اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ریاست کی دینی و فلاحی تنظیم جماعت اسلامی پر قدغن، جماعت کے سینکڑوں اراکین کے ساتھ ساتھ حریت پسند قائدین و کارکنوں کی گرفتاریوں اور انہیں PSA کے تحت پابند سلاسل کرنے کی حکومتی پالیسی کو کھلی آمریت سے تعبیر کرتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان جموں وکشمیر کے سربراہ اور سیئر حریت رہنما حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا کہ انتخابات کی آمد آمد سے پہلے ریاست بالخصوص وادی کشمیر میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرکے سیاسی اور نظریاتی حریفوں کی زبان بندی کا نسخہ آزمایا جارہا ہے۔ مرکزی امام باڑہ بڈگام میں جمعہ اجتماع سے خطاب کے دوران آغا حسن نے کہا کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت کشمیری عوام کے جذبات و خواہشات کا نمایندہ فورم ہے۔ ان قائدین کے نام نوٹس جاری کرنا اور ہراسان کرنے کی حکومتی پالیسی پر کشمیری عوام کا غم و غصہ ایک فطری امر ہے۔ آغا حسن نے کہا کہ سید علی شاہ گیلانی اور میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق کے ساتھ کشمیری عوام کی محبت و عقیدت ایک مسلمہ حقیقت ہے اور قوم ان کے ساتھ روا رکھے جارہے ناروا سلوک پر خاموش نہیں رہ سکتی۔ آغا صاحب نے کہا کہ حریت قیادت کے خلاف مختلف ایجنسیوں کی مہم جوئی سے انہیں اپنے قوم کی خواہشات و جذبات کی ترجمانی سے روکانہیں جاسکتا۔ اس موقعہ پر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے جاری کردہ قرارداد کو پڑھ کر سنایا گیا جس کی پرزور تائید کی گئی۔ آغا حسن نے نیوزی لینڈ کی مساجد میں ہوئے خود کش دہشتگردانہ حملے کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس سانحہ میں جان بحق نمازیوں کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دلدوز سانحات صہیونی ایجنڈے اور اسلام دشمن جذبات و ذہنیت کی کڑیاں ہیں ۔ انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر کی طرف سے مرکزی امام باڑہ بڈگام اور امام باڑہ حسن آباد سرینگر میں جماعت اسلامی پر قدغن ، گرفتاریوں اور ہراسانیوں کے خلاف احتجاج کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲