اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ برطانیہ میں تعینات ایران کے سفیر حمید بعیدی نژاد نے اپنے ایک ٹوئٹ میں ایرانی تیل بردار جہاز آدریان دریا کے روانہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آخر کارایرانی تیل بردار جہاز "آدریان دریا" جبرالٹر میں 45 دنوں کی معطلی کے بعد عالمی پانیوں کی طرف روانہ ہوگیا۔
ایرانی سفیر کا کہنا ہے کہ جبرالٹر کی سپریم کورٹ نے با ضابطہ طور پر امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل بردار جہاز کو حراست لینے کی درخواست کی مخالف کی ہے۔
جبرالٹر سپریم کورٹ کے مطابق ایرانی تیل بردار جہاز کو حراست لینے کی امریکی درخواست، اس کی یکطرفہ پابندیوں کے مطابق ہوئی ہے حالانکہ یورپی یونین کے قوانین کے مطابق اس درخواست کے نفاذ کا امکان نہیں ہے۔
برطانیہ میں تعینات ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ گریس ون تیل بردار جہاز کے نام کو آدریان دریا میں تبدیل کرنے کا مقصد ہرگز پابندیوں کو بائی پاس کرنا نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی تیل بردار جہاز کو کسی بھی پابندی کا سامنا نہیں ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ جولائی میں جبرالٹر اور برطانوی سیکورٹی فورسز نے 21 لاکھ ٹن تیل لے جانے والے ایرانی بحری جہاز کو قبضے میں لیا تھا جس سے تہران اور لندن کے درمیان بحران پیدا ہوا.
19 جولائی کو اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر برطانوی تیل بردار جہاز کو حراست میں لیا.
/129
19 اگست 2019 - 06:39
News ID: 969926
برطانیہ میں تعینات ایران کے سفیر نے ایرانی تیل بردار جہاز آدریان دریا کے جبل الطارق سے عالمی پانیوں کی طرف روانہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔