3 اکتوبر 2011 - 20:30

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ کوئٹہ میںہزارہ قبیلہ کے افراد کا قتل عام مذہب اور قومیت کے نا م پر ہونے والی سفاکانہ دہشت گردی کی بد ترین مثال ہے.

ابنا: حکومت اور قانوں نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے ہاتھوں ہونے والی قتل و غارت اور خونریزی کو روکنے میں بے بس ہو چکے ہیں، موجودہ سنگین صورت حال کا تقاضہ ہے کہ کوئٹہ شہر کو فوج کے حوالے کر دیا جائے ، سانحہ اختر آباد پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ بلوچستان بالخصوص کوئٹہ میں عملی طور پر دہشت گردوں اور قانون شکن عناصر کا راج ہے اور وہاں حکومت کی کوئی رٹ نظر نہیں آتی اس لیے گورنر بلوچستان اور وزیر اعلیٰ کو اپنی ناکامی کے اعتراف میں اقتدار سے الگ ہو جاناچاہیے ۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ابھی تک سانحہ مستونگ کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی جس کی وجہ سے دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہو چکے ہیں ، اگر خونریزی میں ملوث کسی ایک دہشت گرد کو بھی قانون کی گرفت میں لے کر تختہ دار پر لٹکایا جاتا تو شائد صورت حال مختلف ہوتی ، دریں اثنا مجلس وحدت مسلمین پاکستا ن ،شیعہ علما کونسل اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے سفاک دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجہ میں ہزارہ قبیلہ کے تیرہ افراد کی شہادت کے خلاف تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا ۔ اس المناک سانحہ کے بعد کوئٹہ میں ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ، مشتعل مظاہرین نے حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی اور ایک بس کو آگ لگا دی۔.........../169