اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، وزارت خارجہ کی طرف سے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بیت المقدس میں فلسطینی اتھارٹی کے وجود کو ختم کرنا، فلسطینی شہریوں کو زبردستی بے دخل کرنا، یہودی آباد کاروں کے لیے ہرطرح کی سہولیات فراہم کرنا صرف انتہا پسند اسرائیلیوں کے نہیں بلکہ امریکیوں کی سازشوں کا بھی نتیجہ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ القدس کو یہودیانے میں عملا برابر کی شریک ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے صہیونی ریاست کی طرف داری میں منظور کی جانے والی قراردادوں سے واضح ہوتا ہےکہ امریکا فلسطینیوں کے خلاف صہیونی استعماری اور غاصبانہ کارروائیوں میں پیش پیش ہے۔ فلسطین میں یہودی انتہا پسندوں کوکھل کھیلنے کے لیے امریکا کی طرف سےہرممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے القدس اور فلسطین کے حوالے سے اپنے متنازع فیصلوں کی وجہ سے فلسطینی قوم کو مایوس کیا ہے۔ القدس میں اسرائیلی ریاست اور یہودی تنظیموں کی ہرسرگرمی میں امریکی حکام موجود ہوتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا القدس کو یہودیانے کے لیے فیلڈ میںموجود ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242