سعودی عرب میں عوامی قیام کی تازہ صورت حال؛
اہل البیت نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق تیونس، مصر اور لیبیا میں انقلابات کی کامیابی اور یمن اور بحرین میں ان انقلابات کو ناکام بنانے کے لئے آل سعود اور امریکہ کی تمامتر کوششوں کی ناکامی کے بعد آل سعود کے حکمرانوں کو شدید تشویش لاحق ہوگئی ہے گو کہ بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی بعض باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں صحیح صورت حال نہیں بتائی جاتی اور پھر وہ بیمار بھی ہیں اور عام طور پر ڈاکٹروں کے مشورے سے آرام کررہے ہوتے ہیں اور شہزادوں کو بھی ان کے بعد آنے والے حالات کی زیادہ فکر ہے اور وہ حکومت کے لئے دانت تیز کرنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن اسلامی بیداری کی لہریں مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں لیکن آل سعود کے بادشاہ کبھی لوگوں کے قرضے معاف کرتے ہیں کبھی ان کو انعام و اکرام سے نوازتے ہيں کہیں نمائشی اصلاحات کی بات کرتے ہیں لیکن جب عوام کوئی مطالبہ کرتے ہيں تو انہیں آہنی مکے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انھوں نے حال میں اعلان کیا کہ "خواتین بھی اس کے بعد انتخابات میں ووٹ دے سکیں گی اور وہ امیدوار کے عنوان سے بھی نامزد ہوسکیں گی" جس سے کافی لوگ جذباتی بھی ہوچکے ہونگے لیکن فرمان کا دوسرا حصہ دیکھ کر ٹھنڈے پڑ گئے ہونگے اور وہ یوں کہ "خواتین چار سال بعد ووٹ دینے کی اہل ہونگی اور وہ نامزد بھی ہوسکیں گی"؛ چنانچہ کل بروز جمعرات بھی بلدیاتی انتخابات ہورہے ہيں جن میں خواتین کو شرکت کا حق نہیں ہے اور عورتوں کو نمائشی حق رائے دہی کے ساتھ ہی ایک خاتون کو 10 کوڑے مارے گئے ہیں کیونکہ اس نے آل سعود کی سلامتی اور وہابی اسلام کے قواعد پامال کرتے ہوئے "گاڑی چلائی تھی"۔ سعودی عرب کی مجموعی صورت حال کیا ہے؛ دیکھئے:
- سعودی عرب میں بدعنوانی پیچیدہ صورت حال اپنا چکی ہےایک سعودی نیوز ویب بیس کے سروے کے مطابق سعودی عرب کے 90 فیصد عوام کا خیال ہے کہ سعودی سرکاری اداروں میں رشوت ستانی کا مسئلہ ایک پیچیدہ مشکل میں بدل گیا ہے۔التوافق نامی ویب نیوز بیس کے سروے میں سوال کیا گیا تھا کہ "کیا آپ کا خیال ہے کہ سعودی سرکاری اداروں میں رشوت ستانی اور بدعنوانی ایک پیچیدہ مسئلے میں بدل گئی ہے؟" جس کے جواب میں 87 فیصد شرکت کرنے والوں نے اس کا مثبت جواب دیا جبکہ 5 فیصد نے اس کی پیچیدگی کو مستر کیا لیکن رشوت ستانی کو رد نہیں کیا۔ آٹھ فیصد لوگوں نے کہا کہ اس حوالے سے انہیں کچھ بھی نہیں معلوم۔
ـــ بحران سے بھاگنے کے لئے آل سعود کے ہتھکنڈےجزیرہ نمائے عرب کی انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ شیخ محمد الحسین نے آل سعود کی جانب سے خواتین کو رائے دہی کا حق دینے کے اعلان کو آل سعود کا نمائشی اقدام قرار دیا اور کہا کہ حکمران خاندان صرف ظاہری طور پر ایک ماحول بنانا چاہتا ہے جس کا مقصد ریاض کو دامنگیر ہونے والے عظیم بحران سے بھاگ جانا ہے۔انھوں نے کہا: جزیرہ نمائے عرب کے سیاسی مقدرات میں خواتین کی حصہ داری کا موضوع نہایت پیچیدہ موضوع ہے کیونکہ یہاں زندگی کے تمام شعبوں میں حقوق نسوان کا عمومی نظریہ حاکم ہے اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں حقوق نسوان کی پامالی معمول کی سی بات ہے اور اس کا سرچشمہ جاہلی تفکر اور جاہلی ثقافت ہے۔یادرہے کہ آل سعود کے حکمران اپنے درباری مفتیوں سے فتوے جاری کروا کر عورتوں کے حقوق کی پامالی کو اسلامی تعلیمات کا ثمرہ فرار دیتے ہیں۔انھوں نے کہا: سعودی حکومت اور مذہبی اداروں کے اراکین میں آج بھی جاہلیت کا عنصر پوری قوت کے ساتھ پایا جاتا ہے گوکہ وہ اسلام اور نفاذ شریعت کے دعویدار ہیں جبکہ اسلام نے عورت کو احترام اور تکریم کا درس دیا ہے اور انہیں سیاسی حقوق سمیت دیگر حقوق دینے کا قائل ہے۔ عجب یہ کہ آل سعود اور ان کے مفتیوں کے نزدیک وہابیوں کے سوا روئے زمین پر کوئی مسلمان نہیں رہتا باقی سب کافر ہیں اور یہ ہے ان کا اور ان کے اسلام کا حال۔عجب تر یہ کہ سعودی بادشاہ عورتوں کو حق رائے دہی دینے کا اعلان کرتے ہیں اور کوئی ان سے یہ نہیں پوچھتا کہ بھئی اس ملک میں مردوں کو کونسے سیاسی حقوق حاصل ہیں؟ کیا کوئی عام آدمی جو سعودی خاندان سے باہر کا ہو یا اس خاندان سے تعلق نہ رکھتا ہو، وزیر، گورنر، کمانڈر وغیرہ بن سکتا ہے یا مجلس شوری کا رکن بن سکتا ہے؟ کیا وہاں کوئی مرد اپنے شہری حقوق کا مطالبہ کرسکتا ہے؟۔رييس کميته حقوق بشر شبه جزيره عربي گفت: تفکر دوران جاهلي هنوز در مقامات رژيم عربستان و نهادهاي مذهبي آن که مدعي اسلام و اجراي شريعت اسلامي هستند وجود دارد در حالي که اسلام خواستار احترام و تکريم زن و اعطاي بسياري از حقوق آنان از جمله حقوق سياسي است.
ــ ڈرائیور خواتین کی پاداش "کوڑے"؛ کارچلانےکےجرم میں خاتون کو دس کوڑوں کی سزاایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سعودی بادشاہ کی طرف سے خواتین کو حق رائے دہی دینے کے اعلان کے صرف دو روز بعد ایک خاتون کو اس جرم میں 10 کوڑوں کی سزا سنائی گئی ہے جس کو گاڑی چلاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نائب "فلپ لوتھر" نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے: کوڑے نہایت سخت سزا ہے لیکن کسی کو بھی یقین نہیں آتا کہ سعودی حکام نے ایک بے بنیاد بہانے یعنی گاڑی چلانے کی پاداش میں ایک خاتون کو کوڑوں کی سزا کیوں سنائی ہے۔لوتھر صاحب کو یقین کیوں نہیں آتا یہ تو وہ خود بتائیں گے لیکن اگر وہ سعودی حکومت کے کرتوتوں کا صحیح جائزہ لیتے اور امریکہ کے زیر اثر سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک میں سعودیوں کے ہاتھوں بالواسطہ اور بلاواسطہ ہزاروں اور لاکھوں انسانوں کے قتل عام کی داستانوں کو توجہ دیتے تو شاید اس بات کا بھی وہ آسانی سے یقین کرلیتے! اب تو انھوں نے جس انداز سے سوال اٹھایا ہے اس سے تو یوں ظاہر ہوتا ہے کہ گویا مطلق العنان سعودی استبداد ایک نہایت معصوم انسان دوست اور انسانوں بالخصوص عورتوں کے تمام حقوق دینے والی حکومت ہے بس یہ چھوٹی سی غلطی اس سے سرزد ہوئی ہے جس کی آل سعود سے توقع نہیں تھی!۔لوتھر صاحب بھی شاید عورتوں کے حق رائے دہی سے تھوڑے بہت جذباتی ہوکر کہتے ہیں: " بادشاہ سلامت کا یہ فرمان خوشایند اور خوشی کا باعث ہے" لیکن ان کے بقول اگر یہ اعلان ہونے کے دو ہی روز بعد ایک خاتون کو ڈرائیونگ کے جرم میں کوڑوں کی سزا سنائی جائے تو بادشاہ کا یہ فرمان بے اثر ہوگا۔ جبکہ دو دیگر خواتین اسی جرم میں گرفتار ہوئی ہیں اور ان کو بھی اسی قسم کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔یاد رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی کا کوئی قانون موجود نہیں ہے لیکن عورتوں کو ڈرائیونگ لائسنس نہیں دیا جاتا یہ الگ مسئلہ ہے کہ کیا بغیر لائسنس ڈرائیونگ کی پاداش میں کوڑوں کی سزا دینی چاہئے کیا وہابی قاضیوں کے پاس اپنے ان غیر انسانی احکام کے لئے کوئی خاص منبع ہے جو دوسروں کے پاس نہیں ہے؟رائٹرز نے رپورٹ دی ہے کہ خاتون کو یہ سزا ایسے حالات میں سنائي گئي ہے کہ سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے خواتین کو سنہ دو ہزار تیرہ میں ہونے والے انتخابات میں نامزد ہونے اور حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔واضح ر ہے کہ سعودی عرب کے قوانین کے مطابق خواتین اپنے سرپرست کی اجازت سے ہی کچھ فعالیت انجام دے سکتی ہیں بلکہ غیر ملکی سفر اور آپریشن کرانے کے لئے بھی ان کو اپنے سر پرست کی اجازت لینی پڑتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سعودی حکام نے بائيس مئی کو ایک خاتون ڈرائیور منال شریف کو اس وجہ سے گرفتار کرلیا تھا کہ سعودی عرب کے مشرقی شہر الخبر میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے اس کی تصویر یو ٹیوب پر نشر ہوگئي تھی۔
- خواتین کو حق رائے دہی کا اعلان ڈھونگ ہےسعودی عرب کے سیاسی تجزیہ نگار "علی الاحمد" نے کہا ہے کہ سعودی بادشاہ "عبداللہ بن عبدالعزیز نے ممکنہ احتجاجات کا سد باب کرنے اور عالمی سطح پر اپنی تصویر مثبت بنانے کے لئے آنے والے بلدیاتی انتخابات میں خواتین کو حق رائے دہی اور نامزدگی کا حق دینے کا اعلان کیا جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ سعودی حکمران کسی طور بھی خواتین کو ان کے سیاسی حقوق دینا نہیں چاہتے اور سعودی بادشاہ کا یہ اعلان عوام کو دھوکا دینے کے لئے کیا ہے جس کی بنیاد خیرخواہی نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر بادشاہ اور دیگر حکام کو خواتین کے حقوق کی فکر ہوتی تو وہ انتخابات کو ملتوی کرتے اور انہیں رائے دہی اور نامزدگی کا حق دیتے لیکن سعودی حکمران اپنے شہریوں کے سیاسی پیشرفت اور سیاسی امور میں عوام کی شراکت کے خلاف ہیں۔انھوں نے کہا: بہترین اور معقول ترین روش یہ ہے کہ ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا جائے اور صرف خواتین کو حق رائے دہی نہ دیئے جانے کو ہی اس بائیکاٹ کی بنیاد نہیں بنانا چاہئے بلکہ اس ملک میں امتیازی پالیسیوں، انتخابات کی عدم شفافیت اور کونسلوں کی حدود و اختیارات کو بنیاد بنانا چاہئے جن کے پاس کسی قسم کے کسی فیصلے کا اختیار نہیں ہے۔دریں اثناء سعودی عرب سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کل سعودی عرب میں بلدیاتی انتخابات ہورہے ہيں جن میں عورتوں کو شرکت کا حق نہیں دیا گیا ہے۔
- سعودی عرب میں کل کے بلدیاتی انتخابات میں خواتین غائب رہیں گیگوکہ ملک عبداللہ نے خواتین کو حق رائے دہی دینے کا اعلان کیا ہے، اس ملک میں بلدیاتی کونسلوں کے انتخابات آدھی آبادی کو حق رائے دہی دیئے بغیر منعقد ہورہے ہیں اور خواتیں ان انتخابات میں کسی حوالے سے بھی شریک نہیں ہیں۔ العالم نے بدھ کے رپورٹ دی ہے کہ سعودی عرب میں 12 لاکھ رائے دہندگان بلدیاتی انتخابات میں رائے دینے کے لئے تیار ہورہے ہيں۔ سعودی سلطنت کی تاریخ میں دوسری بار اس طرح کے انتخابات ہورہے ہیں اور ان انتخابات میں 5324 مردوں میں سے 816 مردوں کو مردوں ہی کے ووٹ لے کر بے اختیار بلدیاتی کونسلوں کی رکنیت حاصل کرنی ہے۔ اور بادشاہ کے حکم کے باوجود خواتین ان انتخابات میں شرکت نہیں کررہیں اور انہیں نہ تو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے اور نہ ہی نامزد ہونے کا حق؛ کیونکہ بادشاہ کا نمائشی فرمان چار سال بعد نافذ العمل ہوگا۔آل سعود کی جنرل الیکشن کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ 2005 میں منتخب اراکین ایک بار پھر منتخب ہوسکتے ہیں جبکہ کئی لوگوں نے نامزدگی کا اعلان نہیں کیا ہے۔
ــ سعودی پیشکش؛ اسرائیل کی سلامتی کے لئے صلح لازم ہےسعودی وزیر خارجہ "سعود الفیصل" نے کہا ہے کہ ان کے ملک کی نظر میں صلح اور امن سے اسرائیلی مقاصد مشکوک ہیں اور دنیا کے ملکوں کو 1967 کی سرحدوں کے اندر فلسطینی مملکت کے قیام کی حمایت کرنی چاہئے۔انھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کو نظر انداز کیا کیونکہ 1967 کی سرحدوں کے اندر فلسطینی مملکت کے قیام کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں اور 1967 کے سے قبل اسرائیل کے ہاتھوں مقبوضہ سرزمینوں میں اسرائیل کی حکومت جائز ہے اور یہ