اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے اس جوابی حملے میں سعودی اتحاد کے کئی فوجی ہلاک و زخمی ہو گئے۔
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے اسی طرح سعودی عرب کے جیزان کے علاقے الخوبه پر بھی حملہ کیا جس کے نتیجے میں سعودی عرب کے آلہ کار 3 سوڈانی فوجی ہلاک ہو گئے۔
شمال یمن کے صوبے جوف میں خب و الشعف کے علاقے میں سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانوں پر میزائل حملہ کر کے خاصا نقصان پہنچایا۔
دوسری جانب یمن کی مسلح افواج نے یمنی ساخت کے بدر ایف نامی اپنے ایک اور نیز جدید قسم کے میزائل کی رونمائی کی ہے۔
یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحیی سریع نے اس خبر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بدر ایف نامی میزائل سے ایک ساتھ کئی اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
یمنی فوج نے اس سے قبل نومبر دو ہزار اٹھارہ میں بدر ون پی قسم کے میزائل کی بھی رونمائی کی تھی۔
یمن کے تمام تر محاصرے کے باوجود اس ملک کی مسلح افواج کی دفاعی توانائی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور یمن کی جنگ کا دائرہ بھی یمن سے جنوبی سعودی عرب تک وسیع ہو چکا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
سعودی اتحاد کی جاری وحشیانہ جارحیت اور محاصرے کے نتیجے میں عالم اسلام کے اس غریب عرب ملک کو غذائی اشیا اور دواؤں کی شدید قلّت کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود سعودی اتحاد یمنی عوام کے خلاف اب تک اپنا کوئی بھی مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
دنیا بھر میں جنس کی بنیاد پر بچوں کا رحم کے اندر ہی اسقاط کرانے سے کم ازکم دو کروڑ تیس لاکھ بچیوں کو اس دنیا میں آنے سے روکا گیا۔
نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کی پروفیسر فینگ چِنگ چاؤ اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ 1970 کے عشرے سے یہ رجحان شروع ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب بھی دنیا کے بعض معاشروں میں لڑکوں کی پیدائش کو لڑکیوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔
عموماً دنیا میں ہر100 لڑکیوں کے مقابلے میں 103 سے 107 لڑکے پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن 12 ممالک میں اس کا تناسب بگڑا ہے جہاں جنس کی بنیاد پر اسقاطِ حمل (ابارشن) کی سہولیات اب بھی موجود ہیں۔
سنگاپور نیشنل یونیورسٹی کے ماہرین نے 1970 سے 2017 کے درمیان 202 ممالک میں جنسی بنیاد پر پیدائش پر تفصیلی تحقیق کرتے ہوئے جدید ترین ماڈلز کو آزمایا ہے۔ ان کے مطابق البانیہ، آرمینیا، آذربائیجان، چین، جارجیا، ہانگ کانگ، ہندوستان، جنوبی کوریا، مونٹی نیگرو، تائیوان، تیونس اور ویت نام میں اس کا رجحان بہت زیادہ دیکھا گیا ہے۔
ماہرین نے یہ دلچسپ بات بھی کہی ہے کہ بعض ممالک میں لڑکیوں کی کمی کے آثار نظر آئے ہیں اور انہوں نے جنس کی بنا پر اسقاط کی حوصلہ شکنی کی ہے۔