اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ "محمد جواد ظریف" نے آج بروز بدھ کو اپنے ٹوئٹر اکاونٹ میں ایرانی شہر خرمشہر، یمن اور غزہ میں جنگ کی خاطر رونما ہونے والی تباہیوں سے متعلق کچھ تصاویر شائع کی اور کہا کہ ایران پر آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے دوران، عراقی امر صدر صدام نے مغربی اور مشرقی ممالک کے فراہم کردہ میزائلوں کو ہمارے عوام پر برسایا اور ان تمام سالوں کے دوران کسی نے ایران کو اپنی سرزمین کے دفاع کیلئے ہتھیار نہیں بھیجا۔
ایران کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کے پاس خود ہتھیار تیار کرنے کا کوئی آپشن موجود نہیں تھا اور اب بعض ہماری تنقید کرتے ہیں۔ امریکہ کو بات بدلنے کے بجائے نئے زمانے کے صدام جیسے لوگوں کو ہتھیاروں کی فروخت بند کرنا ہوگی۔
واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے 18 جولائی 1988 کو ملک کیخلاف آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے خاتمہ کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 598 کو منظور کرلیا۔
یاد رہے کہ عراقی امر صدر نے ایران کیخلاف مسلط کردہ جنگ میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سے فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں کے ذریعے ایران میں بڑی بڑی تباہیاں مچادی۔
/129
18 جولائی 2019 - 04:35
News ID: 962212
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے پاس خود ہتھیار تیار کرنے کا کوئی آپشن موجود نہیں تھا اور اب بعض ہماری تنقید کرتے ہیں۔ امریکہ کو بات بدلنے کے بجائے نئے زمانے کے صدام جیسے لوگوں کو ہتھیاروں کی فروخت بند کرنا ہوگی۔