاکر اوربلادالحرمین کے معاشرتی طرز فکر کو مد نظر رکھ کر، اس مقدس سرزمین کو دہشت گرد پالنے کے لئے مناسب تربیت گاہ میں تبدیل کرچکا ہے۔
انھوں نے کہا: امریکہ 2003 میں عراق پر قبضہ جمانے کے بعد ویتنام جیسی دلدل میں پھنس گیا؛ یہ ایک وسیع اور خطرات سے بھرپور دلدل تھی چنانچہ اس نے اپنی حکمت عملی بدل ڈالی اور فیصلہ کیا کہ علاقے میں اپنی ان جنگوں کو اپنے کٹھ پتلیوں کے سپرد کردے جو اس کو لڑنی تھیں! اور آج اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ القاعدہ کے دہشت گرد 2006 اور 2007 کے دوران شمالی عراق میں امریکیوں اور سعودیوں کے منصوبے کے تحت اکٹھے کئے گئے تھے تا کہ وہ عراق میں قابض افواج کے خلاف عوامی مزاحمت کو عراق کے اندر خانہ جنگی میں تبدیل کریں۔
الحتر نے کہا: القاعدہ کے ساتھ یمن میں بھی ایک معاہدہ کیا گیا اور القاعدہ کے دہشت گرد، یمن مین بھی امریکہ اور سعودی عرب کی خفیہ ایجنسیوں کی اطلاع سے، طیاروں کے ذریعے ترکی منتقل کئے گئے اور ترکی سے شام میں داخل کئے گئے جس سے یہ حقیقت بھی طشت از بام ہوگئی کہ القاعدہ ایک آلۂکار ہے۔ اور عجب یہ کہ القاعدہ نے اپنی تشکیل کے ابتدائی لمحوں سے لے کر اب تک، ایک گولی بھی اسرائیل کی طرف نہیں چلائی ہے اور اس ٹولے کی پوری سوچ عراقی قوم اور شامی عوام اور حکومت کے خلاف لڑنے پر مرکوز ہے۔
انھوں نے علاقے کی صورت حال میں سعودی خفیہ اداروں کے سربراہ بندر بن سلطان کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بندر بن سلطان کو دمشق کی قومی سلامتی کی عمارت میں دھماکے کے بعد سعودی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہ مقرر کئے گئے اور جب دمشق پر قبضے کا منصوبہ ناکام ہوا تو پلان "B" (یعنی بندر منصوبے) کو نئے پروگرام کی بنیاد بنایا گیا۔ بندر منصوبے کے تحت شام کی فوج القاعدہ اور دوسرے دہشت گرد ٹولوں کے خلاف لڑ لڑ کر فرسودہ ہوجاتی۔

یہ متن نامکمل اور جاری ہے

ـ بندر بن سلطان کے دلچسپی کے امور کیا ہیں؟

ـ متنازعہ سعودی شیڈو پرنس لاپتہ / تصاویر دیکھنا نہ بھولیں