2 جنوری 2020 - 04:56
امریکہ علاقے میں تخریبی پالیسیوں کا سلسلہ ترک کر دے : وزارت خارجہ

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ہم عراق کے حالیہ واقعات میں عراقی عوام کی توہین کے ساتھ ہی امریکا کی کم ظرفی اور اندازے کی غلطیاں دہرائے جانے کا مشاہدہ کر رہے ہیں تاکید کی کہ امریکی علاقے کی تخریبی پالیسیوں سے دست بردار ہوجائیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے عراق کے حالیہ حالات کے تعلق سے امریکی حکام کی جانب سے ایران پر عائد کئے جانے والے بے بنیاد الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام کی پستی و کم ظرفی اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ کم از کم پچیس افراد کو خاک و خوں میں غلطاں کرنے , درجنوں افراد کو زخمی کرنے اور عراق کے قومی اقتدار اعلی کی خلاف ورزی نیز بہت زیادہ مالی نقصان کرنے کے بعد اب نہایت ڈھٹائی سے اوچھی حرکت کرتے ہوئے واشنگٹن کے جارحانہ اقدامات کے خلاف عراقی عوام کے احتجاج کی ذمہ داری ایران پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی دعوے کو عراقی عوام کی توہین سے تعبیر کیا اور کہا کہ کس بنیاد پر آپ کویہ توقع ہے کہ عراقی عوام ان تمام جرائم پر خاموشی اختیار کئے رہیں گے؟

سید عباس موسوی نے کہا کہ امریکی ایک طرف تو عراقی قوم کی خودمختاری اور آزادی کے جذبے کو نظر انداز کر رہے ہیں اور دوسری جانب انھوں نے عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام کی حمایت ، دہشت گرد گروہ داعش کی تشکیل اور اس کے بعد عراقی عوام کے قتل عام اور تباہی و بربادی میں اپنے کردار اور اس بات کو کو فراموش کر دیا ہے کہ عراقی اب بھی انھیں غاصب سمجھتے ہیں ۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران کے خلاف امریکی حکام کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے، امریکی حکام کی طرف سے کسی بھی طرح کی حماقت اور بلاسوچھے سمجھے اقدام کا نتیجے کی بابت خبردار کیا۔

انھوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کو علاقے میں اپنی تخریبی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہئے ۔

اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب مجید تخت روانچی نے بھی ایران کے خلاف امریکہ کی الزام تراشی کو، سترہ سال سے عراق پر غاصبانہ قبضے اور لاکھوں بےگناہ شہریوں کے قتل عام کی جانب سے توجہ ہٹانے کی کوشش سے تعبیر کیا ہے۔

مجیدی تخت روانچی نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکیوں کے الزامات کا مقصد واشنگٹن کے ذریعے عراقی عوام کے حالیہ وحشیانہ قتل عام پر عراقیوں کے غم و غصے سے توجہ ہٹانا ہے۔
اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مندوب نے کہا کہ الحشدالشعبی اور اس کی ذیلی تنظمیں پوری طرح عراقی ہیں جنہیں عراق کی جمہوری ، قانونی اور منتخب حکومت کی حمایت حاصل ہے اور ان تنظیموں نے قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے ، داعش دہشتگرد گروہ کے خلاف جنگ اور اسے شکست دینے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

امریکی صدر ونالڈ ٹرمپ اور اس ملک کے دیگر حکام ، الحشدالشعبی کے مراکز پر دہشتگرد امریکی فوج کے حالیہ حملوں کے بعد سامنے آنے والے ردعمل اور واقعات کا عامل ایران کو قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔



/129