اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ریاض کے بارے میں حقائق معلوم کرنے اور دستاویزی رپورٹ نشر کرنے پر آل سعود نے تین سعودی نوجوانوں کو فوری طور پر گرفتار کرلیا ہے۔ ان لوگوں کی دستاویزی رپورٹ لندن میں سرگرم عمل سعودی اپوزیشن کے ادارے الاصلاح کے ویب بیس پر شائع ہوئی ہے جس کے فورا بعد آل سعود کی فورسز نے ان تین نوجوانوں کو حقائق فاش کرنے کی پاداش میں گرفتار کرلیا۔
سعودی عرب میں غربت کتنی ہے؟ کونسے علاقے کتنے زيادہ غریب ہیں؟ جدہ، مکہ معظمہ، مدینہ منورہ اور طائف نیز دارالحکومت ریاض میں کیا عوام کا ایک ہی طبقہ ہے؟ کیا بیرونی مزدوروں کی یہ بات صحیح ہے کہ سعودی عرب میں سب بادشاہ ہیں؟ یا نہں حقائق کچھ اور ہیں۔ تین سعودی نوجوانوں نے ایک جوانانہ مہم جوئی کرکے ایک دستاویزی فلم میں نیاض کے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے جبکہ اس سے پہلے بھی ابنا کی ایک رپورٹ جو سعودی عرب کی صورت حال کے بارے میں تیارکردہ ایک رپورٹ کے ضمن میں شائع کی گئی ہے، مکہ معظمہ کے سلسلے میں بعض حقائق کو فاش کرتی ہے۔بہر حال پہلے ہم یہاں اس ویڈیو کا خلاصہ پیش کرتے ہیں اور ویڈیو کی لنک بھی دیتے ہيں آپ خود دیکھیں کہ آل سعود کے محلات کے سائے میں موجودہ حقائق کیا ہیں؟۔اس سے پہلے موصول ہونے والی رپورٹ میں العالم نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا تھا کہ سعودی عرب میں تین نوجوانوں کو تفتیش کے لئے خفیہ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ویڈیو بنانے والے تین سعودی نوجوانوں کو ریاض کے شمالی علاقے "الصحابہ" سے گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے نام بالترتیب "فراس بقنه"، "خالد الرشید" اور "حسام الدرویش" بتائے گئے ہیں۔ اس ویڈیو میں دارالحکومت ریاض کے مرکز سے صرف 5 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع "حي الجرادی" میں رہنے والے غرباء کی حالت زار دکھائی گئی ہے۔فراس بقنہ ابتدا میں ریاض کے پوش ایریا میں جاکر قیمتی گاڑیوں میں بیٹھے افراد سے پوچھتا ہے: کیا حال ہے؟ اور سب ایک ہی جواب دیتے ہیں کہ "میں خیریت سے ہوں" یا "ہم خیریت سے ہیں" اور پھر جرادی روڈ پر کئی پیدل چلنے والے افراد سے ان کا حال پوچھتا ہے تو وہ کہتے ہیں "میں خیریت سے نہیں ہوں" اور اس کے فورا بعد فراس بقنہ لوگوں کے گھروں میں داخل ہوتا ہے اور ان کے گھروں کا حال فلماتا اور رپورٹ بناتا ہے۔اس ویڈیو میں ایک امام مسجد سے بھی بات چیت ہوئی ہے اور امام مسجد نے کہا ہے کہ "غربب کی وجہ سے منشیات، جنسی برائیاں اور بے روزگاری جیسے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ ویڈیو کا عنوان ہے "ملعوب علینا" جس کا ہم نے ترجمہ کیا: "ہم بازیچہ ہیں"۔ یا "ہم ارب پتی حکمرانوں کے ہاتھوں میں کھلونے ہيں"۔

سعودی عرب کے سیاسی اور سماجی کارکنوں نے ان نوجوانوں کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور ہزاروں نوجوانوں نے ان کی کام کا سراہتے ہوئے خدا سے ان کی رہائی کی التجا کی ہے۔گرفتار نوجوانوں کے قریبیوں نے کہا ہے کہ ان نوجوانوں کا مقصد معاشرتی مسائل کو حل کرانا تھا۔ایک نوجوان ویڈیو کے آغاز پر کہتا ہے: یہ صومالیہ نہیں ہے بلکہ سعودی حکومت کا دارالحکومت ریاض ہے اور یہ شہر کے مرکز سے صرف پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر جرادی روڈ کے حقائق ہيں۔
ــ مکہ کے تقدس سے آل سعود کی لاپرواہی / انڈر ورلڈ کی موجودگی!!ایک سعودی ناول نگار نے "رجاء عالم" نے مکہ معظمہ کی پس پردہ مسائل کو فاش کرکے اپنے عرب پرستاروں کو چونکا دیا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ مکہ معظمہ کے بارے میں عمومی خیال کے بر عکس یہ مقدس شہر دنیا کے دوسرے شہروں سے مختلف نہیں رہا ہے۔مڈل ایسٹ آنلائن نے محترمہ رجاء عالم کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ انھوں نے برسلز میں مکہ کے انڈر ورلڈ کے بارے میں انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مکہ اور دنیا کے دوسرے شہروں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔رجاء عالم اپنی کتاب "خاتم" کی رونمائی کے لئے برسلز میں تھیں۔ ان کی کتاب فرانس کے "ایکت سود" پبلشرز نے طبع کی ہے۔ انھوں نے تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شدید سنسر کی بنا پر ان کی کتاب سعودی عرب میں نہ چھپ سکی۔انھوں نے کہا: سعودی عرب میں لوگ دو گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں ایک انتہا پسندوں اور شدت پسندوں کا گروہ اور ایک روشنفکروں کا گروہ۔انھوں نے کہا: انتہاپسند پسند گروہ کتابخوانی اور مطالعہ و تحقیق سے دور ہے اور جب مطالعہ کتب کے شوقین لوگ میری کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں اس کی قدر و قیمت بھی جانتے ہیں کیونکہ میں نے ایسے مقام کے بارے میں لکھا ہے کہ اگر اس کے بارے میں نہ لکھتی تو عین ممکن تھا کہ یہ مقدس مقام تباہی کی راہ پر گامزن ہوجاتا۔انھوں نے اپنی کتاب میں مکہ معظمہ کے پس پردہ حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے لکھا ہے: مکہ معظمہ میں عیاشی کے لئے مکانات موجود ہیں جہاں مرد حضرات منشیات، موسیقی اور عورتوں کے لئے جایا کرتے ہیں۔ رجاء عالم نے بیسویں صدی کے دوران مکی سماج کا مرحلہ وار تعارف کرایا ہے اور لکھا ہے کہ زیر زمین دنیا مکہ معظمہ سمیت سعودی عرب کے اکثر شہروں میں پائی جاتی ہے۔
.............
/110
حصہ اول: ملعوب علینا
حصہ 5/1: ملعوب علینا
حصہ دوئم: ملعوب علینا
حصہ سوئم: ملعوب علینا
حصہ چھارم: ملعوب علینا