29 نومبر 2010 - 20:30

اس میں شک نہیں ہے کہ وکی لیکس کے انکشافات ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں ۔۔۔

۔۔۔ اس میں شک نہیں ہے کہ وکی لیکس کے انکشافات ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں چنانچہ یہ اتفاقیہ اور حادثاتی انکشافات نہیں ہوسکتے اور یہ دستاویزات ایک باضابطہ منصوبے کے تحت وکی لیکس کے سپرد کی جاتی ہیں اور وہ انہیں شائع کرتا ہے۔ اس میں بھی شک نہیں ہے کہ وکی لیکس آج ایک ابلاغی ادارہ ہے اور ایک نہایت خفیہ پراجیکٹ پر کام کررہا ہے جس کے مقاصد بھی خفیہ ہی ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ کہ مغربی دنیا میں معمولی سے سیکورٹی مخالف اقدام کی سزا موت ہے اور یہ موت دہشت گردی کا نشانہ بنائے جانے سے لے کر پہاڑ سے چھلانگ لگانے، پانی میں ڈوب جانے، ہیلی کاپٹر حادثے یا کار حادثے میں دنیا سے رخصت ہونے جیسے حادثات کے نتیجے میں کسی کو بھی آسکتی ہے؛ تو ایسے حال میں یہ سمجھنا بھی درست نہیں ہے کہ وکی لیکس نے مغربی طاقتوں کی منظوری لئے بغیر ہی انکشافات کا یہ سلسلہ چلا رکھا ہے چنانچہ امریکہ اور یورپ کا منفی رد عمل ایک ابلاغی حربہ ہے اور اس کا مقصد دنیا کی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ وکی لیکس کے مقاصد میں تھوڑا سا غور کرنے سے ایک خاص بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ ایک عالمی منصوبہ ہے جس کے ذریعے دنیا کی سطح پر ملکوں کے درمیان تعلقات پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہوتی ہے؛ ملکوں اور قوموں کے بارے میں بدگمانیاں پیدا کی جاتی ہیں؛ بعض کو بعض کا دشمن ظاہر کیا جاتا ہے؛ امریکی طاقت جتائی جاتی ہے اور استکبار کے مستقبل کی پالیسیوں اور منصوبوں کے نفاذ کے لئے راستے ہموار کئے جاتے ہیں۔

میرے اس خیال کی ایک دلیل غاصب صہیونی ریاست کا عجیب اور "قبل از وقت" د عمل ہے جس کو پڑھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہے:صہیونی کابینہ نے وکی لیکس کے تازہ انکشافات کے بارے میں اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ "وکی لیکس کی رپورٹ کے حوالے سے ہم بالکل مطمئن ہیں"قاتل کابینہ کے سربراہ نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ "وکی لیکس کی جانب سے دستاویزات افشاء ہونے سے صہیونی ریاست کو کسی بھی قسم کی فکرمندی اور تشویش کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ "اسرائیل وکی لیکس کی افشاء شدہ دستاویزات کا نقطہ ارتکاز نہیں ہے"۔ صہیونی روزنامہ صہیونیستی ہاآرتص، کی رپورٹ کے مطابق ـ ایسے حال میں کہ امریکیوں نے وکی لیکس کے انکشافات سے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان انکشافات کی وجہ سے کئی فراد کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے ـ بنیامیں نیتان یاہو نے کہا ہے کہ فکرمندی کی کوئی بات نہیں ہے اور اسرائیل ان انکشافات کا نقطہ ارتکاز نہیں ہے۔ اس صہیونی رد عمل سے اس بات کا امکان بھی واضح ہوجاتا ہے کہ شاید وکی لیکس بھی بہت سے ابلاغی وسائل کی مانند عالمی صہیونی نیٹ ورک سے وابستہ ہو اور صہیونی ریاست کے مفادات کو خاص طور پر مدنظر رکھتا ہو اور ہم جانتے ہیں کہ ایسی صورت میں یورپ اور امریکہ وکی لیکس کا کچھ بگاڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔وکی لیکس ویب سائٹ نے اپنا کام چار سال قبل سویڈن میں شروع کیا تھا؛ اس ویب سائٹ نے گذشتہ برس عراق اور افغانستان میں جاری امریکی جنگ کے بارے میں بعض دستاویزات فاش کردی تھیں۔ بہرصورت بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس ویب سائٹ کے پس پردہ پراسرار اغراض و مقاصد ہیں اور اس کے بعض مغربی حکام کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور بعض ماہرین وکی لیکس کے انکشافات کو امریکہ میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کی اندرونی کشمکش کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔ بہرحال صہیونی ریاست کے وزیر اعظم کے قبل از وقت اظہار اطمینان نے وکی لیکس کے اقدامات کو مبہم سے مبہم تر بنا رکھا ہے۔ دریں اثناء ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے بھی آج اس ویب سائٹ کے نئے انکشافات کے بارے میں اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔صدر احمدی نژاد نے کہا ہے کہ وکی لیکس کی رپورٹیں منظم انداز سے منصوبہ بندی کے نتیجے میں شائع ہوتی ہیں اور ان دستاویزات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ صدر نے وکی لیکس کے تازہ ترین انکشافات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: ان رپورٹوں کی اشاعت کے لئے پیشگی منصوبہ بندی کی جاتی ہے لیکن ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور ہمارے خیال میں یہ بالکل غیر اہم انکشافات ہیں اور امر مسلم یہ ہے کہ یہ اپنا وقت ضائع کرنے اور پڑھنے کے لائق ہی نہیں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110