14 فروری 2019 - 15:46
کشمیر معروف عالم دین و کالم نویس سید ارشد موسوی کا انتقال پرملال

مرحوم ارشد موسوی کی زندگی کا دوسرا اور قابل ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ایک مبلغ و مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ اردو صحافت میں بھی ایک نام رکھتے تھے۔ وہ وادی کے معروف اردو روزناموں میں بھی اکثر کالم لکھتے تھے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کشمیر کے معروف عالم دین و کالم نویس سید ارشد موسوی بدھوار کو اچانک انتقال کرگئے۔ سید ارشد موسوی کی عمر 48 برس کے لگ بھگ تھی اور وہ بدھوار کے دن اچانک دل کا دورہ آنے کے سبب انتقال کرکئے۔ ارشد موسوی ایک عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین کالم نویس بھی تھے ۔ انہوں نے اپنی تمام عمر قوم اور ملت کی علمی، دینی ،سماجی اور تبلیغی خدمات میں گزاری ۔ ان کی انتقال کی خبر سن کر وادی بھر ان کے ان کے جاننے والوں کے اندر غم کی لہر دوڈ گئی ۔سید ارشد موسوی قاضی پورہ نور کھا، اوڈی میں پیدا ہوئے اور وہیں بنیادی تعلیم حاصل کی۔ بارہوں جماعت پاس کرنے کے بعد انہوں نے اسلامیات کو اختیار کیا اور جامعہ علمیہ امام رضا گنڈ حسی بٹ میں 7سال تک زیر تعلیم رہے اور اس کے بعد ایران میں مزید تعلیم حاصل کی۔ ایران سے فارغ تحصیل ہونے کے بعد انہوں نے یہاں کئی اسلامی انجمنوں کے ساتھ بحیثیت مبلغ و مدرس کام کیا جن میں، تنظیم المکاتب، جامعہ امام رضا، جامعہ باب العلم اور جامعہ امام جعفر صادق وغیرہ قابل ذکر ہیں۔مولانا ارشد موسوی ان دنوں گنڈ حسی بٹ لاوے پورہ سرینگر میں مقیم تھے اور بدھوار کو انہیں اچانک اسٹروک آیا جس کے بعد انہیں صورہ اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔


 مرحوم ارشد موسوی کی زندگی کا دوسرا اور قابل ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ایک مبلغ و مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ اردو صحافت میں بھی ایک نام رکھتے تھے۔ وہ وادی کے معروف اردو روزناموں میں بھی اکثر کالم لکھتے تھے۔ انہوں نے روزنامہ اطلاعات میں کئی سال تک بحثت سب ایڈیٹر کام کیا ہے ۔  ارشد موسوی کے اچانک انتقال پر وادی کے کئی دینی ،سماجی، سیاسی و صحافتی انجمنوں نے گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے اور ان کے انتقال کو ایک قومی نقصان سے تعبیر کیا۔ معروف صحافی اور روزنامہ بلند کشمیر کے مدیر راشد مقبول کا کہنا تھا کہ انہوں نے روزنامہ اطلاعات میں ایک ساتھ کئی سال تک کام کیا ہے ۔ان کا کہنا تھاکہ ''ارشد موسوی ایک مبلغ و مدرس ہو نے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین کالم نویس بھی تھے اور اس دوران وہ مختلف مسائل پر مسلسل لکھتے رہیں اور اس طرح سے قلمی خدمات بھی انجام دیتے رہیں۔ معروف اسکالر الحاج غلام گلزار نے ارشد موسوی کی علمی و قلمی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک روشن فکر انسان تھے اور ان میں اسلامی تعلیم و تبلیغ کا جذبہ کوٹ کوٹ کے بھرا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ارشد موسوی کا اچانک انتقال اس قوم میں ملت کے لئے ایک بڑا صدمہ ہے اور اس طرح ایک قسم کا خلا پیدا ہوگیا ہے جس کو پر کرنا بہت مشکل ہے۔

رپورٹر: ساجد رسول 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲