اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ
ابنا ـ کے مطابق، صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے پاکستان کے ضلع
کرم میں دہشت گردانہ واقعے پر تعزیتی پیغام جاری کیا ہے اور کہا ہے: میں علاقہ کرم
میں آج رونما ہونے والے دہشت گردانہ واقعے کے سلسلے میں ـ جو دسوں پاکستانی شہریوں
کے شہید اور زخمی ہونے پر منتج ہؤا ہے، پاکستان کی حکومت اور قوم اور شہداء کے اہل
خانہ کو تعزیت پیش کرتا ہوں۔
صدر پزشکیان نے اپنے پیغام
میں لکھا: دہشت گردی کسی بھی شکل میں قابل مذمت ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران ماضی
کی طرح اپنے دوست اور برادر ملک پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا اور خطے میں
سلامتی کو تقویت دینے اور استحکام کے حصول کے لئے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سنجیدگی
کے ساتھ جاری رکھے گا۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق،
پاراچنار سے پشاور جانے والے شیعیان پاراچنار کی کئی گاڑیاں دہشت گردوں کے سفاکانہ
حملے کا نشانہ بنیں اور خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد شہید ہو گئے۔
مقامی ذرائع نے بتایا ہے
کہ شہداء کی تعداد 42 تک پہنچ گئی ہے اور پاکستان کے اعلی حکام نے اس حملے کی شدید
مذمت کی ہے۔
شیعیان پاکستان نے اس
افسوسناک دہشت گردانہ واقعے پر تین روزہ سوگ اور کل جمعہ کے روز دارالحکومت اسلام
آباد میں احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔
شیعیان پاکستان کے قریبی
ذرائع نے کہا ہے کہ تکفیری انتہاپسندو مختلف حیلوں بہانوں سے شیعیان پاراچنار کو
ٹارگیٹڈ قتل عام کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
صدر پاکستان آصف علی زرداری
اور وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے الگ الگ پیغامات میں کرم کے علاقے میں نہتے شہریوں
کے قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے نشانہ بننے والے افراد سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
شیعیان پاکستان کی سرگرم سیاسی جماعت مجلس وحدت مسلمین نے بھی بیان جاری کرکے شہر پاراچنار کے نہتے شہریوں پر دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
یہ بھی دیکھئے:
- پاراچنار: شیعہ مسافروں کے قافلے پر دہشت گردانہ حملہ+ویڈیو لنکس