اہل بیت(ع) نیوز
ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، ضلع کرم سے پشاور جانے والی گاڑیوں پر فائرنگ ایسے حال
میں ہوئی جب فوج اور ایف سی والے حفاظت کے عنوان سے قافلے کے ساتھ موجود تھے۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق بے شمار افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور کئی افراد لاپتہ ہیں۔
جدیدترین اطلاعات کے مطابق، 60 کے قریب لاپتہ افراد علیزئی پہنچ گئے ہیں اور 39 شہداء کی میتیں بھی علیزئی کے ہسپتال میں منتقل کی گئی ہیں۔ چنانچہ عین ممکن ہے کہ شہداء کی تعداد 40 کے لگ بھگ ہو۔
ابتدائی اطلاعات کے
مطابق، شہداء کی تعداد 55 سے 81 تک بتائی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ شہداء میں 13 خواتین اور 23 بچے ـ بشمول 13 شیرخوار بچے ـ شامل ہیں لیکن آخری اطلاعات کے مطابق شہداء کی تعداد 42 ہے اور متعدد افرا زخمی ہوئے ہیں اور لاپتہ افراد محفوظ علاقوں میں پہنچ گئے ہیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، کچھ بچوں کو گاڑیوں سے اتار کر پانی میں ڈبو کر شہید کیا گیا اور کچھ شیرخوار بچوں کو براہ راست گولیاں مار کر شہید کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق،
ٹی ٹی پی نے فیس بک پر ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ
پاکستانی طالبان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے، ٹی ٹی پی نے اس واقعے کو خفیہ
اداروں کا ڈرامہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ خفیہ ایجنسیاں اپنی ناکامی چھپانے کے لئے
ہر قسم کا حربہ استعمال کرتی ہیں۔ ٹی ٹی کے بیان میں کہا گیا ہے:
"لوئر کرم اوچت میں اہل تشیع کے قافلے پر حملے کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں۔۔۔ خفیہ ایجنسیاں اپنی ناکامی چھپانے کے لئے ہر قسم کا حربہ استعمال کرنے کی کوشش میں ہیں، کبھی قبائلی عمائدین کو مارتے ہیں، کبھی علماء کو تو کبھی سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کو ٹارگٹ کرتے ہیں ابھی اہل تشیع کے قافلے پر حملہ کرکے انھوں نے شیعہ سنی فسادات کے لئے راہ بنانے کی کوشش کی ہے"۔
واضح رہے کہ ٹی ٹی پی کے اس بیان کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
ایک اور اطلاع
کے مطابق، ریاستی اداروں نے پاراچنار اور اپر کرم اور لوئر کرم کی حدود میں موبائل
رابطے منقطع کر لئے ہیں جس کی وجہ سے شہداء کے اہل خانہ اور لاپتہ ہونے والے افراد
کے لئے اپنے عزیزوں سے رابطہ کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ ٹیلی فون رابطے منقطع کرنے کے
لئے اداروں نے کوئی وجہ بیان نہیں کی ہے اور نہ ہی ابھی تک واقعے کے سلسلے میں
کوئی سرکاری بیان آیا ہے!!!
قافلے کا ساتھ دینے
والی ایف سی اور فوج کی نفری "بحفاظت فرار ہو گئی ہے"، یہاں تک کہ کچھ شہداء
کی میتیں بھی علاقے کے نوجوانوں اور طبی عملے نے منتقل علیزئی کے علاقے میں منتقل
کر لی ہیں ۔
یاد رہے کہ سنہ
2007ع سے سنہ 2012ع تک پاراچنار پر عالمی دہشت گردوں کی مسلط کردہ جنگ اور
محاصرے کے دوران، شہید مسافروں کی میتوں کی
منتقلی میں فوجیوں کا خاصا کردار ہوتا تھا اور اگرچہ وہ پشاور جانے والی قومی
شاہراہ کھولنے سے عاجزی کا اظہار کرتے تھے مگر میتوں کی تقسیم کی کاروائی میں کافی
ماہر تھے، اور اس بار تو وہ اس شعبے میں بھی ناکام رہے ہیں۔
علاقے کے پولیس
حکام نے بتایا ہے کہ پشاور جانے والے قافلے پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے متعدد
افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
عجب یہ ہے کہ
فائرنگ سیکورٹی فورسز کی موجودگی میں ہوئی ہے لیکن سرکاری بیانات میں یہ تاثر دینے
کی کوشش کی جا رہی ہے کہ گویا "سیکیورٹی حکام نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے
ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے؟" حالانکہ فائرنگ اوچت نامی گاؤں سے ہوئی اور یہ
فائرنگ اس گاؤں کے باشندوں نے ہی کی ہے۔
صدر پاکستان،
آصف علی زرداری نے ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے
کہ نہتے مسافروں پر حملہ انتہائی بزدلانہ اور انسانیت سوز عمل ہے۔ یعنی ایک ملک کے
صدر جن سے اس حوالے سے فیصلہ کن ہدایات دینے کی توقع ہے، ایک غیر جانبدار شخص کی
طرح افسوس کا اظہار کر رہے ہیں اور اخلاقی نکتے بیان کر رہے ہیں۔ کون نہیں جانتا
کہ یہ ایک بزدلانہ اور انسانیت سوز اقدام ہے کہ نہتے مسافروں پر کئی قسم کے ہلکے
اور نیم بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا جائے اور بالکل یہودی ریاست کے طرز پر بے گناہ
افراد کو نشانہ بنایا جائے؟
صدر پاکستان نے ہدایت
کی ہے کہ شہریوں پر حملے کے ذمے داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، حالانکہ اس
حملے میں ریاست کے اہلکار بھی شامل ہیں جنہیں فائرنگ کرنے والوں کے خلاف فوری طور
پر جوابی فائرنگ کے بجائے اپنی جان بچانے کی فکر لاحق تھی۔
جیونیوز نے تصدیق
کی ہے کہ مسافر گاڑیوں پر فائرنگ اوچت نامی گاؤں میں ہوئی ہے، چنانچہ علاقے کی
ناکہ بندی اور دہشت گردوں کی تلاش کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے بھی
کئی مرتبہ مخالف افراد نے شیعہ علاقوں میں چھپ کر اپنے ہی ہم مسلکوں کو قتل کیا ہے
لیکن ریاستی اداروں نے تحقیق و تفتیش کئے بغیر ہی متعلقہ علاقے کو لوگوں کو گرفتار
کیا ہے اور حملوں کی ذمہ داری ان پر عائد کی ہے، چنانچہ جس علاقے میں شیعیان
پاراچنار کے قافلے پر فائرنگ ہوئی ہے اور بھاگتے ہوئے سرکاری اہلکاروں نے انہیں
فائرنگ کرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا بھی ہے تو اسی علاقے کو ذمہ دار ٹہرانا
چاہئے اس لئے بھی کہ موصولہ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فائرنگ اوچت گاؤں کے گھروں
اور مسجدوں سے ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ
گذشتہ سال اکتوبر میں جب حماس نے مقبوضہ فلسطین میں طوفان الاقصیٰ آپریشن سر انجام
دیا ہے، پاراچنار اور آس پاس کے علاقوں کے شیعہ اور سنی نوجوانوں نے اس عزم کا
اظہار کیا کہ وہ فلسطین جا کر قابض یہودیوں کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنا چاہتے ہیں مگر
اسی دوران اچانک جھڑپیں شروع ہوئیں اور یہودنوازوں نے مساجد سے اعلان کیا کہ انہیں
یہودیوں سے لڑنے کے لئے فلسطین جانے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ وہ تو علاقے کے یہودیوں
(یعنی شیعیان مظلوم) کے خلاف لڑنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
عجیب بات یہ ہے
کہ اس ایک سالہ عرصے میں جب بھی مغربی ایشیا میں یہودیوں نے کسی نئی شرانگیزی کا
ارادہ کیا یا پھر مقاومت نے ان کے خلاف کوئی اقدام عمل میں لانے کا اعلان کیا تو
پاراچنار پر حملوں میں شدت آئی اور یوں فلسطین کے مظلوم عوام کے خلاف یہودی ریاست
کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جاتا رہا۔ یہ موٹا سوال دبانے سے بھی نہیں دبے گا کہ
کیا صہیونی نوعیت کے اس دہشت گردانہ جنگی سلسلے میں کوئی بھی ریاستی ادارہ ملوث
نہیں ہے؟ اور کیا مٹھی بھر دہشت گرد ریاست کی اطلاع کے بغیر من مانی کر سکتے ہیں،
قتل و غارت کر سکتے ہیں اور قومی شاہراہوں کو بند کر سکتے ہیں اور انہیں کئی ہفتوں
یا مہینوں اور سابقہ جنگ کی طرح کئی برسوں تک بند رکھ سکتے ہیں؟
یقینا ایک
پرائمری کا طالبعلم بھی جانتا ہے کہ کوئی گروپ اور کوئی دہشت گرد ٹولہ کئی ہفتوں
تک قومی شاہراہ کو بند نہیں رکھ سکتا جب تک کہ اس کو ریاستی اداروں کی پشت پناہی
حاصل نہ ہو، اور یقینی امر ہے کہ جنگ کا یہ ایک سالہ سلسلہ بھی مسلط ریاستی اداروں
کی مرضی کے بغیر جاری رکھنا ممکن نہیں تھا۔
واضح رہے کہ حالیہ
جنگ میں کئی مقامات پر کچھ سرکاری اہلکار بھی دہشت گردوں کی صفوں میں لڑتے ہوئے
مارے گئے ہیں۔
پوری ریاست جانتی
ہے کہ ضلع کرم، ایک قبائلی ایجنسی تھا یہ وہ وقت تھا کہ جب پاک فوج اور متعلقہ
اداروں کو زیادہ تر قبائلی ایجنسیوں سے بے
دخل کر دیا گیا تھا، فوجیوں کا قتل ایک فیشن بن چکا تھا، اور پاکستان کا پرچم اتار
دیا گیا تھا، اس وقت پاراچنار واحد قبائلی علاقہ تھا جس کو دہشت گردانہ جارحیت اور
ریاستی اداروں کی حمایت سے محرومی کا سامنا بھی تھا مگر یہاں پاکستانی پرچم لہرایا
جاتا رہا اور سرکاری اداروں کو یہاں کے عوام نے ہی تحفظ دیا، چنانچہ اگر کوئی
عقلمند شخص ہے ریاست میں تو اسے عملی اقدام کرکے ریاست کے ان وفاداروں کو عملی
تحفظ فراہم کرنا چاہئے، اس علاقے کو دہشت گردوں اور "جرگہ گردوں" کے رحم
و کرم چھوڑنے کے بجائے، یہاں حکومت کی رٹ قائم کرنے کے لئے وقاقی اور صوبائی
حکومتوں کو کردار ادا کرنا چاہئے۔
پاراچنار کے
نوجوانوں کا پیغام بھی یہ ہے کہ اگر دہشت گردوں میں ہمت ہے تو وہ نہتے مسافروں کو
نشانہ بنانے کے بجائے میدان میں آکر لڑیں۔
ایک نکتہ: جب قبائلی
ایجنسیوں کو اضلاع بنایا گیا تو کچھ لوگ کہتے تھے کہ اب ان علاقوں کو آئے دن جنگوں
سے نجات ملے گی اور یہ علاقے اقتصادی لحاظ سے ترقی کریں گے، یہاں تعمیراتی منصوبے
آئیں گے، صنعتیں آئیں گی اور حالات بہتر ہونگے مگر کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ ریاست
کو یہاں کی زمین چاہئے، اور ضلع بنا کر ان علاقوں کو مستقل طور پر ریاست کا حصہ
بنایا گیا ہے، یہاں کے عوام کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے نہ دی جائے گی۔
اگر اول الذکر فریق
کی بات صحیح ہے اور مؤخرالذکر فریق کی بات صحیح نہیں ہے تو ریاست ہی پہلے فریق کی
بات کی عملی تصدیق کر سکتی ہے اور دوسرے فریق کی بات کو جھٹلا سکتی ہے اور ثابت کر
سکتی ہے کہ پاکستان کا مستقل حصہ بننے کے بعد یہاں کے عوام کو بھی اسلام آباد اور
لاہور کے عوام جتنا پاکستانی شہری مانا جانے لگا ہے اور یہاں کے عوام کا امن و
سکون بھی ریاست کے لئے لاہوریوں اور اسلام آبادیوں کے امن و سکون جتنا عزیز ہے۔
ویڈیو رپورٹس دیکھئے:
ویڈیو | پاراچنار میں دھشتگردوں کے حملے میں40 شیعہ شہید
۔۔۔۔۔۔۔۔
110