سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان نے ایران اور خطے کے مستقبل پر موجودہ تبدیلیوں کے اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا: یہ تصادم ایران کی سرحدوں سے آگے تک، نتائج کا حامل ہو سکتا ہے، اور دیگر قوموں کی قسمت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ اس لئے ایرانی معاشرے کو چاہئے کہ وہ حالات صحیح ادراک کرے، اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھے اور اندرونی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے، شعوری طور پر ذمہ داری کے ساتھ اپنی قسمت کا تعین کرے۔/ موجودہ تصادم ایک فوجی جھڑپ سے بڑھ کر ہے۔ دشمن ایرانی قوم کی مذہبی، تاریخی اور ثقافتی تشخص کو کمزور کرنے اور ایرانی-اسلامی تہذیب کو مٹا دینے کے درپے ہے اور ہمیں ثابت قدمی اور استقامت کے ساتھ ملک کی علاقائی سالمیت، تہذی و ثقافت اور تشخص کا دفاع کرنا چاہئے۔ / دشمن اسلامی-ایرانی تشخص اور تہذیب کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔
اس مضمون میں، "ایرانی سلطنت" سے مراد ملک گیری، عالمگیری یا قدیم سرحدوں کی طرف واپسی نہیں ہے؛ بلکہ مقصود اس مقام، طاقت اور اثر و رسوخ کی طرف واپسی ہے جو ایران کو اپنے تاریخی ادوار میں حاصل رہا ہے، جب دنیا میں اس کی بات کو اہمیت دینا پڑتی تھی اور مشرق وسطیٰ کے توازن میں اس کی بات حرف آخر ہوتی تھی۔