18 مئی 2019 - 06:11
پاکستان کے خلاف امریکی کرنسی وار/ راہ حل کیا ہے؟

یہ اب دشمن کا آخری حربہ ہے وہ اپنے چہیتوں کو بچانا چاہتی ہے جس کے دو فائدے ان کو صاف نظر آ رہے ہیں کہ ایک سفارتی سطح پر سخت موقف اپنانے کی اس حکومت کو سزا دی جائے دوسرا ان کے ایجنٹوں (بدعنوان اور غدار سیاستدان اور بیورکریسی) کو تحفظ فراہم کرکے لوٹی ہوئی دولت پاکستان جانے سے روک لی جائے جس سے پاکستان کو فائدہ ہو سکتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ میں نے کچھ عرصہ قبل ایک مضمون لکھا تھا کہ اگر شیعیان اہل بیت یا ایران پر یہود و نصاری کی طرف سے کوئی مشکل ٹھونسی جاتی ہے تو دوسرے برادر مکاتب کے پیروکار ہرگز ہرگز خیر نہ منائیں کیونکہ یہ جو شیعہ دشمن ہیں یہ کسی صورت میں بھی دوسرے اسلامی مکاتب کے دوست نہیں ہیں۔
اس وقت پاکستان ان ممالک میں سے ہے جہاں کے متعدد لکھاری کچھ ریالات و ڈالرات کی خاطر یا پھر شیعہ دشمنی کی بنا پر قلم فروشی کے جوہر جگا رہے ہیں اور وہ کچھ لکھ رہے ہیں جو شاید ان کے بیرونی آقا بھی نہیں کہہ رہے ہیں۔ وہ مدعی سست اور گواہ چست کا مصداق بنے ہوئے ہیں لیکن انہیں اس بات کی طرف توجہ دینے کی فرصت ہی نہیں ہے کہ یہود پاکستان کے ساتھ کیا کررہے ہیں یا پھر ان کی ڈیوٹی لگی ہوئی ہے کہ ملکی رائے عامہ کو یہودی سازشوں سے منحرف کریں اور دشمنان اسلام کو سکون کے ساتھ پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے دیں۔
مثال کے طور پر اس وقت یہود و نصاری کے آگے اسلامی محاذ کا اگلا مورچہ ایران ہے اور وہ ایران کے خلاف وہ سب کچھ کررہے ہیں جو ایک دشمن کو ایک دشمن کے خلاف کرنا چاہئے اور ایران بھی ان کے ساتھ وہی کچھ کررہا ہے جو ایک جارح دشمن کے ساتھ کرنا چاہئے۔ ایران نے انہیں مغربی ایشیا میں خوب دھول چٹا دی ہے اور وہ بھی اپنی کاروائیاں کررہے ہیں اور انہیں سعودی عرب اور کچھ مالیکیولی عرب ریاست کے حکمرانوں کی حمایت بھی حاصل ہے اور محمد بن سلمان نے تو یہ تک کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف سرجیکل کاروائی کرے، گوکہ ٹرمپ نے تمام تر پاگل پن کے باوجود اس حقیقت کو بخوبی سمجھ لیا ہے کہ حتی سرجیکل کاروائی کا جواب بھی انہیں ایک بھرپوری کاروائی کی صورت میں ملے گا اور خلیج فارس میں موجود تمام امریکی افواج کی “غائبانہ تدفین” کا انتظام کرنا پڑے گا چنانچہ انھوں نے اپنے منقضی المیعاد مشیران نیز خلیج فارس کی ریاستوں کے حکمرانوں سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ “یہ میرے انتخابی نعرے کی کھلی خلاف ورزی ہے کہ میں کسی میں اپنے ملک کو ایک بار پھر ایک تباہ کن جنگ میں دھکیل دوں” اور یوں سب کو مایوس کردیا ہے اور یہ ٹرمپ کا احسان نہیں ہے بلکہ وہ جانتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ کے بعد مغربی ایشیا میں امریکی موجودگی ختم ہوکر رہ جائے گی اور اس کے اڈے تباہ ہوجائیں گے اور اس کی لاڈلی یہودی ریاست ـ جس کا نام انھوں نے اسرائیل رکھا ہے ـ کے ایام حیات کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔
بہرصورت بات یہ ہورہی تھی کہ ایران کے خلاف سخت امریکی اقدامات کو دیکھ کر خاص طور پر اسلامی ملک پاکستان کے حکمرانوں اور قلم فرساؤں کو زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں تھی اور اب تو یہ خوشیاں میرے خیال میں قصہ پارینہ بن چکی ہیں اور اس وقت پاکستان کو تکفیر، وہابیت، بدامنی وغیرہ کی صورت میں بیرونی سازشوں کے ساتھ ساتھ امریکی اور یہودی لابیوں کی طرف سے شدید کرنسی وار کا سامنا ہے۔
سوشل میڈیا پر ڈاکٹر شجر نامی ایک پاکستانی لکھاری کی ایک مختصر تحریر دیکھنے کو ملی جس سے صورت حال کا تھوڑا تھوڑا اندازہ لگایا جاسکتا ہے:
ڈاکٹر شجر نام یا عرف کے پاکستان لکھاری نے لکھا ہے:
#کرنسی_وار
پاکستان کے ساتھ امریکہ کی کرنسی وار شروع ڈالر کو تقریبا ۲۰۰ سے ۳۰۰ پاکستانی روپے تک لیجانے کی سی آئی اے کی کوشش
راتوں رات سرمایہ کاروں کی خطیر رقم کی منتقلی یا بڑی منی لانڈرنگ اس کے بعد ملک میں پر ہیجان کیفیت اپنے ایجنٹوں کے ذریعے حکومت کے خلاف زبردست دباؤ بنانا یہ سب ایک خوفناک چال ہے ۔۔ اس سے پہلے یہ جنگ ترکی کے خلاف بھی لڑی جا چکی ہے۔
ترکی کو ایک ہی رات میں ۳۵ فیصد تک ڈالر کی قیمت میں اضافہ برداشت کرنا پڑا جو پاکستان کی نسبت بہت زیادہ تھا، لیکن ترک قوم نے سازش کو سمجھ کر اتحاد کا مظاہرہ کیا اور ڈالروں کو نذر آتش تک کرلیا اور اپنی حکومت کی حمایت میں کھڑی ہو کر امریکہ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔۔۔ لیکن پاکستان کے سیاسی اور لسانی و فرقہ وارانہ انتشار کی وجہ سے یہاں صورت حال مختلف ہے جبکہ حق یہ ہے کہ ایسی صورت میں قوم کو تمام اختلافات بالائے طاق رکھ کر صرف ملکی مفاد امریکی سازش کے خلاف یکجا ہوجانا چاہیے تاکہ یہ قوم بھی اس امریکی جنگی چال کو شکست دے سکے۔
یہ اب دشمن کا آخری حربہ ہے وہ اپنے چہیتوں کو بچانا چاہتی ہے جس کے دو فائدے ان کو صاف نظر آ رہے ہیں کہ ایک سفارتی سطح پر سخت موقف اپنانے کی اس حکومت کو سزا دی جائے دوسرا ان کے ایجنٹوں (بدعنوان اور غدار سیاستدان اور بیورکریسی) کو تحفظ فراہم کرکے لوٹی ہوئی دولت پاکستان جانے سے روک لی جائے جس سے پاکستان کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
کرنسی وار پر جیمز ریکارڈز (James G. Rickards) نے سنہ ۲۰۱۱ع‍ میں کتاب “Currency Wars: The Making of the Next Global Crisis” بھی لکھی ہے جس سے امریکی سی آئی اے اور یہودی ریاست کی موساد کی ناپاک ذہنیت کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
اب ہمیں سیاسی اختلافات سے زیادہ اس امریکی چال کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے یکجا ہونا پڑے گا کیونکہ یہ ملک صرف عمران خان کا نہیں، ہمارا بھی ہے اور ہمیں متحد ہوکر رہنا اور حالات کا مقابلہ کرنا ہے۔ (ڈاکٹر شجر کی تحریر کا اختتام)
۔۔۔
ڈاکٹر شجر نے راہ حل پیش کرنے کی بھی کوشش کی ہے اور اندرون ملک مسائل کی طرف بھی مختصر سا اشارہ کیا ہے لیکن جو کچھ عالمی سطح کے مبصرین کہتے ہیں اس کے مطابق اصل راہ حل یہ ہے کہ امریکی پابندیوں اور کرنسی وار یا ہر دوسری قسم کی جنگ کا شکار ممالک اپنا سر برف سے نکال دیں اور جو وسیع فضا امریکہ نے خود اپنے اقدامات سے دنیا بھر میں تیار کررکھی ہے اس فضا سے استفادہ کیا جائے اور جو ممالک امریکہ کے نشانے پر ہیں وہ آکر ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور امریکی اقدامات ـ جن کے عوض آج تک امریکہ کسی قسم کے اخراجات برداشت کرنے پر مجبور نہیں ہے ـ کے بدلے امریکہ کو اخراجات برداشت کرنے پر مجبور کیا جائے۔ یہ بھی کوئی علاج نہيں ہے کہ ایک ملک امریکی اقدامات سے بچنے کے لئے امریکہ کے لے پالک حکمرانوں کی گود میں بیٹھ کر یا یہودیوں کے پسندیدہ حکمرانوں کے دعؤوں اور نعروں کا بھروسہ کرکے اچھے دنوں کا انتظار کرنے بیٹھ جائے۔
سعودی عرب اور امارات ـ جو بھارت میں ۱۰۰ ارب خرچ کرتے ہیں اور پاکستان کو ۲۰ یا ۸ ارب کا وعدہ دیتے ہیں ـ امریکہ کے وفادار ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ امریکہ اپنے کٹھ پتلیوں کو پاکستان پر اپنی مسلط کردہ جنگ کے سامنے روڑے اٹکانے کی اجازت دیدے؟
اس جنگ کا جواب ان ممالک کے ساتھ اتحاد قائم کرکے دیا جاسکتا ہے جو پاکستان جیسے حالات کا سامنا کررہے ہیں اور پاکستان کی طرح امریکی دشمنیوں کا سامنا کررہے ہیں۔
ہمیں امید ہے کہ پاکستان کے حکمران ہوش کے ناخن لیں اور عوامی نمائندے، پاکستان کی وفاداری یا غداری کے سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والے حب الوطنی کے دعویدار ادارے اور باضمیر مبصرین اور اخبارات و جرائد ان حکمرانوں کو مجبور کریں کہ اس مسئلے کو فعالانہ اور حقیقی انداز سے حل کریں۔ بےشک پاکستان کو عالم اسلام کی پشت پر چھرا گھونپنے والے اور یہودی ریاست کے لئے بھنگڑا ڈالنے والے غیر منتخب عرب حکمرانوں کے جال سے نکل کر آزاد ممالک کی صف میں کھڑا ہونا پڑے گا اور یہ کام ماضی سے کہیں زیادہ آسان ہے کیونکہ امریکہ نے حقیقت میں پاکستان کو اپنے اتحادیوں کے زمرے سے نکال دیا ہے اور موقع کافی مناسب ہے جو ہمیشہ میسر نہيں آتا۔
۔۔۔۔۔
بقلم: ابو بصیر بیت المقدسی
خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110