اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہمارے نمائندہ لندن کے مطابق برطانیہ میں جمعرات کو ہونے والے قبل از وقت عام انتخابات کے ووٹوں کی گنتی مکمل ہوگئی ہے اور وزیراعظم بورس جانس کی قیادت والی کنزرویٹیو پارٹی نے چھے سو پچاس کے ایوان میں تین سو چونسٹھ نشستیں حاصل کرلی ہیں۔
پچھلے انتخابات کے مقابلے میں ایوان میں چونسٹھ نشستوں کے اضافے کے بعد وزیراعظم بورس جانس نے کہا ہے کہ انتخابی نتائج نے بریگزٹ کے حوالے سے پائی جانے والی بے یقینی کو ختم اور دوبارہ ریفرنڈم کے انعقاد کا خطرہ برطرف کردیا ہے۔
جیرمی کوربن کی قیادت والی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت لیبر پارٹی کو حالیہ انتخابات میں تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اسے صرف دو سو تین نشستیں ملی ہیں۔
جیرمی کوربن نے شکست تسلیم کرتے ہوئے پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ وہ اب کسی انتخابی عمل میں پارٹی کی قیادت نہیں کریں گے۔
سابق وزیر اعظم ٹریسا مئے نے انتخابی نتائج کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں کنزرویٹیو پارٹی کے لیے بریگزٹ کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے اسکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے علیحدگی کے لیے دوبارہ ریفرنڈم کرائے جانے کی بھی مخالفت کی۔
دوسری جانب اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا اسٹرج نے کنزرویٹیو پارٹی کی کامیابی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسکاٹ لینڈ کی علیحدگی کے لیے دوبارہ ریفرنڈم کا مطالبہ کیا ہے۔
/129
14 دسمبر 2019 - 04:58
News ID: 993516
برطانیہ کے عام انتخابات میں کنزرویٹیو پارٹی کی بھاری اکثریت سے کامیابی نے بریگزٹ پر عملدرآمد کا راستہ ہموار کردیا ہے۔