8 دسمبر 2019 - 20:11
داعش کو آلہ کار بنا کر عراق کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی امریکہ اور اسکے متحدین کی ناکام سازش

آل بشارہ نے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ عراق کی حفاظتی فورسز پر لازم ہے کہ ہرگز اجازت نہ دیں کہ دہشت گرد عناصر ان علاقوں میں دوبارہ داخل ہو سکیں جنہیں انکے تصرف سے اب آزاد کرا لیا گیا ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، فارس بین الاقوامی نیوز ایجنسی کی رپورٹ «حافظ آل بشاره» نے امریکہ اور خلیجی ممالک کے جانب سے عراق کے خلاف سازش کرنے کے بارے میں خبر دار کیا ہے ۔
«حافظ آل بشاره» نے المعلومہ نامی نیوز سینٹر سے کہا ہے کہ : یہ طے ہوا تھا کہ امریکہ اور بعض خلیج کے عربی ممالک جن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نمایاں اور قبال ذکر ہیں مل کر داعش کو بغداد میں داخل کر دیں ، «حافظ آل بشاره» نے اپنی بات کو رکھتے ہوئے آگے کہا کہ داعشی دہشت گردوں کی جانب سے ممکنہ دہشت گردانہ کاروائی پایتخت اور ایک اور صوبے کو مد نظر رکھ کر انجام پانا تھی اور یہ کاروائی احتجاجی مظاہروں سے جڑی ہوئی تھی اس لئے کہ مشکوک بیرونی دھڑوں نے ان احتجاجی مظاہروں میں کچھ داخلی در اندازوں کی کمان اپنے ہاتھوں میں رکھ کر انہیں راستہ دکھایا تھا کہ حفاطتی انتظامات کو ناکارہ بناتے ہوئے افراتفری کا ماحول پیدا کر دیں ۔
اس عراق کے مسائل جانکار ومبصر نے مزید بتایا :”امریکہ کی جانب سے ان دہشت گردانہ کاروائیوں کا مقصد داعش کے سفاکوں کو طے شدہ علاقوں سے پائتخت کی طرف لانا تھا اور یہ کام اس طرح کرنا تھا حشد الشعبی کو دوسری جگہ مشغول کر کے انکے خلا سے فائدہ اٹھا کر اپنے ناپاک عزائم کو عملی کیا جا سکے چنانچہ دشمن یہ سوچ رہا تھا کہ حشد الشعبی کی فورسز کو مظاہروں میں مشغول کر دے تاکہ “دیالہ” صلاح الدین ، الانبار اور شام کے راستوں سے بغداد میں دہشت گردوں کے گھسنے کا راستہ صاف کیا جاسکے ۔
آل بشارہ کو اس بات کا یقین ہے کہ داعش کے عناصر اس بار “النخیب ” کے بیابانی علاقوں سے کربلائے معلی اور نجف اشرف میں گھس کر تخریب کاری کو اہمیت دے رہے ہیں اور یہ وہ راستہ ہے جو وادی حوران پر جا کر ختم ہو جاتا ہے اور یہ علاقہ بہت ہی خطرناک ہے ۔
آل بشارہ نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ طے شدہ منصوبے کے مطابق مظاہرین کو روکنے کے پیش نظر حشد الشعبی کی فورسز کی مداخلت کے ساتھ ہی پلان یہ تھا کہ داعش کی جانب سے بھی تخریب کاری ہوگی آل بشارہ نے اس منصوبے کی پرتوں کو کنارے کرتے ہوئے بتایا کہ ” اس منصوبے کا مقصد یہ تھا امریکہ ، اسرائیل ، سعودی عرب اور متحدہ امارات کی پشت پناہی میں بغداد اور مذکورہ صوبوں میں داعش کو گھسا کر سیاسی طریقہ کار و پراسس کو تبدیل کیا جا سکے اور یہ عراق کو تقسیم کرنے کا ایک منصوبہ تھا ۔
عراقی مسائل کے اس ماہر نے مزید کہا کہ ، داعش کی دیالہ و صلاح الدین میں یہ تخریب کاریاں محض اس وجہ سے ہیں کہ وہ اپنے اس منصوبے میں ناکام ہو گئیں کہ حشد الشعبی کو مظاہروں میں مصروف کر کے بغداد میں داخل ہونے کا راستہ صاف کیا جا سکے چنانچہ داعش اور اسکے متحدین ان مظاہروں سے ناجائز فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے اور اسی بنا پر جوکچھ بھی تخریب کاری ہوئی وہ دیالہ و صلاح الدین تک ہی محدود رہی ۔
آل بشارہ نے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ عراق کی حفاظتی فورسز پر لازم ہے کہ ہرگز اجازت نہ دیں کہ دہشت گرد عناصر ان علاقوں میں دوبارہ داخل ہو سکیں جنہیں انکے تصرف سے اب آزاد کرا لیا گیا ہے ۔
یاد رہے کہ عراق کے لوگوں کے مظاہرے اکتوبر کے مہینے کی ابتداء سے شروع ہوئے اور ۲۵ /اکتوبر سے دوبارہ شروع ہو گئے جبکہ ان مظاہروں کا زیادہ تر حصہ اقتصادی حالات پر اعتراض کی شکل میں تھا( بعض مقامات پر یہ اعتراض اب بھی جاری ہے ) اور زیادہ تر لوگ اپنی نامناسب اقتصادی صورت حال کو لیکر معترض تھے {جو اب بھی وقتا فوقتا دیکھنے کو مل رہا ہے } لیکن بعض سیاسی تحریکیں اور بعض بیرونی ممالک جن میں امریکہ ،سعودی عرب اور امارات شامل ہیں ان احتجاجی مظاہروں سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے در پے ہیں ۔

https://www.farsnews.com/news/13980914000503/

…………..

۲۴۲