جمیعت علمائے ہند نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کے حالیہ عوامی بیانات کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ تنظیم کا الزام ہے کہ وزیر اعلیٰ کے یہ بیانات کھلے طور پر فرقہ وارانہ، غیر آئینی اور نفرت انگیز ہیں، خصوصاً اس لیے کہ یہ ایک اعلیٰ آئینی عہدے پر فائز شخص کی جانب سے دیے گئے ہیں۔
جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے ایک بار پھر مسلمانوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مسلمانوں کے خلاف تعصب بڑھتا جا رہا ہے۔
جمیعت علماء ہند نے پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی سرگرمیوں کے تحت نہ صرف مکانات کی تعمیر کا سلسلہ برقرار رکھا ہے بلکہ اب متاثرہ کسانوں میں بیج اور ڈیزل کی تقسیم بھی شروع کر دی ہے۔
سپریم کورٹ نے پیر کے روز جمعیت علمائے ہند کی جانب سے دائر درخواست پر غور کرنے سے انکار کر دیا۔یہ معاملہ جسٹس جے کے پر مشتمل بنچ کے سامنے سماعت کے لیے آیا۔ مہیشوری اور وجے بشنوئی بنچ نے واضح کیا کہ وہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم میں مداخلت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، جس نے درخواست گزار کو ریاستی حکومت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔
، جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس آج مولانا محمود اسعد مدنی، صدر جمعیۃ علماء ہند کے زیر صدارت بمقام مدنی ہال، آئی ٹی او، نئی دہلی منعقدہوا، جس میں وقف ترمیمی ایکٹ 2025 ، غیر قانونی دراندازی کا مسلمانوں پر الزام لگانے، فلسطین امن معاہدہ اور ملک کے موجودہ حالات میں مسلم اقلیت کے عرصہ حیات تنگ کرنے جیسے دور حاضر کے سلگتے ہوئے مسائل پر تفصیل سے تبادلۂ خیال ہوا۔
بھارت میں ایک اور ہجومی تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں اتر پردیش کے ضلع کشی نگر کے کُبرا بوال پٹی گاؤں میں ایک مسلمان شخص کو رسی سے باندھ کر بری طرح مارا پیٹا گیا۔