24 ستمبر 2019 - 05:40
ہاآرٹض: اسرائیل یمن کے خلاف جنگ میں سعودی اتحاد کا غیر سرکاری رکن

ایک صہیونی اخبار نے یمن کے خلاف جنگ میں غیر ملکی فوجیوں کی تربیت میں اسرائیلی کی مداخلت کی خبر دی ہے۔ اور تل ابیب کو جارح اتحاد میں غیر سرکاری رکن قرار دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، صہیونی اخبار ہاآرٹض نے اعتراف کیا ہے کہ صہیونی ریاست یمن کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں جاری جنگ میں غیر سرکاری طور پر شریک ہے۔
صہیونی اخبار نے مزید لکھا ہے کہ اسرائیلی انٹرنٹ کمپنیاں، اسلحہ فروش، وہ لوگ جو دھشتگردوں کو ٹریننگ دیتے ہیں اور وہ افراد جو دیگر ممالک سے آکر یمن میں جنگ کر رہے ہیں یہ سب صہیونی ریاست کے زیر انتظام انجام پا رہا ہے لہذا سب کے سب یمن کی جنگ میں شراکت رکھتے ہیں۔
ہاآرٹض نے مزید کہا کہ یمن کے خلاف یہ اتحاد ۲۰۱۵ میں سعودی عرب نے تشکیل دیا جس میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر اور پاکستان نے بھی حصہ لیا جبکہ اس اتحاد میں اسرائیل غیرسرکاری طور پر شامل تھا۔
اس اخبار نے صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو کی گذشتہ سال (۲۰۱۸) کی باتوں کی طرف اشارہ کیا اور لکھا کہ نیتن یاہو نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ’’اگر ایران باب المندب کو بند کرنا چاہتا ہے تو اسے ایک بڑے بین الاقوامی اتحاد کا سامنے کرنا پڑے گا کہ اسرائیلی فوج بھی اس کا ایک حصہ ہے‘‘۔
یہ تقریبا پہلا موقع ہے جب صہیونی اخبار نے انصار اللہ کے خلاف جنگ میں اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کا راز فاش کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242