اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی

ماخذ : ابنا
ہفتہ

15 جون 2024

11:32:46 AM
1465569

حج ادا کرنے والے آپ بھائي اور بہن اس وقت ان پرفروغ اور تابندہ حقائق و تعلیمات کی مشق کے میدان میں ہیں۔ اپنی سوچ اور اپنے عمل کو اس کے قریب سے قریب تر کیجیے اور ان اعلیٰ مفاہیم اور شاندار تصورات سے آمیختہ، بحال شدہ تشخص لے کر گھر لوٹیے۔ یہی آپ کے سفر حج کی گرانقدر اور حقیقی سوغات ہے۔

بسم اللّہ الرّحمن الرّحیم

و الحمد للّہ ربّ العالمین و الصّلاۃ  و السّلام علی خیر البریّۃ سیّدنا محمّدٍ المصطفی و آلہ الطّیّبین و صحبہ المنتجبین و من تبعھم باحسان الی یوم الدّین.

دلنواز ابراہیمی آہنگ نے، جو حکم خدا سے ہر دور کے تمام انسانوں کو موسم حج میں کعبے کی جانب بلاتا ہے، اس سال بھی پوری دنیا کے بہت سے مسلمانوں کے دلوں کو توحید و اتحاد کے اس مرکز کی جانب مجذوب کر دیا ہے، انسانوں کے اس پرشکوہ اور متنوع اجتماع کو وجود میں لے آيا ہے اور اسلام کے انسانی وسائل کی وسعت اور اس کے روحانی پہلو کی طاقت کو اپنوں اور غیروں کے سامنے نمایاں کر دیا ہے۔

حج کے عظیم اجتماع اور اس کے پیچیدہ مناسک کو جب بھی تدبر کی نظر سے دیکھا جائے تو وہ مسلمانوں کے لئے قوت قلب اور اطمینان کا سرچشمہ ہیں اور دشمن اور بدخواہ کے لئے خوف و ہراس اور ہیبت کا سبب ہیں۔

اگر امت مسلمہ کے دشمن اور بدخواہ، فریضۂ حج کے ان دونوں پہلوؤں کو بگاڑنے اور انہیں مشکوک بنانے کی کوشش کریں، چاہے مذہبی اور سیاسی اختلافات کو بڑا بنا کر اور چاہے ان کے مقدس اور روحانی پہلوؤں کو کم کر کے، تو تعجب کی بات نہیں ہے۔

قرآن مجید، حج کو بندگي، ذکر اور خشوع کا آئینہ، انسانوں کے یکساں وقار کا مظہر، انسان کی مادی اور روحانی زندگي کی بہبودی کا نمونہ، برکت اور ہدایت کی علامت، اخلاقی سکون اور بھائيوں کے درمیان عملی اتحاد کی مثال اور دشمنوں کے مقابلے میں برائت و بیزاری اور مقتدرانہ محاذ آرائی کا مظہر بتاتا ہے۔

حج سے متعلق قرآنی آيات پر غوروخوض اور اس بے نظیر فریضے کے اعمال و مناسک میں تدبر ان چیزوں اور حج کے پیچیدہ اعمال کی باہمی ترکیب کے ان جیسے دیگر رموز کو ہم پر منکشف کر دیتا ہے۔

حج ادا کرنے والے آپ بھائي اور بہن اس وقت ان پرفروغ اور تابندہ حقائق و تعلیمات کی مشق کے میدان میں ہیں۔ اپنی سوچ اور اپنے عمل کو اس کے قریب سے قریب تر کیجیے اور ان اعلیٰ مفاہیم اور شاندار تصورات سے آمیختہ، بحال شدہ تشخص لے کر گھر لوٹیے۔ یہی آپ کے سفر حج کی گرانقدر اور حقیقی سوغات ہے۔

اس سال برائت کا مسئلہ، ماضی سے زیادہ نمایاں ہے۔ غزہ کا المیہ، جو ہماری معاصر تاریخ میں بے مثال ہے اور بے رحم اور سنگ دلی و درندگي کی مظہر اور ساتھ ہی زوال کی جانب گامزن صہیونی ریاست کی گستاخی نے کسی بھی مسلمان شخص، جماعت، حکومت اور فرقے کے لئے کسی بھی طرح کی رواداری کی گنجائش باقی نہیں رکھی ہے۔ اس سال کی برائت کو، حج کے موسم اور میقات سے آگے بڑھ کر پوری دنیا کے تمام مسلمان ملکوں اور شہروں میں جاری رہنا چاہئے اور حاجیوں سے آگے بڑھتے ہوئے ہر ایک شخص کی جانب سے انجام پانا چاہئے۔

صہیونی ریاست اور اس کے حامیوں ـ خاص طور پر امریکی حکومت ـ سے اس برائت و بیزاری کو اقوام اور حکومتوں کے قول و فعل میں نظر آنا چاہئے اور اس برائت کو جلادوں پر عرصۂ حیات تنگ کر دینا چاہئے۔

فلسطین اور غزہ کے صابر اور مظلوم عوام کی آہنی مزاحمت کی ـ جن کے صبر و استقامت جس نے دنیا کو اپنی توقیر و تحسین پر مجبور کر دیا ہے ـ ہر طرف سے پشت پناہی ہونی چاہئے۔

میں خداوند عالم سے ان کے لئے مکمل اور فوری فتح و کامیابی کی دعا کرتا ہوں، اور آپ حجاج محترم کے لئے، حجِّ مقبول کی التجا کرتا ہوں۔ حضرت بقیۃ اللہ (روحی فداہ) کی مستجاب دعا آپ کی پشت پناہ رہے۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

سید علی خامنہ ای

4  ذی الحجہ 1445

22 خرداد 1403

11 جون 2024