17 مئی 2010 - 19:30

شہر احساء میں شیعہ باشندوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور اسی سلسلے میں ایک فعال سماجی و مذہببی کارکن "حاج عبدالرسول عامر" کو نواسۂ رسول امام حسین (ع) کی عزاداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں آگاہ ذرائع نے بتایا کہ سعودی سیکورٹی فورسز نے حاج عبدالرسول عامر کو الاحساء کی امامبارگاہوں میں عزاداران امام حسین علیہ السلام کے دستہ جات منظم کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔ یادرہے کہ دنیا میں جمہوریت اور بیان کی آزادی کے بلندبانگ نعرے لگانے والی طاقتوں اور تنظیموں کی آنکھوں کے سامنے سعودی عرب میں اہل تشیع کے ساتھ نہایت ناروا برتاؤ رکھا جارہا ہے اور انہیں حتی کہ مذہبی مراسمات کی انجام دہی کی اجازت نہیں ہے؛ ان کی مسجدیں بند کی جارہی ہیں؛ انہیں سنی مسجدوں میں بھی نماز کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی جارہی اور کئی بار شیعیان حجاز سڑکوں پر نماز جماعت ادا کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جبکہ جمہوریت اور بیان کی آزادی کے بہانے ملکوں پر چڑھائی کرنے والی طاقتوں کے نہایت قریبی تعلقات اور شاہ سعودیہ کے ساتھ ان کی ہم پیالگی اور ہم نوالگی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ حاج عبدالرسول عامر سنہ 2004 میں بھی ماتمی دستوں کو منظم کرنے کے الزام میں گرفتار ہوکر 17 روز تک جیل میں رہے تھے۔ حاج عامر سعودی عرب کی شیعہ اکثریتی علاقوں کی متعدد امامبارگاہوں اور مساجد کے متولی اور سرپرست ہیں۔قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کے شیعیان اہل بیت (ع) کے بنیادی حقوق اور شہری آزادیاں مکمل طور پر سلب کرلی گئیں اور دنیا کی سطح پر انسانی ضمیر کے دعویدار ذرائع ابلاغ، انسانی حقوق کی حفاظت کی دعویدار طاقیتں اور انسانی دکھ بانٹنے کی دعویدار تنظیمیں یہ سب کچھ دیکھ کر اس لئے خاموش ہیں کہ سعودی حکمران امریکہ اور عالمی صہیونیت کے دوست اور ان کے حکمرانوں کے ہم پیالہ اور ہم نوالہ ہیں وہ بھی ایسے حال میں کہ سعودی عرب کو حال ہی میں عالمی دہشت گردی کا منشأ و منبع قرار دیا گیا ہے۔ ......................../110