اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/قائم آل محمد حضرت امام مہدیؑ کے یوم ولادت باسعادت کی مناسبت سے انجمن شرعی شیعیان کے زیر اہتمام حوزہ علمیہ جامعہ باب العلم میرگنڈ بڈگام سے ایک عظیم الشان جلوس میلاد تنظیم کے سربراہ، سیئر حریت رہنما اور جعفریہ سپریم کونسل آزاد کشمیرکے سرپرست اعلیٰ حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی قیادت میں برآمد ہوکر مرکزی امام بارگاہ بڈگام میں اختتام پزیر ہوا۔ جلوس میلاد میں متعدد علمائے کرام ، تنظیم سے منسلک حوزات علمیہ اور شاخہائے مکاتب میں زیر تعلیم ہزاروں طلبا و طالبات کے علاوہ وابستگان ولایت و امامت کی خاصی تعداد نے شرکت کی۔ علمائے دین نے سلسلہ امامت کی آخری کڑی حضرت حجتہ ابن الحسنؑ کی غیبت کبریٰ اور ظہور و انتظار کے فلسفے کی وضاحت کی۔ باب العلم میر گنڈ بڈگام میں جلوس میلاد سے علمائے دین اور طلباء نے عقیدہ تصور مھدیؑ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت ولی العصر کا ظہور اور عالمگیر انقلاب ایک قرآنی حقیقت ہے ۔ امام کا پردہ غیب میں چلے جانا عین مصلحت الٰہی ہے۔ دنیا میں ظلم و باطل کے خاتمے اور عدل و انصاف کی فراوانی کے وعدہ الٰہی کا وفا ہوجانا ظہور امام مہدیؑ سے مشروط ہے۔ علمائے دین نے کہا کہ روئے زمین پر مستضعفین کی نصرت و سربلندی کیلئے انقلاب مہدیؑ کا برپا ہونا امت مسلمہ کے ایمان و یقین کا جزلاینفک ہے۔
آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے اپنے صدارتی خطبے میں فلسفہ انتظار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قیامت برپا ہونے سے پہلے کرہ ارض پر اسلام کا غلبہ اور حاکمیت کا وعدہ الٰہی بہرصورت پورا ہوکر رہے گا اور اسی انقلاب کے نقیب حضرت ولی العصرؑ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب دنیا ظلم و باطل سے پُر ہوگی اور مظلومین جہان فکری اور شعوری طور پر کسی نجات دہندہ کیلئے ترس رہے ہوں گے تو امام مہدیؑ ظہور فرمائیں گے۔ امامؑ کا انقلاب ایک فکری انقلاب ہوگا جس کیلئے امت مسلمہ کا فکری طور پر آمادہ ہونا شرط اول ہے۔ اس موقعہ پر آغا حسن نے سری لنکا میں ہوئے خوفناک دہشتگردانہ حملے کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس سانحہ میں ہوئے بھاری جانی نقصان پر افسوس کا اظہا رکیا اور اس حملے کو انسانیت سوز قرار دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲