اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے ہزاروں کارکنان کو لائن آف کنٹرول پار کرنے سے روکنے کے لیے چناری اور لائن آف
اہراہ سے آگےلائن آف کنٹرول چکوٹھی کی جانب بڑھنے کا امکان ہے۔
پولیس نے عام ٹریفک کے لیے بھی شاہراہ سرینگر کو مکمل طور پر بند کر رکھا ہے۔
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے مارچ کو چناری پہنچے کے بعد ایل او سی چکوٹھی کی طرف برھنے کی صورت میں انہیں جسکول کے مقام پر روکا جائے گا اس صورتحال کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان بڑے تصادم کا خطرہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب مظاہرین کا کہنا تھا کہ خونی لکیر کو روند کر 72سال سے بکھری ریاست کو جوڑیں گے آرپار کشمیری ایک ہو کر رہیں گے۔
مارچ کے باعث گذشتہ روز بھی تحصیل ہٹیاں بالا،اور تحصیل چکار کے تعلیمی ادارے بند رہے۔ بازاروں میں لوگ نہ ہونے کے برابر ہیں، کاروبار زندگی سخت متاثر ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے عوام سے مارچ نہ کرنے کی اپیل کی تھی۔
انہوں نے اپنی ٹوئٹ پیغام میں لکھا کہ کشمیری جدوجہد کی حمایت یا انسانی امداد دینے کے لیے ایل او سی پار کرنا بھارتی بیانیے کے ہاتھوں کھیلنے کے مترادف ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی بیانیہ یہ ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد کی آڑ میں دہشت گردی کرا رہا ہے اور ایل اوسی کی خلاف ورزی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بڑھانے کا بہانہ فراہم کرے گی۔
وزیراعظم عمران خان نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کا بہانہ بنا کر بھارت ایل او سی کے پار حملہ کر سکتا ہے؛ لہذا سرحد کی طرف جانے سے گریز کیا جائے۔
/129
8 اکتوبر 2019 - 05:08
News ID: 981061
جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے ہزاروں کارکنان کو لائن آف کنٹرول پار کرنے سے روکنے کے لیے جسکول کے مقام پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے جس سے ایک بڑے تصادم کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔