اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے امریکہ کی جانب سے اسلامی جمہوری ایران کے جاسوسوں اور اسلامی جمہوریہ کے حدود تجاوز کر نے والوں کے دفاع کے سلسلہ سے ۱۷ رمضان المبارک ۱۴۰۳ ھ مطابق ۲۸ جون ۱۹۸۳ حکومت کے ذمہ داروں کے درمیان ایک خطاب کیا ، جس میں آپ نے اس وقت کے امریکی صدر جمہوریہ کی جانب سے ساری دنیا سے بہائیوں کے لئے مدد کی گہار لگانے کے سلسلہ سے اس بات کی وضاحت کی کہ بہائیوں کی جانب سے امریکی صدر جمہوریہ کی یہی حمایت انکے جاسوس ہونے اور امریکیوں کے بہائیوں سے مفاد کے وابستہ ہونے کو بیان کرتی ہے ۔
امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے رونالڈ ریگن کی تقریر کہ جسے بعض ریڈیو اسٹیشنز نے نشر کیا کے مضمون کو بیان کرتے ہوئے کنایہ آمیز انداز میں کہا: یہ لوگ چونکہ مظلوم ہیں اور بالکل بھی جاسوس نہیں ہیں، مذہبی مراسم کے علاوہ کسی چیز میں مشغول نہیں رہے، اس پر ایران نے انکے انہیں مذہبی رسومات کی وجہ سے ۲۲ لوگوں کو پھانسی کی سزا سنائی ہے، یہ وہ بات ہے جس کی بنا پر ریگن نے ساری دنیا سے مدد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ لوگ جاسوس نہیں ہیں ، یہ ایسے سیدھے سادے لوگ ہیں جنکی کسی بھی کام میں کوئی شمولیت یا دخالت نہیں ہے اپنی تقریر میں امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے اس بات کو بیان کرنے کے بعد بہت سنجیدگی کے ساتھ انکی پھانسی کی سزا کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’ ہم نے ہرگز انکے بہائی ہونے کی وجہ سے انہیں قید وحبس کا حکم نہیں دیا بلکہ انکے ساتھ کچھ مسائل رہے ہیں، یوں بھی بہائی کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ بہائی ایک پارٹی ہے، ایسی پارٹی جسکی ماضی میں برطانیہ حمایت کرتا رہا ہے اور اب امریکہ نے اسے اپنی چھتر چھایہ میں لیا ہوا ہے یہ لوگ جاسوس بھی ہیں اور دیگر لوگوں کی طرح انکے عقائد میں بھی انحراف پایا جاتا ہے، یہاں پر مسئلہ تو یہ ہے کہ انکے طرفدار جناب ریگن صاحب آپ جیسے لوگ ہیں اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انکی ایک مبہم و خاص صورت حال ہے، ہمارے دشمنوں کو فائدہ پہنچانے میں انکا کردار اس کے علاوہ کیا ہوگا کہ ہماری مخبری کریں اور ہمارے اسرار کو دشمنوں تک منتقل کریں، اور ایرانی قوم و حکومت کے درمیان انکے ساتھ جاسوسی کریں ۔
مکمل مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں