24 اکتوبر 2018 - 12:10
سعودی عرب کی جانب سےملنے والے 3 ارب ڈالرز ناکافی ہیں، حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانا ہوگا

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا محمد افضل نے سعودی عرب کی جانب ملنے والی 3 ارب ڈالرز کی امداد ناکافی قرار دیتے ہوئے واضح کردیا کہ حکومت کو جلد بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پاس بھی جانا پڑے گا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا محمد افصل سعودی عرب سے ملنے والے 3 ارب ڈالرز سے معاشی بحران حل نہیں ہوسکتا، کیونکہ یہ رقم تو صرف ایک ماہ میں ہی ختم ہوجائے گی۔

مقامی ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے رانا محمد افضل کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت کے پاس کوئی سمت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جس وقت مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی مدت ختم ہوئی تو ملکی معیشت بہت بہتر تھی، مگر اس وقت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے پاس کوئی پالیسی ہی نہیں دکھائی دے رہی۔

لیگی رہنما نے کہا کہ 'ابھی تک تو یہ بھی نہیں معلوم کہ موجودہ حکومت ترقیاتی کاموں کے لیے کیا منصوبہ بندی کر رہی ہے اور یقیناً عوام پھر یہی سوال کریں گے کہ وہ ساڑھے 18 ارب ڈالرز جو ہم چھوڑ کر گئے تھے وہ کہاں گئے؟

رانا افضل کا کہنا تھا کہ حکومت کو ابھی آئی ایم ایف کے پاس بھی جانا ہوگا، کیونکہ جس طرح کے اخراجات ہیں، ان میں ملک کو اس بحران سے نکالنا اور آگے لے کر چلنا بہت مشکل ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ روز پاکستان کی مدد کے لیے 3 ارب ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کیا تھا۔

یہ اعلان وزیر اعظم عمران خان کی سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ریاض میں ملاقاتوں کے بعد کیا گیا جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔

ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے سعودی فرمانروا اور ولی عہد کو پاکستان کو درپیش معاشی بحران اور مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے ملک میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

ملاقات کے بعد وزیر اعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے جس کے تحت پاکستان کو ایک سال کے لیے 3 ارب ڈالرز دیئے جائیں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر اور سعودی وزیر خزانہ عبد اللہ الجدان نے ایم او یو پر دستخط کیے جس کے مطابق سعودی عرب رقم کی ادائیگیوں میں توازن کے لیے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کی امداد دے گا، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ 3 ارب ڈالر کی مؤخر ادائیگیوں پر پاکستان کو تیل بھی فراہم کرے گا۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان گزشتہ روز دو روزہ دورے پر سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ پہنچے تھے، جہاں مدینہ کے گورنر شہزادہ فیصل بن سلمان اور سعودی سفیر نے ان کا استقبال کیا تھا۔

گزشتہ دنوں صحافیوں سے گفتگو کے دوران عمران خان نے کہا تھا کہ ہم سعودی عرب سمیت دیگر دوست ملکوں سے مالی معاونت اور پاکستان میں سرمایہ کاری کی درخواست کریں گے اور ہو سکتا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے۔

البتہ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ چین اور آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج پاکستان کے لیے ناگزیر ہوچکا ہے کیونکہ پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر مسلسل تنزلی کا شکار ہیں اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی بڑھ رہا جبکہ اسٹیٹ بینک کو روپے کی قدر میں کمی کرنا پڑی۔

گزشتہ کئی ہفتوں سے ماہر معاشیات خبردار کر رہے تھے کہ موجودہ خراب صورتحال اور کرنٹ اکاؤنٹ کے بحران کے پیش نظر ملکی روپے کی قدر میں کمی واقع ہوگی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ملک پر چڑھے کھربوں روپے کے قرض کی ادائیگی اور درآمدات کی صلاحیت بھی بری طرح متاثر ہوگی۔

..............

/169