اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مقتدر عالم دین اور مدرسہ تعلیم الاسلام کے مہتمم مولوی نور محمدترالی کی گرفتاری پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان جموں وکشمیر کے سربراہ اور سینٔر حریت رہنما حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا کہ کشمیریوں کے مطالبہ حق خود ارادیت کو دبانے کیلئے ریاست جموں وکشمیر میں اسلام کے تبلیغ و تشہیر کے مشن کو مسدودکیا جارہا ہے ۔ ریاست میں دینی جماعتوں، تبلیغی و تعلیمی اداروں اور خطیب و ائمہ حضرات کے خلاف بلاجواز مہم جوئی ایک مزموم کڑی ہے۔ آغا حسن نے کہا کہ دینی جماعتوں کے کارکنوں اور مولوی صاحبان کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ دینی و تعلیمی اداروں پر قدغن باالفاظ دیگر اسلام کی تبلیغ و تشہیر کے مشن کو مسدود کرنے کے مترادف ہے جو ریاستی عوام کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی معاملات میں مداخلت کی اس سے بدتر اور کوئی مثال نہیں ہوسکتی۔ دارالعلوم ترال کے مہتمم مولوی نور محمد ترالی کی گرفتاری اور انہیں ہراساں کرنے کا کوئی بھی جواز نہیں۔ موصوف عرصہ دراز سے علاقہ ترال میں تبلیغی اور تعلیمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ موصوف کے دارالعلوم سے ہزاروں طلباء و طالبات مستفید ہورہے ہیں۔ آغا حسن نے کہا کہ دینی جماعتوں پر قدغن، دینی شخصیات کی گرفتاری اور فلاحی اداروں پر قدغن سے عوام کومصائب و پریشانیوں میں مبتلا کیا ہے۔دریں اثنا انجمن شرعی شیعیان جموں وکشمیر نے وادی میں دینی جماعتوں پر قدغن ، گرفتاریوں اور دفعہ 35A کے ساتھ چھیڑخانی کی جاری کوششوں کے خلاف ٹریڈ یونین کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲